2017-11-30 | سلامتی

باجوہ کی جانب سے امن کے تحفظ کی کوششوں پر فوج، علماء کو خراجِ تحسین

از محمد آحل

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کو محفوظ بنانے اور دینی علماء کو مشغول کرنے کی حکمتِ عملی بارآور ہو رہی ہے۔


پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر کو باجوڑ ایجنسی میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر فوجیوں سے ملاقات کرتے ہوئے۔ [فوج کا شعبۂ تعلقاتِ عامہ]
پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر کو باجوڑ ایجنسی میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر فوجیوں سے ملاقات کرتے ہوئے۔ [فوج کا شعبۂ تعلقاتِ عامہ]
پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر کو باجوڑ ایجنسی میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر فوجیوں سے ملاقات کرتے ہوئے۔ [فوج کا شعبۂ تعلقاتِ عامہ]

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کو محفوظ بنانے اور دینی علماء کو مشغول کرنے کی حکمتِ عملی بارآور ہو رہی ہے۔

پشاور -- پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بدھ (29 نومبر) کے روز سرحد پر فوجیوں اور علماء سے ملاقات کی، ایک واضح پیغام دیتے ہوئے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور اس کے حامیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

پشاور میں علماء اور قبائلی عمائدین سے بات چیت کرتے ہوئے باجوہ نے کہا، "پاکستان کسی بھی مذہبی، صوبائی، قبائلی، لسانی، نسلی، فرقہ ورانہ یا دیگر کسی بھی شناخت کے بغیر سب پاکستانیوں کا ہے، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بحالیٔ امن میں علماء اور محققین کا کردار قابلِ تحسین ہے۔"

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے علماء اور قبائلی عمائدین نے دہشت گردی کی مذمت کی اور سیکیورٹی فورسز کے لیے اپنی متواتر حمایت کا عہد کیا جو پاکستان میں امن اور استحکام لانے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔

اسلام آباد کے مقامی دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ چند انتہاپسند عناصر کی جانب سے استعمال کیے جانے والے مذہب کے منفی بیانیہ کو رد کرنے میں علمائے دین ہمیشہ ایک بہت بڑی مدد رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ان کے ساتھ متواتر رابطہ یقیناً زیادہ ثمرآور ہو گا۔"

فاٹا کے سابق سیکریٹری دفاع، پشاور کے بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا کہ علماء کے ساتھ متواتر تعاون "پاکستان اور افغانستان کے خطے کو محفوظ تر بنائے گا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "افغانستان کے لیے لازمی ہے کہ سخت سرحدی دفاع کا جواب دے اور -- دیرپا امن کے لیے اپنے ملک میں انتہاپسند رجحانات کے خلاف جنگ -- کو بڑھائے جو کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے لازمی ہے۔"

سخت سرحدی دفاع

دن کے پہلے حصے میں، باجوہ نے باجوڑ ایجنسی میں پاک افغان سرحد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے دہشت گردوں کے گھسنے کے راستوں کو بند کرنے کے لیے جاری کوششوں پر مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے سرحد پر باڑ لگانے، سرحد کے ساتھ ساتھ نئے قلعوں اور چوکیوں کی تعمیر اور مقامی آبادی کے سرحد کے آر پار جانے میں سہولت کاری کے لیے نئے داخلہ مقامات بنانے میں پیش رفت کو سراہا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سخت سرحدی انتظام نے پاکستانی سرزمین پر دہشت گردی کی کارروائیوں کی تعداد میں کمی کی ہے، کیونکہ اب دہشت گرد فرار ہونے اور ماضی کی طرح سرحد کے آر پار جانے سے قاصر ہیں۔

پشاور کے مقامی حفاظتی اور دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان نے کہا کہ اس کا کریڈٹ باجوہ کی سرحدی حفاظت پر توجہ کو جاتا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "عسکریت پسند پاکستان اور افغانستان میں آتے جاتے رہتے تھے کیونکہ دونوں ممالک ان کے تعاقب میں تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے، کیونکہ مشترکہ دشمن کو شکست دینے میں اب زیادہ تعاون ہوتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ مزید برآں، پاک افغان سرحد کے ساتھ اگلے مورچوں پر باجوہ کے دورے ہمیشہ فوجیوں کا مورال بڑھاتے ہیں۔

اسلام آباد کے مقامی نشریاتی صحافی ارشد شریف نے اتفاق کیا کہ سرحد پر سخت قابو کے ثمرات مل رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "سرحد پر چوکسی اور پاکستانی حکومت کی جانب سے غیر قانونی نقل و حمل کی پڑتال کے لیے سرحد پر باڑ لگانے اور اس کا انتظام کرنے کے نئے اقدامات نے ۔۔ دہشت گرد گروہوں کو بے کار کر دیا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو قابو میں لانے کے لیے پاکستان – افغانستان سرحد پر مستقبل میں لگنے والی باڑ کس قدر مؤثر ہو گی؟

نتائج