2017-11-23 | دہشتگردی

افغانستان اورپاکستان میں داعش کا پھیلاوٴ مشکلات میں

جاوید محمود

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عسکری آپریشنز اور عوامی حمایت کے فقدان نے افغانستان اور پاکستان میں داعش کے پھیلاوٴ کو مسدود کر دیا ہے۔


3 اکتوبر کو جلال آباد، افغانستان میں مبینہ داعش اور طالبان جنگجووٴں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ افغان پولیس نے کہا کہ صوبہ ننگرہار میں ایک آپریشن کے دوران دو غیر افغان اور چار طالبان عسکریت پسندوں سمیت داعش کے 10 مبینہ جنگجو گرفتار کر لیے گئے۔ [نوراللہ شیرزادہ/اے ایف پی]
3 اکتوبر کو جلال آباد، افغانستان میں مبینہ داعش اور طالبان جنگجووٴں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ افغان پولیس نے کہا کہ صوبہ ننگرہار میں ایک آپریشن کے دوران دو غیر افغان اور چار طالبان عسکریت پسندوں سمیت داعش کے 10 مبینہ جنگجو گرفتار کر لیے گئے۔ [نوراللہ شیرزادہ/اے ایف پی]
3 اکتوبر کو جلال آباد، افغانستان میں مبینہ داعش اور طالبان جنگجووٴں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ افغان پولیس نے کہا کہ صوبہ ننگرہار میں ایک آپریشن کے دوران دو غیر افغان اور چار طالبان عسکریت پسندوں سمیت داعش کے 10 مبینہ جنگجو گرفتار کر لیے گئے۔ [نوراللہ شیرزادہ/اے ایف پی]

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عسکری آپریشنز اور عوامی حمایت کے فقدان نے افغانستان اور پاکستان میں داعش کے پھیلاوٴ کو مسدود کر دیا ہے۔

اسلام آباد – تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشتگردی کے موٴثر آپریشنز کی وجہ سے افغانستان میں "دولتِ اسلامیہٴ " (داعش) کا پھیلاوٴ کم ہو رہا ہے، اور پاکستان میں اس گروہ کی قلیل موجودگی ہے۔

16 نومبر کو اسلام آباد کے ادارہٴ تزویری علوم (آئی ایس ایس آئی) کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں داعش کی موجودگی کا یہ مطلب نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ سے عسکریت پسند خشکی سے گھرے اس ملک میں ہجرت کر آئے ہیں۔

اس میں کہا گیا، "افغانستان میں داعش کی تشکیل تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دھڑوں اور ان دیگر بکھرے ہوئے طالبان گروہوں کی جانب سے معلوم ہوتی ہے [جن کا مقصد] خود کو ایک کامیاب طریقہ سے نیا نام دینا تھا۔"

مزید برآں، رپورٹ میں کہا گیا کہ،داعش "بیرونی حمایت" اور فراہمیٴ مالیات پر قائم ہے .شام اور عراق میں اس کا پھیلاوٴ فرقہ ورانہ حکومت کے خلاف رنجش رکھنے والے گروہوں کے لیے پرکشش تھا، جبکہ افغانستان میں صورتِ حال باللکل مختلف تھی۔

دیگر عسکریت پسندوں سے مقابلہ

اگرچہ داعش "افغانستان میں ہزاروں جنگجووٴں اور حامیوں" کی شیخی بگھارتی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں مضبوطی سے قدم جمانے کے لیے داعش کو طالبان اور القاعدہ ہر دو کو چیلنج کرنا تھا۔

داعش کے لیے ایک ایسے ملک میں پھیلنا "ایک بڑا چیلنج" ہے، جہاں اکثر "قبائلی نظام اور افغانستان کے ساتھ مشترکہ نسلی تعلقات کی حمایت سے" طالبان کئی برسوں سے رہ رہے ہیں اور لڑ رہے ہیں ۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ داعش "ایک اور ایسی غیرملکی شناخت کے طور پر سامنے آئی ہے جو افغان سرزمین پر دخل اندازی کرنے کی کوشش میں ہے۔"

رپورٹ کے مطابق، اگرچہ "افغانستان میں داعش کے پھیلاوٴ کی حمایت نہایت کم ہے ۔۔۔ پھر بھی اسے بین الاقوامی برادری کی توجہ کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں داعش کے پھیلاوٴ کو روکنے کا واحد راستہ افغانستان میں بیرونی قوّتوں کے مقاصد کی نگرانی کرنا ہے۔"

ایک کمزور بنیاد

پشاور سے تعلق رکھنے والے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے لیے سابق سیکیورٹی سیکریٹری برگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "داعش کو افغانستان میں خاتمہ کا سامنا ہے اور پاکستان میں مادی طور پر اس کا کوئی وجود نہیں۔"

انہوں نے کہا کہ بطورِ خاص افغانستان کے صوبہ زابل میں داعش طالبان کے ساتھ خونریز تنازعات میں اپنے اعلیٰ تربیت یافتہ جنگجووٴں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے اور جلد ہی یہ دہشتگرد تنظیم غائب ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران عسکریت پسندی کو کچل دینے والے عسکری آپریشنز اور انٹیلی جنس پر مبنی کاروائیوں کے مرہونِ منّت پاکستان میں داعش کے کوئی گڑھ نہیں۔

ماضی میں انٹر سروسز انٹیلی جنس کے شعبہٴ انسدادِ دہشتگردی کے ساتھ کام کرنے والے اسلام آباد اساسی سیکیورٹی تجزیہ کار کرنل (ریٹائرڈ) علی رضا میر نے کہا، " سرحدی باڑ سے پاکستان کو افغانستان سے عسکریت پسندوں کی دراندازی اور داعش کی مقامی حمایت کے مواقع پر قابو پانے میں [مزید] مدد ملے گی۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عسکری آپریشنز نے عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے اور داعش کو ملک میں قدم جمانے سے روکا ہے، انہوں نے مزید کہا، "مذہبی رواداری اور بھائی چارہ پیدا کر کے پاکستان دائمی طور پر شدت پسندی اور عسکریت پسندی کا خاتمہ کر سکتا ہے۔"

حمایت کے گھٹتے ہوئے حلقے

اسلام آباد میں ادارہ برائے تنازعات و علومِ سلامتی تھنک ٹینک کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان نے کہا، " بلوچستان میں داعش کی کچھ حمایت موجود ہے جو وہاں عسکریت پسندی کا باعث بن رہی ہے۔"

تاہم، انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "سخت سیکیورٹی اقدامات اور انٹیلی جنس پر مبنی جاری آپریشنز کی وجہ سے داعش پاکستان کے دیگر حصوں میں قدم جمانے میں ناکام رہی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ أفغانستان میں داعش اور طالبان کے درمیان حالیہ خونریز تنازعات ثابت کرتے ہیں کہ طالبان دشمن ہی رہیں گے۔

خان نے کہا، "دونوں ممالک میں عسکریت پسندی کو معروف ہونے سے روکنے کے لیے داعش، طالبان اور دیگر کی حوصلہ شکنی کی غرض سے متفقّہ کاوشیں کی جانی چاہیئں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 10

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے

جمروز | 12-03-2017

جنگ کیسا ھے پاکستان کا یا افعانستان کا یا پختون کا ؛ جو ممالک افعانستان کو اپنے مفادات کےلیے استمال کرتا ھے کسی سے چوپ ھوں نہیں ھندوستان افعانستان سے نکل جاے تو میرا خیال امن ضرور دیکھا گا جب تک ھندوستان افعانستان میں ھو گا تو جنگ ختم نہیں ھو گا

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج