2017-12-07 | سلامتی

پاکستانی فورسز نے عسکریت پسندوں کا ٹھکانہ ڈھونڈ نکالا، فاٹا میں ہتھیاروں کے ذخیرے پر قبضہ

محمد آحل

مشاہدین اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بڑی کامیابی ہے۔


پاکستانی سیکورٹی فورسز خیبر ایجنسی میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک مہم کے دوران بازیاب کیے جانے والے اسلحے کی نمائش کر رہی ہیں۔ اس بات کا اعلان آئی ایس پی آر نے 7 دسمبر کو کیا۔ ]آئی ایس پی آر[
پاکستانی سیکورٹی فورسز خیبر ایجنسی میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک مہم کے دوران بازیاب کیے جانے والے اسلحے کی نمائش کر رہی ہیں۔ اس بات کا اعلان آئی ایس پی آر نے 7 دسمبر کو کیا۔ ]آئی ایس پی آر[
پاکستانی سیکورٹی فورسز خیبر ایجنسی میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک مہم کے دوران بازیاب کیے جانے والے اسلحے کی نمائش کر رہی ہیں۔ اس بات کا اعلان آئی ایس پی آر نے 7 دسمبر کو کیا۔ ]آئی ایس پی آر[

مشاہدین اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بڑی کامیابی ہے۔

پشاور -- اس وقت جاری انسدادِ دہشت گردی کی مہمآپریشن رد الفساد میں حصہ لینے والی پاکستانی فورسز نے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کی خیبر ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے اور ہتھیاروں کے ذخیرے کا صفایا کر دیا ہے۔ اس بات کا اعلان انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے جمعرات (7 دسمبر) کو کیا۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق، افواج نے شیخاں گاوں کے قریبی علاقے نرگوسا الغد میں تلاشی کی ایک مہم کے دوران "چار غاروں، تین احاطوں اور گھریلو ساخہ بموں (آئی ای ڈیز) کی ایک متروک فیکٹری" کو دریافت کیا۔

سیکورٹی کے اہلکاروں نے ہتھیاروں اور گولیوں، آئی ای ڈیز، دستی بموں، دھماکہ خیز مواد اور اس سے متعلقہ سامان جو گھریلو ساختہ بموں کو بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، کو بھی دریافت کیا۔

دہشت گردوں کے مضبوط گڑھ کا صفایا

خیبر ایجنسی میں دنیا نیوز کے ایک نمائندے علی خان شینواری نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یہ سیکورٹی فورسز کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے غاروں اور احاطوں کے سلسلے کا پتہ لگایا اور ہتھیاروں اور گولہ بارود کو قبضے میں لیا"۔

انہوں نے کہا کہ نرگوسا تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور لشکرِ اسلامی، جس کی قیادت منگل باغ کے پاس ہے، کے عسکریت پسندوں کا مضبوط گڑھ رہا ہے اور اسے دہشت گردی کے سرگرمیوں کے لیے بیس کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "دہشت گرد غاروں اور احاطوں کو بھاری بمباری، فضائی حملوں اور میزائل کے حملوں سے بچنے اور اغوا کیے جانے والے شہریوں اور سیکورٹی کے اہلکاروں کو قید کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے جن پر وہ تشدد کرتے۔

شینواری نے کہا کہ "تلاشی کی مہم دہشت گردی سے جنگ کرنے اور عوامی اعتماد کو بحال کرنے میں ایک بہت بڑی کامیابی ہے"۔

'عظیم کامیابی'

فاٹا سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے رکن الحج شاہ جی گل آفریدی، نے آپریشن کو تیراہ وادی اور باقی کی خیبر ایجنسی میں امن کو بحال کرنے میں "ایک بہت بڑی کامیابی" قرار دیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اس سے پشاور اور باقی کے خیبر پختونخواہ کی مجموعی سیکورٹی اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کے دوسرے تصفیہ شدہ علاقوں پر بہت زیادہ اثر ہو گا کیونکہ ان غاروں میں چھپائے گئے دھماکہ خیز مواد اور ہتھیاروں کو بے گناہ پاکستانیوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا تھا"۔

انہوں نے کہا کہ خیبر ایجنسی کے زیادہ تر علاقے جورجگال وادی تک پھیلے ہوئے ہیں، کو صاف کر دیا گیا ہے۔

آفریدی نے کہا کہ "ہتھیاروں اور گولہ بارود کو ذخیرہ کرنے والے دہشت گروں کے مضبوط گڑھ کی دریافت، علاقے میں دیرپا امن اور حکومت پر عوامی اعتماد کو بحال کرنے کے سلسلے میں ایک سنگِ میل ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو قابو میں لانے کے لیے پاکستان – افغانستان سرحد پر مستقبل میں لگنے والی باڑ کس قدر مؤثر ہو گی؟

نتائج