|

سلامتی

کے پی پولیس گاڑیوں کو بُلٹ پروف بنائے گی

ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ "یہ محفوظ گاڑیاں پولیس فورس کی آپریشنل صلاحیت کو مزید بہتر بنائیں گی"۔

سید عنصر عباس


کے پی کے انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین خان محسود (دائیں)  گزشتہ سال 21 دسمبر کو پشاور میں، کے پی پولیس کی سٹی پٹرولنگ فورس کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں۔ ]کے پی پولیس[

کے پی کے انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین خان محسود (دائیں) گزشتہ سال 21 دسمبر کو پشاور میں، کے پی پولیس کی سٹی پٹرولنگ فورس کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں۔ ]کے پی پولیس[

پشاور -- حکام نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ خیبر پختونخواہ (کے پی) پولیس نے فورس کی 454 گاڑیوں کو بُلٹ پروف بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پولیس افسران کو دہشت گردوں کے حملوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔

کے پی پولیس کے ترجمان ضیاء الدین خان نے 22 دسمبر کو پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کے پی پولیس کو اچھے سامان، تربیت اور قیادت کی انتہائی شدید ضرورت تھی۔ ہر گاڑی کو جدید بنانے پر 4 ملین روپے (40,000 ڈالر) کی لاگت آئے گی"۔

گاڑیوں کو جدید بنانے کا فیصلہ، 24 نومبر کو ایڈیشنل انسپکٹر جنرل محمد اشرف نور کی، ان کی گاڑی پر پشاور میں کیے جانے والے خودکش حملے میں ہلاکت کے بعد، دسمبر کے آغاز میں کیا گیا۔

زاہد اللہ نے کہا کہ "کے پی پولیس صوبہ میں انتہائی محنت سے حاصل کیے جانے والے امن کو قائم رکھنے اور مضبوط بنانے کا عزم رکھتی ہے"۔

انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا

کے پی میں اس سال دہشت گردی کے واقعات میں، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے زمانے کے دوران، ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے اور 2016 کے مقابلے میں واقعات میں 51 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ بات کے پی کے انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین خان محسود نے پاکستان فارورڈ کو بتائی۔

انہوں نے کہا کہ "کے پی کی حکومت پولیس کو جدید ترین سامان دینے کا عزم رکھتی ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف ان کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکے۔ جدید ترین سامان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، پولیس زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی"۔

محسود نے کہا کہ "آغاز میں، ایسی ایک بُلٹ پروف گاڑی ہر پولیس اسٹیشن، سب ڈویژنل پولیس افسر، ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) اور ریجنل پولیس افسر (آر پی او) کو فراہم کی جائے گی۔ سینٹرل پولیس آفس میں خدمات انجام دینے والے افسران کو بھی بُلٹ پروف گاڑیاں دی جائیں گی"۔

انہوں نے کہا کہ بُلٹ پروف گاڑیاں جنگ کے علاقوں میں ہلاکتوں کو کم کرنے اور اپنی جانیں خطرے میں ڈالے بغیر، پولیس اہلکاروں کی محفوظ نقل و حرکت میں بہت زیادہ مدد فراہم کریں گی۔

محسود نے کہا کہ "کسی دہشت گردانہ حملے کی صورت میں، ان گاڑیوں کی مدد سے پولیس لڑائی کی جگہ سے پھنسے ہوئے شہریوں کو آسانی سے وہاں سے نکال کر لے جا سکے گی"۔

گاڑیوں کو جدید بنانے کو افسران کی حمایت حاصل

کے پی کے پولیس افسران بُلٹ پروف بنانے کے منصوبے کو سراہتے رہے ہیں۔

چیف کیپیٹل پولیس افسر (سی سی پی او) پشاور طاہر خان نے کے پی حکومت کے اس اقدام کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ "اس ذاتی سیکورٹی اقدام سے پولیس افسران کو گھریلو ساختہ بموں (آئی ای ڈیز) کے حملوں، خودکش دھماکوں اور کسی حد تک ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے، سے بچانے میں بہت زیادہ مدد ملے گی"۔

انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کو بُلٹ پروف بنانے سے ۔۔۔ پولیس افسران "حساس اور پُر خطر علاقوں" میں کسی خوف کے بغیر گشت کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

کے پی پولیس کے بم ڈسپوزل یونٹ کے سربراہ شفقت ملک نے کہا کہ گاڑیوں کو بُلٹ پروف بنانا ایک زبردست فیصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ "یہ محفوظ گاڑیاں پولیس فورس کی آپریشنل صلاحیت کو مزید بہتر بنائیں گی"۔

ملک نے کہا کہ "بُلٹ پروف گاڑیاں حاصل کرنے کے بعد، پولیس اعتماد سے خدمات انجام دے سکتی ہے اور اعتماد سے کامیابی کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ یہ محفوظ گاڑیاں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں مثبت کردار ادا کریں گی"۔

حفاظت کو یقینی بنانا

شعبہ مالیات کے لیے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس، سلیم مروت نے گاڑیوں کو جدید بنانے کے حوالے سے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کے پی حکومت ان اخراجات کو ادا کرنے کے لیے تیار ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ منصوبہ پولیس افسران کی حفاظت کو یقینی بنائے گا"۔

پشاور یونیورسٹی میں شعبہ جرمیات کے چیرمین پروفیسر بشارت حسین نے کہا کہ ہر کسی کی طرح پولیس کو بھی کامیابی کے لیے درست حالات کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اگر ان کی ذاتی حفاظت کو یقینی نہ بنایا جائے تو پولیس افسران ٹھیک طریقے سے خدمات انجام نہیں دے سکتے"۔

حسین نے کہا کہ جو افسران محفوظ محسوس کرتے ہیں وہ زیادہ بہتر کام کریں گے اور اس کے نتیجہ میں عوام کا پولیس پر اعتماد بڑھے گا۔

ایس ایس پی پشاور سجاد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یہ گاڑیاں وقت کی ضرورت ہیں"۔

سجاد نے کہا کہ "پولیس ان گاڑیوں میں خود کو محفوظ محسوس کرے گی اور سرحدی علاقوں تک میں حفاظت سے گشت کر سکے گی۔ بُلٹ پروف گاڑیوں کی مدد سے، پولیس پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچا سکے گی"۔

سجاد نے مزید کہا کہ "زیادہ گاڑیاں زیادہ مثبت نتائج اور کارکردگی دیں گی"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 5

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
ملک جاوید | 01-09-2018

واقعی اچھی اقدام ھے۔

جواب

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج