2018-01-01 | سلامتی

2017: پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف مسلسل کامیابی کا ایک سال

ضیاءالرّحمٰن

مشاہدین کا کہنا ہے کہ سلامتی کی بہتر صورتِ حال کے سا تھ، ملک میں معاشی ترقی رفتار پکڑ رہی ہے۔


18 اکتوبر کو ایک پاکستانی فوجی جنوبی وزیرستان میں افغان سرحد کے ساتھ  نوتعمیر شدہ باڑ کے قریب نگرانی کر رہا ہے۔ پاک فوج کا کہنا ہے کہ نئی باڑ اور سینکڑوں قلعے عسکریت پسندی کو کچلنے میں مددگار ہوں گے۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]
18 اکتوبر کو ایک پاکستانی فوجی جنوبی وزیرستان میں افغان سرحد کے ساتھ نوتعمیر شدہ باڑ کے قریب نگرانی کر رہا ہے۔ پاک فوج کا کہنا ہے کہ نئی باڑ اور سینکڑوں قلعے عسکریت پسندی کو کچلنے میں مددگار ہوں گے۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]
18 اکتوبر کو ایک پاکستانی فوجی جنوبی وزیرستان میں افغان سرحد کے ساتھ نوتعمیر شدہ باڑ کے قریب نگرانی کر رہا ہے۔ پاک فوج کا کہنا ہے کہ نئی باڑ اور سینکڑوں قلعے عسکریت پسندی کو کچلنے میں مددگار ہوں گے۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]

مشاہدین کا کہنا ہے کہ سلامتی کی بہتر صورتِ حال کے سا تھ، ملک میں معاشی ترقی رفتار پکڑ رہی ہے۔

اسلام آباد – مشاہدین کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں دہشتگردی کی بیخ کنی کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان کی جانب سے کیے گئے ٹھوس اقدامات 2017 میں بھی کامیاب ثابت ہو رہے ہیں اور نتیجتاً نئی معاشی ترقی افزوں ہے۔

ایک اسلام آباد اساسی تھنک ٹینک پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹرمحمّد عامر رانا نے کہا کہ 2017 میں دہشتگردی کے سانحات میں 2016 کے مقابلہ میں 18 فیصد کمی واقع ہوئی۔

رانا نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "پاکستان نے دہشتگردی اور شدّت پسندی کے خلاف اپنی جنگ میں جو بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ بنیادی طور پر ملک بھر میں سیکیورٹی اور نفاذِ قانون کی ایجنسیوں کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف شروع کیے گئے وسیع آپریشنز کے مرہونِ منّت ہیں۔"

پاکستان نے 2014 سے اب تک مقامی اور بین الاقوامی، ہر دو عسکریت پسند گروہوں کے نیٹ ورکس کے خاتمہ کے لیے – آپریشن ضربِ عضب اور ردّالفساد—سمیت ملک بھر میں متعدد جارحانہ کاروائیاں کی ہیں۔

رانا نے مزید کہا کہ 2017 میں دہشتگرد حملوں سے ہونے والی اموات میں 11 فیصد کمی آئی ہے۔

حملوں کی نوعیّت عسکریت پسندوں کی کمزوری کی عکّاس ہے

اگرچہ 17 دسمبر کو کوئٹہ میں ایک گرجاگھر پر "دولتِ اسلامیہٴ" (داعش) کا حملہ اور یکم دسمبر کو پشاور میں زرعی تربیتی ادارہ پر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا حملہ ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان میں سیکیورٹی کے شدید خدشات باقی ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اہداف کا انتخاب – سکول اور عبادت گاہیں – ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں عسکریت پسند گروہ اپنی طاقت کھو چکے ہیں۔

بلوچستان کے وزیرِ داخلہ میر سرفراز بگٹی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرسمس سے ایک ہفتہ قبل کوئٹہ میں گرجاگھر میں عبادت کرنے والوں پر داعش کے خود کش حملہ نے اس گروہ کے "آسان اہداف" کو نشانہ بنانے پر انحصار کو ظاہر کیا۔

یکم دسمبر کو پشاور میں ہونے والے حملے کو شامل کرنے کے باوجود، 2000 سے اب تک ہزاروں پاکستانیوں کے قتل کا ذمّہ دار گروہ حالیہ برسوں میں کئی گنا کم فعال ہو گیا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان میں ان کی کمین گاہوں کے خاتمہ کے بعد متعدد ٹی ٹی پی رہنما اور کمانڈر مارے گئے ہیں یا گرفتار کر لیے گئے ہیں، جبکہ دیگر افغانستان کے قریب سرحدی علاقوں کی جانب فرار ہو گئے ہیں۔

وفاقی وزیر برئے مذہبی امور و رواداری بین المذاہب سردار محمّد یوسف نے کہا کہ بنیادی طور انسدادِ دہشتگردی کے لیے حکومت کی غیر لچکدار پالیسیوں کی وجہ سے خیبر سے کراچی تک دہشتگردانہ اقدامات کے واقعات میں کمی آئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تازہ ترین اعدادوشمار حکومت کے لیے حوصلہ افزا ہیں اور حکام دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے میں پر عزم ہیں۔

یوسف نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "قرقہ ورانہ فسادات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔"

سیکیورٹی کامیابیوں سے معاشی ترقی میں تیزی

پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار واپس آنے لگے ہیں۔

بینک دولت پاکستان کی 15 نومبر کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے 2017 کی تیسری سہماہی میں، 2016 کے اسی عرصہ کے 539 ملین امریکی ڈالر (59.6 بلین روپے) کے مقابلہ میں، براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی مد میں 940 ملین امریکی ڈالر (104 بلین روپے) وصول کیے – 74 فیصد اضافہ۔

پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرنے والے، سمندر پار سرمایہ کاروں کے ایوانِ صنعت و تجارت (او آئی سی سی آئی) کے صدر، شہاب رضوی نے کہا، "پاکستان بھر، بطورِ خاص کراچی میں عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کامیاب سیکیورٹی آپریشنز نے غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔"

او آئی سی سی آئی نے گزشتہ موسمِ گرما میں 2013 میں پاکستان کی جانب سے سیکیورٹی آپریشنز کے آغاز سے اب تک ملک میں سلامتی کی صورتِ حال سے متعلق غیر ملکی سرمایہ کاروں کے تصور کا اندازہ لگانے کے لیے ایک سروے کیا۔

رضوی نے کہا کہ سروے کے تقریباً 90 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ اگست 2013 کے بعد سے پاکستان میں کاروباروں کو درپیش عمومی خدشات کم ہوئے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 7

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے

bilal khan | 01-07-2018

پاک فوج زندہ باد

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج