2017-12-05 | سلامتی

پاکستان-سعودی مشترکہ فوجی مشقیں دہشت گردی کے خلاف مضبوط متحدہ اتحاد کی عکاس ہیں

اشفاق یوسف زئی

ریاض میں ہونے والی 2 ہفتوں کی خصوصی فورسز مشقیں، 25 نومبر سے 10 دسمبر تک جاری رہیں گی۔


پاکستانی اور سعودی فوجی پرنس نایف سیکورٹی سٹی، ریاض میں مشترکہ ال شباب ٹو مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ تصویر 3 دسمبر کو جاری کی گئی۔ ]آئی ایس پی آر[
پاکستانی اور سعودی فوجی پرنس نایف سیکورٹی سٹی، ریاض میں مشترکہ ال شباب ٹو مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ تصویر 3 دسمبر کو جاری کی گئی۔ ]آئی ایس پی آر[
پاکستانی اور سعودی فوجی پرنس نایف سیکورٹی سٹی، ریاض میں مشترکہ ال شباب ٹو مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ تصویر 3 دسمبر کو جاری کی گئی۔ ]آئی ایس پی آر[

ریاض میں ہونے والی 2 ہفتوں کی خصوصی فورسز مشقیں، 25 نومبر سے 10 دسمبر تک جاری رہیں گی۔

راولپنڈی -- پاکستانی کی خصوصی فورسز اپنے سعودی ہم منصوبوں کے ساتھ ریاض میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک مشترکہ مشق کر رہی ہیں۔ اس بات کا اعلان پاکستان کی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے اتوار (3 دسمبر) کو کیا۔

دو ہفتوں پر مبنی الشباب ٹو مشقوں کا آغاز 25 نومبر کو ہوا اور یہ 10 دسمبر تک سعودی عرب کے دارالحکومت میں پرنس نایف سیکورٹی سٹی میں جاری رہیں گی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، پہلی مشق الشباب ون گزشتہ سال پاکستان میں ہوئی تھی۔

پاکستان کی ایلیٹ خصوصی فورسز کے سپیشل سروسز گروپ کے 68 افسران اور فوجیوں پر مشتمل ایک جنگی دستہ اس میں شرکت کر رہا ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان مشقوں سے دونوں اطراف کے فوجیوں کو انسدادِ دہشت گردی کے بارے میں ایک دوسرے کے تجربے سے سیکھنے کا موقع ملے گا اور دو طرفہ تعاون مضبوط ہو گا۔

دہشت گردی کے خلاف مشترکہ محاذ

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے سابقہ سیکورٹی سیکریٹری، برگیڈیر (ریٹائرڈ) محمود شاہ جن کا تعلق پشاور سے ہے، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ مشترکہ مشقیں "دہشت گردوں کو ایک واضح اشارہ دیتی ہیں کہ دونوں ملک انتہاپسندی کے مجرموں کے خلاف متحد ہیں"۔

انہوں نے اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرنے کی تاریخ موجود ہے کہا کہ "دونوں ممالک تشدد کے باعث مصائب کا شکار ہیں اور انہیں اپنے لوگوں کے لیے پرامن ماحول کی راہ ہموار کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے"۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی افواج کئی دیہائیوں سے سعودی فوج کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں اور دونوں اطراف کو اس تجربے سے فائدہ حاصل ہوا ہے۔

شاہ نے کہا کہ "دونوں اسلامی ممالک کے درمیان ان عسکری تعلقات کو اس لیے بھی مضبوط بنایا جانا چاہیے کیونکہ یہ دونوں ہی دہشت گردوں کا حدف ہیں"۔

پشاور یونیورسٹی میں مطالعہ پاکستان کے ایک لیکچرار عبدل رحمان نے کہا کہ دونوں ممالک باہمی اتحاد اور اعتماد کی بنیاد پر قائم پرجوش تعلقات سے لطف اندوز ہوئے ہیں۔ وہ دونوں 41 ممالک پر مبنی دہشت گردی کے خلاف اسلامی اتحاد سے تعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "دہشت گردی کی لہر نے پاکستان اور سعودی عرب کو ایک جیسا ہی متاثر کیا اور یہ ان کے بہترین مفاد میں تھا کہ وہ مشترکہ دشمنوں کو شکست دینے کے لیے مشترکہ اتحاد بنائیں"۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اتحاد طالبان اور دوسرے عسکریت پسندوں کو خوفزدہ کر دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں مضبوط ملک ہیں اور ان کی مشترکہ کوششیں ان کے متعلقہ علاقوں میں عسکریت پسندی کو روک سکتی ہیں۔

رحمان نے کہا کہ "پاکستان کے لوگ اپنے سعودی بھائیوں کا بہت زیادہ احترام کرتے ہیں اور سعودی عرب میں مقدس مقامات کا دفاع کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں"۔

بنیاد پرستی کو جڑ سے اکھاڑنا

پشاور یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم محمد رفیق جو کہ بنیاد پرستی کا مطالعہ کر رہے ہیں، نے کہا کہ انتہاپسندی ساری اسلامی دنیا میں پھیل رہی ہے اور عسکریت پسندوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ایک مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "سعودی عرب، ایک دیہائی سے زیادہ کے عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے کے پاکستانی فوج کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسے عسکریت پسندوں کی طرف سے استعمال کیے جانے والے ہتھکنڈوں کا علم ہے اور وہ ان لوگوں سے جنگ کرنے میں سعودیوں کی مدد کر سکتی ہے جو وہاں تشدد کی کاروائیاں کرنا چاہتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب دونوں ہی دہشت گردی کو اسلام کے خلاف سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن نواز نظریے پر بنیاد رکھتے ہوئے وہ دونوں مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کو روکنے اور دہشت گردوں کے تشدد سے جانوں کو بچانے کے لیے زیادہ پھرپور مہم چلائی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ "علامات یہ ہیں کہ عوام دہشت گردی کے خلاف ایک واحد پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو رہے ہیں اور جلد ہی عسکریت پسندی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو قابو میں لانے کے لیے پاکستان – افغانستان سرحد پر مستقبل میں لگنے والی باڑ کس قدر مؤثر ہو گی؟

نتائج