2017-11-14 | جرم و انصاف

کھلی کچہری خیبرپختونخواہ میں فوری انصاف مہیا کرتی ہے

دانش یوسف زئی

حکام کا کہنا ہے کہ کھلی عدالت کا اقدام شہریوں کی شکایات سے نپٹتا ہے اور برادری کے خدشات کا فوری حل پیش کرتا ہے۔


دیر بالا کے ڈپٹی کمشنر محمد عثمان محسود، 2 نومبر 2017 کو ایک کھلی کچہری کے شرکاء سے خطاب کر رہے ہیں۔ ]دیر بالا ڈی سی دفتر[
دیر بالا کے ڈپٹی کمشنر محمد عثمان محسود، 2 نومبر 2017 کو ایک کھلی کچہری کے شرکاء سے خطاب کر رہے ہیں۔ ]دیر بالا ڈی سی دفتر[
دیر بالا کے ڈپٹی کمشنر محمد عثمان محسود، 2 نومبر 2017 کو ایک کھلی کچہری کے شرکاء سے خطاب کر رہے ہیں۔ ]دیر بالا ڈی سی دفتر[

حکام کا کہنا ہے کہ کھلی عدالت کا اقدام شہریوں کی شکایات سے نپٹتا ہے اور برادری کے خدشات کا فوری حل پیش کرتا ہے۔

پشاور -- خیبر پختونخواہ (کے پی) کی حکومت نے صوبے کی تمام ڈسٹرکٹس میں کھلی کچہری (کھلی عدالتوں) کا آغاز کیا ہے جن کا مقصد عوامی شکایات کو دور کرنا ہے۔

کھلی کچہری کو قائم کرنے کا فیصلہ 27 اکتوبر کو ایک میٹنگ میں کیا گیا جس کی سربراہی کے پی کے چیف سیکریٹری محمد اعظم خان نے کی اور جس میں صوبے بھر کے تمام کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں نے شرکت کی۔

خان نے احکامات جاری کیے کہ کھلی عدالتوں کے ہر ماہ کم از کم دو سیشن اور ای عدالتوں کے دو سیشن منعقد کیے جائیں اور ہر ڈسٹرکٹ میں ساری کاروائی کی مناسب ریکارڈنگ کو یقینی بنایا جائے۔ ای- عدالتیں کھلی کچہریوں کے ایسے سیشن ہیں جو انٹرنیٹ پر ویڈیو کنکشن سے منعقد کیے جاتے ہیں اور ان کا مقصد سرکاری اہلکاروں کی دور دراز کے علاقوں کے شہریوں تک رسائی کو ممکن بنانا ہے۔

ماہانہ کھلی اور ای-عدالتوں کے سیشنز کے علاوہ، چیف سیکریٹری نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقامی ریڈیو اسٹیشنوں جیسے کہ ریڈیو پختونخواہ کے ذریعے برادریوں کے خدشات کو حل کریں اور انٹرایکٹو حل پیش کریں۔

کھلی کچہری کی صدارت کرنے والے متعلقہ حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ اہم عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کریں جیسے کہ: ادویات اور ہسپتالوں میں عملے کی کمی اور نجی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی طرف سے لی جانے والی بہت زیادہ فیسیں، اسکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری، بنیادی تعلیمی سہولیات کی کمی اور تعلیمی اداروں میں دی جانے والی جسمانی سزائیں اور سرکاری اہلکاروں کی طرف سے اختیارات کا ناجائز استعمال۔

مسائل کو حل کرنا

کتلنگ تحصیل میں 2 نومبر کو کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے مردان کے ڈپٹی کمشنر عمران حامد شیخ نے کہا کہ تمام سرکاری ادارے عوام کی خدمت کرنے اور ان کی شکایات کو دور کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے ریڈیو پختونخواہ مردان پر ایک اعلان میں، جسے بیک وقت فیس بک لائیو سے بھی نشر کیا گیا، کہا کہ "ڈسٹرکٹس میں اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے، شہریوں اور منتخب نمائںدوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ڈسٹرکٹ کے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور انہیں ہر سطح پر راہنمائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی سخت نگرانی بھی کریں"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام سے رابطہ کرنا ایک اچھا تجربہ تھا۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم برادری کے مسائل کو سنیں اور انہیں حل کریں"۔

مقامی شہری عابد لطیف، جنہوں نے کتلنگ تحصیل میں کھلی کچہری میں شرکت کی کہا کہ وہ اس اقدام کو سراہتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پہلی بار، لوگ جمہوریت کی حقیقی روح کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں جہاں عوامی عہدے رکھنے والے ہماری برادری کے مسائل حل کرنے کے لیے ہمارے دروازے پر دستیاب ہیں"۔

تحقیقات اور کارروائی

دیر بالا کے ڈپٹی کمشنر محمد عثمان محسود نے یکم نومبر کو ایک ڈسٹرکٹ میں کھلی کچہری کے دوران کہا کہ کسی بھی سرکاری ادارے کو بدعنوانی کے طرزِ عمل کو فروغ دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "سرکاری افسران کو عوامی خدمت گاروں کے طور پر کام کرنا چاہیے نہ کہ ان کے مالکوں کی طرح کا رویہ رکھنا چاہیے"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے آج ملنے والی تمام شکایات کو لکھ لیا ہے اور ہم نے انہیں حل کرنے کے لیے ٹائم فریم کا تعین بھی کر دیا ہے۔ ہم ہر مسئلے کو ذاتی طور پر متعلقہ شعبوں کے پاس لے کر جائیں گے"۔

انہوں نے کہا کہ "بہت سے مسائل کو موقعہ پر ہی حل کر دیا گیا ہے جیسے کہ آر ایچ سی شرینگل میں ایمبولنسوں، ڈاکٹروں اور ڈرائیوروں کی کمی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ صورتِ حال کو مقامی طبی مرکز میں حل کرنے کے لیے فیصلے کیے گئے۔

دیر بالا کے شہری محمد عالم نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ کھلی عدالت کے فورم نے شہریوں کو طویل عرصے سے موجود برادری کے اہم مسائل کو اٹھانے کا ایک موقع فراہم کیا ہے۔

عالم نے یکم نومبر کو ہونے والی ایک کھلی کچہری میں الزام لگایا کہ اس کے گاوں کے طبی مرکز میں تمام ادویات خراب ہو چکی ہیں کیونکہ ڈاکٹروں نے انہیں مریضوں کو دینے سے انکار کیا ہے۔

ڈسٹرکٹ کمشنر نے اس معاملے کی جانچ پڑتال کروانے کا وعدہ کیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "آج، ہمارے بہت سے مسائل کو فوری طور پر حل کر دیا گیا کیونکہ سارے متعلقہ حکام دستیاب تھے اور ہم کھلے عام اپنے مسائل کے بارے میں بات کر سکتے تھے۔ بہت سے دوسرے مسائل کو نوٹ کر لیا گیا ہے اور ایک ہر کام کے لیے ایک مخصوص ٹائم فریم دے دیا گیا ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

2 تبصرے

Shahzad Khan | 11-16-2017

Zabardast. it is a good step by Azam Khan. Kohat main bhi kuli kacheri howe hy.

Jibran Yousafzai | 11-15-2017

بہت اچھے خیبر پختونخواہ

انتخاب

عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو قابو میں لانے کے لیے پاکستان – افغانستان سرحد پر مستقبل میں لگنے والی باڑ کس قدر مؤثر ہو گی؟

نتائج