|

سلامتی

حیاتِ نو پانے والے پاک افغان دفاعی آپریشن کی عسکریت پسندوں پر کاری ضرب

اہم دہشت گرد رہنماؤں کی حالیہ ہلاکت نے سرحد کے ساتھ ساتھ عسکریت پسندوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔

از محمد آحل


18 اکتوبر 2017 کو پاکستان کی جنوبی وزیرستان قبائلی ایجنسی میں انگور اڈہ سے ملحقہ افغان صوبے پکتیکا کی سرحد کے ساتھ ساتھ نصب کردہ ایک نئی باڑ کے قریب پاکستانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر گشت کرتے ہوئے۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]

18 اکتوبر 2017 کو پاکستان کی جنوبی وزیرستان قبائلی ایجنسی میں انگور اڈہ سے ملحقہ افغان صوبے پکتیکا کی سرحد کے ساتھ ساتھ نصب کردہ ایک نئی باڑ کے قریب پاکستانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر گشت کرتے ہوئے۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]

پشاور -- دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد کے دونوں جانب بڑھتا ہوا عسکری دباؤ عسکریت پسندوں کو دو مرکزی اختیار دے رہا ہے -- ہتھیار ڈال دیں یا فضائی حملوں میں مارے جائیں۔

پاکستانی، افغانی اور اتحادی فوجوں کے مابین تجدید کردہ دفاعی تعاون نے حالیہ مہینوں میں بہت سے اہم عسکریت پسند کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے، جبکہ دیگر کو اپنے آپ کو حکام کے حوالے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

بول ٹی وی نے بتایا کہ ایک تازہ ترین مثال میں، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک دھڑے جماعت الاحرار (جے اے) کے دو بڑے کمانڈروں نے، بدھ (13 دسمبر) کو پاکستانی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔

جنگجو کمانڈر علی شاہ، عرف عمر مختار، اور اسلام عرف حضرت بلال طویل عرصے سے افغانستان میں روپوش تھے۔ دونوں پشاور پہنچے اور خود کو حکومت کے حوالے کر دیا۔

فضائی حملے دہشت گردوں کو باہر نکال رہے ہیں

بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کی وجہ سے ممکن ہونے والے سرحد کے دونوں جانب فضائی حملوں نے ٹی ٹی پی اور اس کے دھڑوں پر کاری ضرب لگائی ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ تقریباً 70 میزائل اور فضائی حملوں میں گروہوں کے 35 سے زائد جنگجو کمانڈر مارے گئے جو افغانستان کے صوبوں پکتیا، خوست اور پکتیکا میں روپوش تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند سرکاری ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے اہم کمانڈروں کی اموات کی تواتر سے تردیدیں کرتے رہے ہیں۔

اب جبکہ انہوں نے کچھ کمانڈروں کی ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے اور حتیٰ کہ ایک سابق ترجمان کو ہتھیار ڈالتے ہوئے بھی دیکھا ہے، کچھ تجزیہ کار ان کے رویئے میں تبدیلی کو اعترافِ شکست کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

مثال کے طور پر، ٹی ٹی پی نے 18 اکتوبر کو خلیفہ عمر منصور، عرف عمر نارے، جو کہ دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) میں ہونے والے قتلِ عام کا منصوبہ ساز تھا، کی جولائی 2016 میں افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ایک فضائی حملے میں ہلاکت کی تصدیق کی۔

یہ اعلان اسی روز صوبہ پکتیا میں ایک فضائی حملے کے ساتھ ہی کیا گیا جس میں جماعت الاحرار کا سربراہ عمر خالد خراسانی، جو کہ عبدالولی کے نام سے بھی معروف تھا شدید زخمی ہو گیا، جس سے دہشت گرد گروہ کو سخت دھچکا لگا۔

جماعت الاحرار پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں خونریز حملوں کے سلسلے میں ملوث رہی ہے۔

جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور نے 19 اکتوبر کو پاکستان فارورڈ کو بذریعہ ٹیلی فون تصدیق کی تھی کہ خراسانی پاکستان کی کرم ایجنسی کے قریب، افغانستان کے صوبہ پکتیا میں خوش حرام علاقے میں ایک فضائی حملے میں زخمی ہو گیا تھا۔ وہ زخموں سے جانبر نہ ہو سکا اور اپنے نو قریبی ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا۔

پہلے ایک بیان میں ترجمان نے جماعت الاحرار کے اہم کمانڈروں قاری شکیل، مولانا صالح، عزیز اللہ (عرف زرقاوی)، شاہد، مولانا شاہ خالد، مولانا خالد سیف اللہ اور دیگر بہت سوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

دریں اثناء، ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان لیاقت علی، عرف احسان اللہ احسان، نے پچھلے موسمِ بہار میں سرحد پار کی اور خود کو پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا تھا۔

26 اپریل کو ایک اذیت ناک اعترافی بیان میں، احسان نے ان جنگجو کمانڈروں سے نفرت کا اظہار کیا تھا جنہوں نے اسلام کو مسخ کیا اور نوجوانوں کو گمراہ کن پراپیگنڈے کے ذریعے، بے گناہوں کو قتل کیا اور پاکستان کو غیر مستحکم کیا۔

ٹی ٹی پی کا ایک اور اہم کمانڈر، مقبول داور، 29 اکتوبر کو افغانستان کے صوبہ خوست میں اتحادی فوج کے ایک فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔ اس کا بھائی مراد علی اور دو دیگر ساتھی بھی مارے گئے تھے۔ ٹی ٹی پی نے اس کی موت کی تصدیق کی تھی اور مارے جانے والے کمانڈروں کی تصاویر جاری کی تھیں۔

فضائی حملوں نے جماعت الاحرار کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، اور اسے مجبور کر دیا کہ وہ ایک نسبتاً غیر معروف کمانڈر، اسد آفریدی کو اپنا نیا سربراہ تعینات کرے۔ تجزیہ کار اس نئی تعیناتی کو ایک نشاندہی کے طور پر دیکھتے ہں کہ گروہ لگ بھگ اپنے تمام بانی ارکان اور اہم رہنماؤں سے محروم ہو چکا ہے۔

ایک پیغام دینا

اسلام آباد میں پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر، محمد عامر رانا نے کہا کہ سرحد کے دونوں جانب دہشت گرد حلقوں کو توڑنے کے لیے کارروائیوں میں اہم جنگجو کمانڈروں کی ہلاکت پاکستان اور افغانستان میں اتحادی شراکت داروں کی جانب سے تجدیدی کوششوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "تعاون ظاہر کرتا ہے کہ تمام فریقین مل کر کام کرنے اور باقی ماندہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو جڑوں سے اکھاڑنے کے متعلق تاثر کو ختم کرنے کے متعلق سنجیدہ ہیں۔"

انہوں نے کہا، "تاوقتیکہ وہ [پاکستان-افغانستان کی] سرحد کے ساتھ ساتھ پناہ گاہیں رکھنے والے دہشت گردوں کے خلاف مل کر [کام ] کریں، مسائل غالب رہیں گے اور [ایک خطرہ] ہمیشہ موجود رہے گا، اس لیے نئے اقدامات بار آور ثابت ہوں گے۔"

صحافی اور قبائلی امور کے ماہر عقیل یوسفزئی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پاکستان کو مطلوب اہم جنگجو کمانڈروں کی موت ایک بہت واضح پیغام ہے کہ تعاون اپنی انتہا کو پہنچ گیا ہے اور [دوطرفہ ہے]۔"

انہوں نے کہا، "شمالی وزیرستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ اور خیبر ایجنسی میں وادیٔ راجگال [کی صفائی] پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے خطرناک دہشت گردوں کا شکار کرنے میں ایک بڑی کامیابی ہے۔"

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے سابق سیکریٹری دفاع، پشاور کے بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا کہ اے پی ایس کے قتلِ عام میں اور دیگر جرائم میں ملوث اہم دہشت گردوں کی موت ایک بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا، "جو ابھی تک روپوش ہیں ان کا لازماً شکار کیا جانا چاہیئے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج