2017-12-11 | سلامتی

بلوچستان کے سینکڑوں عسکریت پسندوں نے یہ کہ کر ہتھیار ڈال دیے کہ 'ہمیں استعمال کیا گیا'

عبدالغنی کاکڑ

سابق عسکریت پسندوں کا کہنا ہے کہ ان کے قائدین نے ان کی غلط رہنمائی کی اور اپنے ذاتی مفاد کے لیے انہیں جنگ کے مہروں کے طور پر استعمال کیا۔


9 دسمبر کو کوئٹہ میں بلوچستان کے 300 سے زائد عسکریت پسندوں نے اپنے ہتھیار حکام کے سپرد کر دیے۔ [عبدالغنی کاکڑ]
9 دسمبر کو کوئٹہ میں بلوچستان کے 300 سے زائد عسکریت پسندوں نے اپنے ہتھیار حکام کے سپرد کر دیے۔ [عبدالغنی کاکڑ]
9 دسمبر کو کوئٹہ میں بلوچستان کے 300 سے زائد عسکریت پسندوں نے اپنے ہتھیار حکام کے سپرد کر دیے۔ [عبدالغنی کاکڑ]

سابق عسکریت پسندوں کا کہنا ہے کہ ان کے قائدین نے ان کی غلط رہنمائی کی اور اپنے ذاتی مفاد کے لیے انہیں جنگ کے مہروں کے طور پر استعمال کیا۔

کوئٹہ – پاکستانی حکام نے ہفتہ (9 دسمبر) کو اعلان کیا کہ متعدد کالعدم گروہوں کے 300 سے زائد عسکریت پسندوں نے کوئٹہ میں ایک تقریب میں اپنے ہتھیار حکام نے حوالے کر دیے۔

بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ نواب ثناء اللہ خان زہری، پاکستانی سدرن ملٹری کمانڈ چیف لفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ اور دیگر حکام تقریب میں موجود تھے۔

ان 313 سابق عسکریت پسندوں نے تشدد کو ترک کر دیا اور مرکزی سیاسی نظام میں شامل ہونے کا عہد کیا۔

بلوچستان صوبائی حکومت کے ترجمان، انوار الحق کاکڑ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "مرکزی دھارے میں شامل ہونے والوں میں بلوچستان میں گزشتہ کئی برسوں سے امن مخالف سرگرمیوں کی قیادت کرنے والے 17 چوٹی کے کمانڈر شامل تھے۔"

انہوں نے کہا، "ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں کا تعلق بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) سمیت کالعدم گروہوں سے تھا۔"

کاکڑ کے مطابق، صوبائی حکومت 29.7 ملین (281,000 ڈالر) کی کل مالی معاونت سمیت ان سابق شورشیوں کی بحالی کے لیے تمام ضروری معاونت فراہم کرے گی۔ پرامن بلوچستان پیکج اقدام کے تحت صوبائی حکومت مفت تعلیم اور عسکریت پسندوں اور ان کے خاندانوں کو صحت کی مفت سہولیات کے ساتھ ساتھ عسکریت پسندوں کو 300,000 روپے (2,793 ڈالر) اور چوٹی کے کمانڈروں کو 500,000 (4,655 ڈالر) ادا کر رہی ہے۔

کاکڑ نے کہا، "ہمیں خوشی ہے کہ اب بلوچستان میں عسکریت پسند دہشتگردی کو مسترد کر رہے ہیں۔ دہشتگروں کا خود سے احساس کرلینا دیرپا امن کے عمل کے لیے ریاستی کاوشوں کی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے۔"

کاکڑ نے کہا کہ فروری 2016 اور دسمبر 2017 کے درمیان صوبے کے مختلف حصّوں میں درجنوں کلیدی کمانڈروں سمیت 2,000 مسلح عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈالے۔

قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں

تقریب کے دوران زہری نے کہا، "ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور دشمن امن کو سبوتاژ کرنے اور ریاست کو تقسیم کی جانب لے جانے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہا ہے۔"

انہوں نے کہا، "دہشتگرد ہمارے نوجوانوں کو پاکستان مخالف کاروائیوں میں غلط استعمال کر رہے ہیں، اور ان امن مخالف عناصر کے ہاتھوں میں کھیلنے والے اب جنگ میں اپنے استحصال کا ادراک کر رہے ہیں۔"

زہری نے کہا، "آج ہتھیار ڈالنے والے میرا پیغام تاحال دہشتگردی میں ملوث عسکریت پسندوں تک بھی پہنچا دیں، کہ تم کبھی ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرنے میں جیت نہیں سکتے۔"

انہوں نے کہا، "عسکریت پسندوں کے پاس اپنے ہتھیار ڈالنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے اور ہم اپنی قومی سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ یہ عسکریت پسندوں کے لیے درست وقت ہے کہ ہمارے دشمن کے وسیع تر تذویری مفاد کے لیے ہم پر مسلط کی گئی اس جنگ کی حقیقت کا ادراک کریں۔"

‘ہمیں دھوکے میں رکھا گیا’

بی آر اے کے ایک سابق سینیئر کمانڈر فضل محمّد المعروف چھینا نے کہا کہ وہ گزشتہ 11 برس سے "بلوچستان کے [ضلع] نصیر آباد میں وسیع پیمانے پر ریاست مخالف اور امن مخالف سرگرمیوں میں شدت سے ملوث تھا۔"

اس نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ریاست کے ساتھ ہماری جنگ کے دوران ہمیں اندھیرے میں رکھا گیا۔"

اس نے کہا، "ہتھیار ڈالنے کا میرا فیصلہ خالصتاً اس حقیقت کی بنا پر تھا جس کا مشاہدہ میں نے اپنی قوم کے حقوق کے لیے اپنی جنگ کے دوران کیا۔ بی آر اے کے رہنما بڑے پیمانے پر معصوم لوگوں کے قتل میں ملوث ہیں۔"

اس نے کہا، "ہمیں اپنی عسکریت پسندی کے بارے میں تمام حقائق معلوم ہو گئے، [اور] اسی لیے ہم نے پرتشدد سرگرمیوں کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ بی آر اے کو چلانے والے عناصر ہمیں ذاتی مفاد کے لیے استعمال کر رہے تھے، جو کہ بعد ازاں ہم پر آشکار ہو گیا۔"

محمّد نے کہا، "میں نے پاکستان کا پر امن شہری بننے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنی قوم کی ترقی میں کردار ادا کرنے کی پوری کوشش کروں گا، مجھے یقین ہے کہ تاحال دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث دیگر بھی حقیقت کا ادراک کر لیں گے اور امن مخالف سرگرمیاں ترک کر دیں گے۔"

'ہمیں جنگی جرائم اور دہشت گردی کے لئے استعمال کیا گیا'

ایک اور سابق اعلیٰ کمانڈر علی گل عرف فقیر نے بتایا وہ اپنے رہنماؤں کے مقاصد سے لاعلم تھا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "میں گزشتہ سات سال سے بلوچستان کے ضلع ہرانی میں کالعدم بی ایل اے سے منسلک تھا، اور میں ریاست کے ساتھ جنگ میں ملوث رہا ہوں۔"

"میں نے بی ایل اے کو اس کے امن دشمن اور بلوچ دشمن ایجنڈے کی وجہ سے چھوڑنے کا فیصلہ کیا،" انہوں نے مزید بتایا کہ بی ایل اے "بڑے پیمانے پر بلوچ لوگوں کے قتل میں ملوث ہے۔"

"ماضی میں ہم اپنی لاعلمی کی وجہ سے جنگی جرائم کے لئے استعمال ہوئے تھے،" گل نے بتایا۔ "لیکن اب ہم جان گئے ہیں کہ ہمیں دہشت گردی کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔"

"ہم نے مسلح جدوجہد کے دوران معصوم لوگوں کو قتل کرنے اور اپنا بنیادی ڈھانچہ تباہ کرنے کے [علاوہ] کچھ حاصل نہیں کیا،" بی ایل ایف کے ایک سابق عسکریت پسند خوضر بلوچ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔ "اسی لئے اب ہم اب تشدد کی مذمت کرتے ہیں اور اب ہم ملک کے لئے اور مظلوم قوم کے لئے کام کریں گے۔"

"میں حکام کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ہمیں تشدد آمیز سرگرمیوں سے تائب ہونے کا موقع فراہم کیا،" انہوں نے بتایا۔ "علیحدگی پسند گروہ اپنے آقاؤں کے مفاد کے لئے اپنے ہی لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔"

عسکریت پسندوں کو دھچکا

"عسکریت پسندوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی بلوچستان سیاسی مفاہمت پالیسی کے تحت اپنے ہتھیار ڈالے ہیں،" اسلام آباد میں مقیم ایک دفاعی تجزیہ کار میجر (ریٹائرڈ) محمد عمر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔ "مجھے امید ہے کہ اس سے دیگر عسکریت پسند راغب ہوں گے جو ایک پرامن زندگی [کی شروعات] کرنا چاہتے ہیں۔"

"عوام بلوچستان میں اپنے مستقبل کے بارے میں بہت فکرمند ہیں کیونکہ بے شمار خاندان اس تنازعے سے متاثر ہو رہے ہیں،" انہوں نے بتایا۔ "عسکریت پسندوں کا وسیع پیمانے پر ہتھیار ڈالنے کا جاری عمل ان عناصر کے لئے ایک بڑا دھچکہ ہے جو "آزادی" کے نام پر جنگ کر رہے ہیں۔"

انہوں نے بتایا، "ریاست کو مزید مواقع [جیسے] نوجوانوں کے لئے روزگار اور بہتر شہری سہولیات فراہم کرتے ہوئے بلوچستان میں ترقی کی پالسی پر نظرثانی کرنی چاہیئے۔

"امن دشمن عناصر نوجوانوں کو مسلح جدوجہد کے لئے گمراہ کر رہے ہیں اور ایک مظلوم اور پسماندہ بلوچستان ان کا ایجنڈہ ہے،" انہوں نے بتایا۔ "لہذا، صوبے کی آبادی کے اہم خدشات دور کرنے کے لئےریاست کو عملی اقدامات یقینی بنانے چاہیئے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 7

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج