|

دہشتگردی

مشرقِ وسطیٰ میں داعش کی ‘خلافت’ کے سقوط نے دیگر مقامات پر اس گروہ کے خاتمے کو تیز کر دیا

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عراق اور شام میں داعش کی شکست افغانستان، پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ – جہاں سیکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کے نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں – میں اس گروہ کے خاتمہ کی موجب ہو گی۔

کاروان سرائے


اپریل میں امریکی پشت پناہی رکھنے والی افواجِ جمہوریہٴ شام (ایس ڈی ایف) کی داعش کے سابق دارالخلافہ، الراقعہ کی جانب پیش قدمی سے قبل ایس ڈی ایف کا ایک رکن طبقہ، شام میں داعش کا پرچم اتار رہا ہے۔ [دیلِل سلیمان/اے ایف پی]

اپریل میں امریکی پشت پناہی رکھنے والی افواجِ جمہوریہٴ شام (ایس ڈی ایف) کی داعش کے سابق دارالخلافہ، الراقعہ کی جانب پیش قدمی سے قبل ایس ڈی ایف کا ایک رکن طبقہ، شام میں داعش کا پرچم اتار رہا ہے۔ [دیلِل سلیمان/اے ایف پی]

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں "دولتِ اسلامیہٴ" (داعش) کی خود ساختہ "خلافت" کے انتشار کے بعد افغانستان، پاکستان، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر مقامات پر اس گروہ کی حمایت ٹوٹ رہی ہے۔

داعش نے 2014 میں عراق اور شام میں وسیع علاقہ اپنے زیرِ انتظام کرنے کے بعد اپنی قلیل المعیاد خلافت کا اعلان کیا تھا۔

تاہم کمر توڑ نقصانات کے ایک سلسلہ کے بعد اس کے جنگجووٴں کے گروہ ہی شام میں باقی رہ گئے ہیں ، جو معدودے چند علاقہٴ عملداری پر غیر موٴثر حملے یا قبضہ کرتے ہیں جہاں وہ مکمل طور پر محصور ہو چکے ہیں۔

داعش پر فتح

10 دسمبر کو عراقی وزیرِ اعظم حیدر الابادی نے داعش پر فتح کا اعلان کیا۔

انہوں نے ٹیلی ویژن پر نشر کیے جانے والے ایک خطاب میں کہا، "عراق-شام سرحد پر ہماری افواج کی مکمل عملداری ہے، لہٰذا میں داعش کے خلاف جنگ کے خاتمہ کا اعلان کرتا ہوں۔ ہمارا دشمن ہماری تہذیب کا قتل کرنا چاہتا تھا، لیکن ہم نے اپنے اتحاد اورعزم سے فتح حاصل کی۔"

مشاہدین کا کہنا ہے کہ شام میں بھی یہ گروہ اسی مقدّر کی جانب گامزن ہے۔

ایک برطانوی اساسی نگران گروہ، سیریئن ابزرویٹری فار ہیومن رائیٹس کے سربراہ شامی عبدالرّحمٰن نے کہا اب داعش نہایت بے قیادت ہو چکا ہے اور اس کے بچے کھچے یونٹ اپنی بقاء کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

"خانہ جنگی کے آغاز سے شام میں تنازعہ پر نظر رکھنے والے رحمان نے کہا، " اب کوئی مرکزی کمان احکام جاری نہیں کر رہی.انہوں نے کہا کہ داعش صرف شام میں بکھرے چھوٹے گروہوں کی صورت میں باقی رہ گئی ہے۔

عراق اور شام میں داعش کی "خلافت" کے سقوط کے بعد تجزیہ کار اپنی توجہ اس امر پر منتقل کر رہے ہیں کہ یہ صورتِ حال دنیا کے دیگر حصّوں میں داعش کے مستقبل کے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔

أفغان حکام کا داعش کے پسماندگان کو تباہ کرنے کا عزم

ممکن ہے کہ عراق اور شام میں اس دہشتگرد گروہ کی شکست أفغانستان کے لیے، جہاں افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورسز (اے این ڈی ایس ایف) اور اتحادی أفواج سرگرمی کے ساتھ داعش کی خراسان شاخ کے خلاف لڑ رہے ہیں، أفغان سرزمین میں جنگجووٴں کے داخلہ کی علامت ثابت ہو۔

جلال آباد، صوبہ ننگرہار میں عسکری أمور کے ایک تجزیہ کار کرنل (ریٹائرڈ) محمّد أنور سلطانی نے کہا، "عراق اور شام میں داعش کو شکست کے آغاز کے بعد اس کی أفغانستان منتقلی سے متعلق کافی خدشات ہیں۔"

رواں ماہ کے اوائل میں اے ایف پی نے خبر دی کہ فرانسیسی اور الجیرین جنگجو، جن میں سے چند شام سے آئے تھے، صوبہ جاوزان میں داعش میں شامل ہو گئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ غیر ملکی جنگجو شام اور عراق سے نکالے جانے کے بعد افغانستان کا رخ کریں۔

تاہم، اے این ڈی ایس ایف اور اتحادی آپریشنز نے گزشتہ دو برس میں داعش کی صلاحیّتوں میں نہایت کمی کی ہے، جس کی وجہ سے سیکیورٹی فورسز نئے عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے خوب قدم جمائے ہوئے ہیں۔

سلطانی نے کہا، داعش شورشی افغانستان میں اپنی آخری سانسوں پر ہیں اب ان کے عراق یا شام میں روابط نہیں ہیں اور بین الاقوامی برادری نے ان کے ذرائع مالیات تباہ کر دیے ہیں یا روک دیے ہیں۔

انہوں نے کہا، "اب داعش میں پہلی سی استعداد نہیں رہی کیوں کہ امریکہ، بین الاقوامی برادری اور افغانستان نے اس گروہ کے خلاف ایک خوب جنگ لڑی۔"

انہوں نے کہا کہ اب کنڑ اور ننگرہار صوبوں کے باشندے داعش سے نہیں ڈرتے، "کیوں کہ اس کی موجودگی محدود ہو گئی ہے اور اس کے خلاف ایک بین الاقوامی مہم چل رہی ہے۔"

پاکستان میں داعش کے اتحادی گروہوں کی حمایت میں کمی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ داعش کی "خلافت" کا سقوط پاکستان میں اس گروہ کے حامیوں کے تذبذب کا باعث بنے گا۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک عسکری و دفاعی تجزیہ کار لفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود نے کہا، "عراق اور شام میں داعش کی شکست پاکستان میں اس کے حامیوں کے لیے ایک شدید دھچکہ ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ایسے حامی "معاشی اور مادی بقا کے لیے" داعش سے مدد طلب کرتے تھے، لیکن عراق اور شام میں اس گروہ کی شکست کا مطلب ہے کہ "انہیں داعش کی جانب سے کوئی مزید مالی یا مادی معاونت موصول نہیں ہو گی۔"

مسعود نے کہا، "اس خطے میں بھی داعش کا ڈھانچہ گر جائے گا۔"

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر صحافی اور سیکیورٹی تجزیہ کارعقیل یوسفزئی نے کہا، "عراق اور شام میں شکست بالآخر پاکستان-افغانستان خطے میں داعش کے سقوط کی واضح علامت ہے۔"

انہوں نے کہا، "تحریکِ طالبان پاکستان [ٹی ٹی پی] کے چند دیگر حامی اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے ارکان جنہوں نے [داعش رہنما ابوبکر] البغدادی کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا تھا، [داعش کی مزید حمایت نہیں کریں گے] کیوں کہ ان کی اس کا اس کے ساتھ کوئی نظریاتی الحاق نہیں تھا اور انہوں نے اپنے ذاتی مفادات اور ضروریات کے پیشِ نظر اس کی حمایت کی تھی۔"

انہوں نے کہا، "اگر پاکستان اور افغانستان مشترکہ دشمن کو کچلنے کے لیے ہاتھ ملا لیں تو داعش کے ان چند باقی ماندہ حامیوں کو [دونوں ممالک میں] ایک مزید دھچکہ [پہنچے گا]۔"

فاٹا کے سابق سیکریٹری سیکیورٹی، پشاور سے تعلق رکھنے والے برگیڈیئر (ریٹائرڈ) مسعود شاہ نے کہا کہ پاکستان قبل ازاں مالاکنڈ ڈویژن، خیبر پختونخوا، اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں دہشتگردی کو شکست دینے میں کامیاب رہا ہے۔

"انہوں نے کہا، "اس لیے عراق اور شام میں ان کی شکست کے اعلان کے بعد [پاکستان اور افغانستان میں] داعش کے باقی ماندگان کو شکست ہونا یقینی ہے۔

داعش کے لوٹنے والے جنگجووٴں کی وجہ سے وسط ایشیا میں خدشات کا اضافہ

درایں اثناء، وسط ایشیا میں بنیادی مسئلہ ان شہریوں کی ممکنہ واپسی ہے جو شام اور عراق میں داعش کے ہمراہ لڑنے کے لیے گئے تھے۔

المتے میں انجمنِ مسلمانان کے سربراہ، مراد تیلیبیکوف نے کہا کہ شام اور عراق میں داعش کی شکست "کا اثر بلا شبہ وسط ایشیا پر ہو گا۔"

انہوں نے کہا، "بہت حد تک ممکن ہے کہ اس وقت عسکریت پسند کسی اور جائے سکونت کی تلاش میں ہوں، یہ امر ناممکن نہیں کہ وسط ایشیا ہی ایک ایسا مقام بن جائے۔"

بشکیک میں قانون کے ایک پروفیسر اور سنٹرل الیکشن کمیشن آف قرغیزستان کے ایک رکن کیریات عثمان علیژیو نے کہا، "آپ کے پاس عدم استحکام کا کوئی کمزور مقام ہے جو بنیاد پرستوں کے لیے جائے تولید اور پناہ گاہ بن جائے تو یہ بہت برا ہے۔ اس کمزور مقام کو ختم کرنے کےبعد آپ کو یہ خدشہ ہوتا ہے کہ باقی ماندہ [عسکریت پسند] کسی اور مقام پر اپنا کام شروع کر دیں۔"

انہوں نے کہا، "[شام میں لڑنے والے] وسط ایشیائی شہری ترکی اور افغانستان کے راستے وطن واپس آ سکتے ہیں۔ ہماری سیکیورٹی ایجنسیوں کے پاس پہلے ہی شواہد ہیں کہ وہ داخل ہو رہے ہیں۔"

المتے سے تعلق رکھنے والے ایک سیاسی تجزیہ کار طلعت اسماگامبیتوف نے داعش کے باقی ماندہ جنگجووٴں سے متعلق پوچھا، "وہ کہاں جائیں گے؟"

انہوں نے مزید کہا، "افغانستان یا کہیں اور، یا وہ وطن واپس جائیں گے؟ انہیں باقی ماندہ [عسکری] قیادت سے کس قسم کی داخلی [ہدایات] ملیں گی؟ ان کی خارجی حمایت کس قدر مستحکم ہے؟"

اسماگامبیتوف نے کہا، "برا رخ یہ ہے کہ چند عسکریت پسند لوٹ آئیں گے۔ ان پر نظر رکھنی ہو گی۔ لیکن اچھی خبر بھی ہے۔ تاحال، ہمارا خطہ اسلامسٹ نیشنل موومنٹ کا مرکزِ توجہ نہیں ہے۔"

[ننگرہار سے خالد زیرائی، پشاور سے محمّد اہِل، اور بشکیک اور المتے سے ارمان کالیژیو نے رپورٹنگ میں حصہ لیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 7

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

علی اصغر | 12-29-2017

واقعی داعش کا خاتمہ ھو چکا ھے ۔میرے ایک دوست اس وقت پاکستان سے عراق گئے ہیں اور وہیں موجود ہیں، انہوں نے بتایا کہ امن و امان ھی نظر آرھا ھے سب کہیں


انتخاب

افغانستان میں طالبان کے ممکنہ امن مذاکرات میں پاکستان کو کیا کردار ادا کرنا چاہیئے؟

نتائج