|

صحت

آگاہی مہم پاکستانی ڈرائیوروں کو بتاتی ہے کہ 'ایمبولنس کو راستہ دیں'

صلیبِ احمر کی بین الاقوامی کمیٹی کی زیرِ کفالت، ملک گیر مہم اس سال کے آخر تک چلے گی۔

از جاوید خان


وفاقی وزیر برائے قوانین و تعاون قومی صحت خدمات سائرہ افضل تارڑ (درمیان میں) اکتوبر میں اسلام آباد میں "ایمبولنسوں کو راستہ دیں" مہم کی ایک تقریب کے دوران تقریب میں شریک ایک شخص کو ایوارڈ دیتے ہوئے۔ [صلیبِ احمر کی بین الاقوامی کمیٹی]

وفاقی وزیر برائے قوانین و تعاون قومی صحت خدمات سائرہ افضل تارڑ (درمیان میں) اکتوبر میں اسلام آباد میں "ایمبولنسوں کو راستہ دیں" مہم کی ایک تقریب کے دوران تقریب میں شریک ایک شخص کو ایوارڈ دیتے ہوئے۔ [صلیبِ احمر کی بین الاقوامی کمیٹی]

پشاور – آگاہی کی ایک ملک گیر مہم پاکستانیوں کو ایمبولنسوں کو "راستہ دینے" کے بارے میں بتاتے ہوئے جانیں بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

"پہلے زندگی: ایمبولنسوں کو راستہ دیں – زندگی کو راستہ دیں" مہم کا آغاز اکتوبر میں صلیبِ احمر کی بین الاقوامی کمیٹی (آئی سی آر سی) اور 30 سے زائد سرکاری اور غیر سرکاری شراکت داروں کی جانب سے پورے پاکستان میں کیا گیا تھا۔

مہم کا مقصد ڈرائیوروں کو اس بارے میں تعلیم دینا ہے کہ مریضوں کو تیزی سے ہسپتال لے جانے والی ایمبولنسوں کے راستے سے ہٹتے ہوئے کیسے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا ہے۔ مہم کا دسمبر کے آخر تک اختتام پذیر ہونا طے ہے۔

مہم کا آغاز کرنے کے لیے اسلام آباد میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران وفاقی وزیر برائے قوانین و تعاون قومی صحت خدمات سائرہ افضل تارڑ نے کہا، "ایمبولنس محض ایک گاڑی نہیں ہے، بلکہ زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا ایک زندگی کی علامت [بھی] ہے، اور یہ یقینی بنانا ہمارا فرض ہے کہ یہ فوری علاج حاصل کرنے کے لیے بنا کسی تاخیر کے ہسپتال پہنچ جائے۔"

ایک کثیر پہلو کوشش

آگاہی کی مہم نے خود کو کئی طریقوں سے منظم کیا ہے۔

پورے پشاور میں نوجوان رضاکار اس پیغام کے ساتھ کہ "ایمبولنس کو راستہ دیں" پمفلٹ اور اسٹکرز ڈرائیوروں میں تقیسم کر رہے ہیں۔

عوام الناس میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے پورے پاکستان میں بہت سے سیمینار، مباحثے اور کانفرنسیں بھی منعقد ہو چکے ہیں۔

پشاور میں ایک عوامی سواری کے ڈرائیور ایوب شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم ان رضاکاروں اور تنظیموں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو ڈرائیوروں کو اس بارے میں تعلیم دے رہے ہیں کہ جب آپ سڑک پر ہوں تو ایک ایمبولنس کو راستہ دیتے ہوئے ایک زندگی کو بچانا کتنا اہم ہے۔"

انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ پیغام دیگر ڈرائیوروں میں پھیلایا ہے۔ شاہ نے کہا، "بہت سے ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں مریضوں کی اموات ہوئی ہیں ۔۔۔ کیونکہ وہ بروقت ہپستال نہیں پہنچ سکے تھے۔"

بہت سی عوامی شخصیات – بشمول کھلاڑیوں، اداکاروں، گلوکاروں، صحافیوں، وکلاء اور سیاستدانوں – نے اس کے علاوہ ایمبولنسوں کو راستہ دیں مہم کی حمایت کرتے ہوئے عوام کو پیغامات دیئے ہیں۔

ایمرجنسی محکموں کی شمولیت

خیبرپختونخوا اور پنجاب میں ریسکیو 1122 محکمہ آئی سی آر سی کے بڑے شریکِ کار ہیں۔

پشاور میں محکمے کے ترجمان، بلال احمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ڈرائیور اور عوام ایمبولنسوں کو راستہ دے کر زندگیاں بچانے میں مدد کر سکتے ہیں تاکہ گاڑیاں [ہنگامی حالات میں تیز رفتاری سے جا سکیں] اور [ممکنہ طور پر] مرتے ہوئے مریض کو فوری طور پر بروقت ہسپتال پہنچا سکیں۔"

انہوں نے کہا کہ ایمبولنس ڈرائیور اور نیم پیشہ ور عملہ بہادری سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، بشمول ان لوگوں کو بچانا جو دہشت گرد حملوں میں زخمی ہوتے ہیں۔ وہ "ایک زخمی شخص کی زندگی بچانے کے لیے اپنی جانیں داؤ پر لگا دیتے ہیں۔"

ٹریفک پولیس مہم میں مدد کر رہی ہے

پشاور میں پولیس کے ایک ٹریفک سپرنٹنڈنٹ، ریاض احمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم پورے ملک میں چلائی جانے والی آگاہی کی مہم میں ہاتھ بٹا رہے ہیں تاکہ ڈرائیوروں اور دیگر عوام الناس کو تعلیم دیں کہ ایک ایمبولنس کو راستہ دینا ایک انسانی جان بچا سکتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ٹریفک سارجنٹوں کی ترجیح ہمیشہ یہی ہوتی ہے کہ ٹریفک جام میں پھنسی ایمبولنسوں کو راستہ دیں تاکہ ایسے مریض جنہیں ہنگامی علاج کی ضرورت ہے وہ بروقت ہسپتال پہنچ سکیں۔

انہوں نے کہا، "ایک ڈرائیور کی ایک چھوٹی سی غلطی کا نتیجہ ایک ایمبولنس میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کسی کی موت کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ انسانی جانیں بچانے کے لیے پیچھے سے آنے والی ان گاڑیوں کو راستہ دینے کے لیے ایک ڈرائیور کو لازماً اپنی بائیں طرف ہو جانا چاہیئے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

Saeed Ullah | 12-30-2017

یہ عوام میں آگاہی پیدا کرنے کا بہتر طریقہ ہے۔ میں اس کی پذیرائی کرتا ہوں اور اس مہم میں شریک ہونا چاہتا ہوں۔


انتخاب

کیا آپ کو روس کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پر تشویش ہے؟

نتائج