|

سلامتی

کے پی پولیس کے زخمی افسر کی اپنے فرض سے وابستگی پر تحسین

کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین محسود نے 24 نومبر کو ایک خونریز خودکش بم دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی۔

از جاوید خان

خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین خان محسود نے 24 نومبر کو پشاور میں ایک خونریز حملے میں زخمی ہونے والے پولیس افسران کی عیادت کے لیے 28 نومبر 2017 کو حیات آباد ہسپتال کا دورہ کیا۔ [کے پی پولیس]

پشاور -- خیبر پختونخوا (کے پی) کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) صلاح الدین خان محسود اور کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) محمد طاہر نے منگل (28 نومبر) کے روز ان افسران سے ملاقات کی جو پچھلے ہفتے پشاور میں ایک خودکش دھماکے میں زخمی ہوئے تھے، اور ان کے اخلاص اور بہادری کی تعریف کی۔

دھماکہ 24 نومبر کو پشاور کے جنوب مغربی نواحی علاقے حیات آباد میں ہوا تھا۔ ایک خودکش بمبار ایڈیشنل انسپکٹر جنرل اشرف نور کو لے جانے والی گاڑی سے ٹکرا گیا تھا، جس سے وہ جاں بحق ہو گئے اور دیگر سات پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

محسود اور طاہر نے حیات آباد میں ایک ہسپتال میں نور کے زخمی ہونے والے ایک باڈی گارڈ، روح اللہ اور دیگر زخمی افسران کی عیادت کی۔

محسود نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "[روح اللہ] بم دھماکے میں زخمی ہو گئے تھے، انہیں زخم آئے اور جھلس گئے۔ انہوں نے بطور سپاہی اپنی وابستگی کے اظہار کے لیے آئی سی یو کے بستر پر اپنے انسپکٹر جنرل کو سیلیوٹ کیا۔ یہ دہشت گردی اور جرم کے خلاف لڑنے میں کے پی پولیس کا جذبہ ہے۔"

دونوں افسران نے اہلِ خانہ کو بتایا کہ محکمۂ پولیس ان کے علاج کے اخراجات برداشت کرے گا۔

محسود نے کہا کہ روح اللہ نے "کے پی پولیس کے ہزاروں دیگر اہلکاروں کی طرح امن کی بحالی" کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی ظرافت، تعاون کرنے والی فطرت اور احساسِ ذمہ داری کی وجہ سے محکمے میں مقبول ہیں۔

طاہر نے پاکستان فارورڈ کو تایا کہ زخمی افسر کی جانب سے اپنے آئی جی پی کو سیلیوٹ کرنا ظاہر کرتا تھا کہ وہ تندرست ہونے کے بعد اپنی ملازمت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

ہسپتال کے دورے کی ویڈیو میڈیا کی جانب سے جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں کی جانب سے شیئر کی گئی، اور صرف کے پی پولیس کے فیس بُک پیج سے ہی 8،000 سے زیادہ بار شیئر ہوئی۔

ایک صارف رابعہ مفتی نے کہا، "بطور قوم ہم ان تمام بہادر ارواح کے مقروض ہیں جو ہمارے لیے اپنا سب کچھ قربان کر رہی ہیں۔"

ایک اور صارف، محمد عزیر خان نے کہا، "اس سپاہی اور اس کے اہلِ خانہ کے لیے واقعی بہت تاسف ہے۔ لیکن اس کی اور ساتھ ہی ساتھ [انسپکٹر جنرل آف پولیس] کی ہمت کو سیلیوٹ۔ کے پی پولیس زندہ باد۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج