|

معیشت

سیکورٹی میں بہتری کے بعد کے پی کے بینکوں میں اعتماد کی بحالی

خیبر پختونخواہ میں کمرشل بینک زیادہ قرضے دے رہے ہیں اور مقامی کاروباری افراد کی مدد کے لیے کام کر رہے ہیں۔

عدیل سید


سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) کے صدر زاہد شینواری (دائیں سے دوسرے)، 24 نومبر کو پشاور میں کے پی کے تاجروں اور بینکاروں کے ساتھ ملاقات میں تقریر کر رہے ہیں۔ ]سی ایس ایس آئی[

سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) کے صدر زاہد شینواری (دائیں سے دوسرے)، 24 نومبر کو پشاور میں کے پی کے تاجروں اور بینکاروں کے ساتھ ملاقات میں تقریر کر رہے ہیں۔ ]سی ایس ایس آئی[

پشاور -- خیبر پختونخواہ (کے پی) میں سیکورٹی کی کافی زیادہ بہتر ہو جانے والی صورتِ حال نے کمرشل بینکوں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں اس شورش زدہ صوبہ میں قرضوں کی فراہمی میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک دیہائی طویل دہشت گردی کی لہر نے بینکوں کو کے پی کے تاجروں کو قرضے فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رکھا ہے۔

تاہم، بینکاروں کا کہنا ہے کہ معمول کے حالات کی واپسی اور دہشت گردی کے واقعات کی تعداد میں کمی کے باعث، کمرشل بینک اب کے پی کو "ریڈ زون" کے طور پر نہیں دیکھتے ہیں۔

مسلم کمرشل بینک (ایم سی بی) کے ریٹیل بینکنگ نارتھ کے سربراہ زرغمال خان درانی نے کہا کہ بینکوں نے کے پی کے صارفین کو قرضے دینے پر لگایا جانے والا غیر رسمی میمورنڈم ختم کر دیا ہے، جو کہ 2009 میں لگایا گیا تھا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "2009 میں عسکریت پسندی کے اپنی شدت پر ہونے باعث کے پی میں بہت افراتفری کی صورتِ حال تھی اور خطرے کے عنصر نے بینکوں کو تاجروں کو قرضے دینے سے روکے رکھا"۔

انہوں نے کہا کہ مگر امن و امان کی صورتِ حال میں واضح بہتری آنے کے باعث، ایم سی بی اب قرضوں کی درخواستوں پرغور کرتے ہوئے بہت کم ہچکچاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے، کے پی کے کاروباروں کو مکمل طور پر سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

قرضوں، نقد پیشگیوں میں اضافہ

درانی نے کہا کہ ایم سی بی پیشگیوں کی صورت میں 10 بلین روپے (100 ملین ڈالر) فراہم کر رہا ہے جو کہ علاقے سے بینک میں جمع کروائی جانے والی رقم سے زیادہ بڑی رقم ہے۔

پیشگی ایسی رقم ہوتی ہے جو بینک کاروباری افراد کو ورکنگ کیپیٹل کی شرط کو پورا کرنے کے لیے دیتا ہے اور اسے ایک سال کے اندر واپس کرنا ہوتا ہے۔

این بی پی کے ایگزیکٹیو وائس پریزیڈنٹ خرم سید نیک نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) نے حال ہی میں کے پی میں 1 بلین روپوں (10 ملین ڈالر) کے قریب پیشگیوں کی منظوری دی ہے جب کہ تقریبا 20 بلین روپوں (200 ملین ڈالر) کے قرضے اس وقت پائپ لائن میں ہیں"۔

نیک نے کہا کہ پیشگی کی درخواستوں پر غور کرنے کے عمل کو باسہولت بنانے کے لیے این بی پی کے ایگزیکٹیوز نے علاقائی سربراہوں کو اپنی صوابدید پر فیصلے کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ دستاویزات پر جلد از جلد غور کیا جا سکے"۔

سونیری بینک کے علاقائی منیجر فاروق زمان نے کہا کہ ان کی کمپنی "کے پی کے کاروباری افراد کو مکمل طور پر سہولیات فراہم کر رہی ہے اور وہ علاقے کو "ریڈ زون" تصور نہیں کرتی ہے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہمارا بینک کے پی میں اپنی شاخیں بڑھا رہا ہے اور حال ہی میں ہم نے صوابی اور مردان کے اضلاع میں اپنے دفاتر کھولے ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ بینک کی پالیسی سارے ملک میں صارفین کو ایک جیسی سہولیات فراہم کرنے کی ہے۔

کاروباروں، معاشی ترقی کی تسہیل

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے راولپنڈی دفتر کے چیف منیجر اسد شاہ نے کہا کہ کے پی کی معیشت کو کے پی کے "پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں فرنٹ لائن صوبہ" ہونے کے باعث نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

شاہ نے یہ تبصرہ 24 نومبر کو ایس بی پی کی مقامی کریڈٹ ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں کیا جو کہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (سی ایس ایس آئی) پشاور میں منعقد ہوئی۔

بہت سے کمرشل بینکوں کے سی ای اوز سے خطاب کرتے ہوئے شاہ نے زور دیا کہ کے پی میں صورتِ حال بہتر ہو گئی ہے اور مالیاتی اداروں کو صوبے کی کاروباری برادری کو تسہیل فراہم کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ "خوف کا تصور اب ختم ہو چکا ہے اور اب عمومی طور پر ملک کی اور خصوصی طور پر کے پی کی ترقی میں حصہ ڈالنے کا وقت آ گیا ہے

متعلقین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بینک کے پی کی معیشت میں زیادہ سرمایہ ڈال رہے ہیں مگر کچھ پالیسیوں کو جدید بنانے کی ضرورت ہے۔

ایس سی سی آئی کے صدر زاہد شینواری نے 24 نومبر کی میٹنگ کے دوران کہا کہ "کے پی میں امن و امان کی بری صورت حال کے باعث کمرشل بینکوں کی طرف سے قرضے دینے کی اپنائی جانے والی پالیسی نے صوبے کی صنعتی ترقی کو نقصان پہنچایا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی اور زرعی شعبوں اور کے پی کے چھوٹے اور درمیانے سائز کے کاروباروں کو بینکوں سے قرض حاصل کرنے میں ناکامی کے باعث نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

شینواری کے مطابق، کے پی میں ایڈوانس ٹو ڈپازٹ شرح بہت کم ہے جس کا مطلب ہے کہ بینک زیادہ رقم جمع کرتے ہیں مگر اس کے مقابلے میں کم رقم کے قرضے دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "کے پی میں صورتِ حال بہتر ہو رہی ہے۔ امن کی بحالی کے باعث ہمیں مثبت اقتصادی اشارے ملے ہیں اور اب یہ بینکوں پر ہے کہ وہ کارباری افراد کی تسہیل سے صوبے کی ترقی میں کردار ادا کریں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

افغانستان میں طالبان کے ممکنہ امن مذاکرات میں پاکستان کو کیا کردار ادا کرنا چاہیئے؟

نتائج