2017-11-07 | حقوقِ نسواں

پاکستانی خواتین کی نظریں جمہوریت میں بڑھتے ہوئے کردار پر ہیں

جاوید خان

حالیہ اصلاحات کے باعث مزید خواتین نشستوں کے لیے لڑ رہی ہیں اور انتخابات کے لیے مہمات چلا رہی ہیں۔


ایک خاتون، 26 اکتوبر کو پشاور میں این اے - 4 کے ضمنی انتخابات میں اپنا ووٹ ڈال رہی ہے۔ ]جاوید خان[
ایک خاتون، 26 اکتوبر کو پشاور میں این اے - 4 کے ضمنی انتخابات میں اپنا ووٹ ڈال رہی ہے۔ ]جاوید خان[
ایک خاتون، 26 اکتوبر کو پشاور میں این اے - 4 کے ضمنی انتخابات میں اپنا ووٹ ڈال رہی ہے۔ ]جاوید خان[

حالیہ اصلاحات کے باعث مزید خواتین نشستوں کے لیے لڑ رہی ہیں اور انتخابات کے لیے مہمات چلا رہی ہیں۔

پشاور -- پاکستانی خواتین انتخابی عمل میں بڑھتا ہوا کردار حاصل کر رہی ہیں جس میں انتخابی عہدوں کے لیے لڑنا اور مہمات کا انتظام کرنا شامل ہے۔

2013 کے عام انتخابات میں، پاکستان بھر سے 147 خواتین نے قومی اسمبلی (این اے) کی نشستوں کے لیے انتخابات میں حصہ لیا اور 300 سے زیادہ نے صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے انتخاب لڑا۔ ان میں سے 6 خواتین قومی اسمبلی پہنچنے میں کامیاب رہیں اور دیگر 10 صوبائی اسمبلیوں کے لیے منتخب ہوئیں۔

خواتین امیدواروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے: 2008 میں 73 نے انتخاب لڑا اور 2002 کے عام انتخابات میں 57 خواتین نے حصہ لیا تھا۔

یہ ترقی جزوی طور پر اس قانون سے سامنے آئی ہے جس کے تحت قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کی کچھ تعداد کو خصوصی طور پر خواتین کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ بہت سی خواتین مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی کابینہ میں خدمات سرانجام دیتی ہیں۔

خواتین مہمات میں قائدانہ کردار ادا کرتی ہیں

اس سال، لاہور میں این اے 120 کی نشست کے لیے لڑے جانے والے ایک انتخاب میں، دو خواتین نے 17 ستمبر کے ضمنی انتخابات میں مقابلہ کیا۔ یہ نشست معزول کیے جانے والے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی نہ اہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ -نواز (پی ایم ایل- این) کی بیگم کلثوم نواز شریف جو کہ سابقہ وزیراعظم کی اہلیہ ہیں، نے 61,745 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ ان کی حریف ڈاکٹر یاسمین راشد، جن کا تعلق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ہے، نے 47,099 ووٹ حاصل کیے۔

کلثوم نواز کے لیے انتخابی مہم ان کی بیٹی مریم نواز نے چلائی تھی۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مرد امیدواروں میں سے کسی کو بھی 7,200 سے زیادہ ووٹ نہیں ملے۔

دریں اثنا، خواتین کی بڑی تعداد نے 26 اکتوبر کو ہونے والے پشاور کے این اے 4 کے ضمنی انتخابات کی مہم میں سرگرمی سے حصہ لیا۔

ایک سیاسی کارکن، پلوشہ عباس نے کہا کہ "عمل کے دوران خواتین کی شرکت کافی منصفانہ تھی اور جو واحد مسئلہ پیش آیا وہ یہ تھا کہ زیادہ تر خواتین کے پاس ان کے شناختی کارڈ نہیں تھے" جن کی ووٹ ڈالنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے اور دوسری خواتین نے اپنے امیدواروں کے لیے پولنگ سے ہفتوں پہلے اپنے امیدواروں کے لیے جارحانہ مہم چلائی۔

عباس نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم نے ستمبر کے انتخابات میں این اے 120 میں دو خواتین کو مرکزی امیدواروں کے طور پر ایک دوسرے کے خلاف حصہ لیتے ہوئے دیکھا اور ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنے صوبے میں بھی ایسا ہی مقابلہ جلد دیکھیں گے"۔ انہوں نے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے مزید تعلیم یافتہ ہونے کی ضرورت ہے۔

این اے 4 پشاور کے ایک سیاسی کارکن اشرف خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "26 اکتوبر کے ضمنی انتخابات میں، پشاور کے قدامت پسند ترین حلقے این اے 4 میں نہ صرف خواتین ووٹرز سارے پولنگ اسٹیشنوں میں ووٹ ڈالنے آئیں بلکہ خواتین نے اپنے امیدواروں کے لیے مہمات بھی چلائیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ خواتین نے زیادہ خواتین ووٹروں کو متوجہ کرنے کے لیے روایتی برقع میں مہم چلائی۔

اصلاحات، دیگر کوششوں کی ضرورت

پاکستان میں خواتین نے اگست میں زیادہ بہتر شمولیت کی طرف ایک بڑی پیش رفت کو اس وقت خوش آمدید کہا جب قومی اسمبلی نے انتخابی اصلاحات کا قانون منظور کیا۔

اس قانون میں خواتین کی انتخابات میں شمولیت کو بہتر بنانے کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں جن میں سیاسی جماعتوں کے لیے عمومی نشستوں میں سے کم از کم 5 فیصد نشستوں کو خواتین کے مختص کرنے کی شرط بھی شامل ہے۔

یہ قانون 2014 میں انتخابی اصلاحات کے لیے بنائی جانے والی 33 ارکان پر مبنی پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے فراہم کی جانے والی تجاویز پر بنایا گیا ہے۔ اس کمیٹی نے 118 میٹنگز کیں اور انتخابی عمل کے لیے 105 ترامیم تجویز کی تھیں۔

خواتین کے حقوق کی تنظیم کھور کی شریک بانی شاہدہ شاہ کاکا خیل جن کا تعلق نوشہرہ سے ہے، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "خواتین جنہیں اپنے مسائل کا زیادہ بہتر علم ہے، جو خواتین کے حقوق کے لیے سرگرمی سے کام کر رہی ہیں کی نہ صرف ووٹروں، کارکنوں اور حکومتی شعبوں کی طرف سے حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے بلکہ سیاسی جماعتوں کی اعلی قیادت کو بھی ایسا کرنا چاہیے"۔

انہوں نے کہا کہ "انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت کو صرف اصلاحات اور سیاسی جماعتوں اور حکومت کی مخلصانہ کوششوں سے ہی بہتر بنایا جا سکتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ووٹ دینے کے حق اور مقابلہ کرنے کے حق کے بارے میں آگاہی اور پولنگ اسٹیشنوں پر خواتین کی طرف سے ووٹ دینے کی کوششوں کو باسہولت بنانے سے ہی انتخابی عمل میں بطور ووٹ دہندہ اور امیدوار کے طور پر ان کے کردار کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے"۔

کاکاخیل نے مزید کہا کہ علاوہ ازیں، حکومت کو ووٹروں کی رجسٹریشن اور نامزدگی کے کاغذات کو مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخواہ کے دور دراز کے علاقوں سے خواتین کی شرکت کو بڑھایا جا سکے۔

سیاست میں خواتین کے کردار کو بڑھانا

دیر سے تعلق رکھنے والی خواتین کے حقوق کے سرگرم کارکن اور رویہ و علم کی تبدیلی کی ایسوسی ایشن کی بانی، شاد بیگم نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "انتخابی اصلاحات کے بل کے تحت تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے کم از کم 5 فیصد ٹکٹوں کو خواتین کے لیے مختص کرنے سے سیاست میں خواتین کے کردار میں بڑھوتی آئے گی"۔

بیگم نے کہا کہ حکومتی شعبوں اور سول سوسائٹی کو انتخابات سے کافی پہلے خصوصی طور پر دور دراز کے قبائلی اور آباد شدہ علاقوں میں آگاہی کی مہمات انجام دینی چاہیں تاکہ لوگوں کو امیدواروں اور ووٹروں کے طور پر خواتین کے فعال کردار کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ دور دراز کے قدامت پسند علاقوں میں پولنگ اسٹیشنوں پر خواتین کے لیے مختص داخلے کے راستوں سے انتخابات میں خواتین کے ٹرن آوٹ کو بڑھایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "الیکشن کمیشن کو مقامی عناصر پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ قدامت پسند علاقوں میں وہ خواتین کو ووٹ دینے سے روک نہ سکیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو قابو میں لانے کے لیے پاکستان – افغانستان سرحد پر مستقبل میں لگنے والی باڑ کس قدر مؤثر ہو گی؟

نتائج