|

دہشتگردی

منڈلاتی ہوئی شکست، داعش نے عورتوں کو لڑنے کے لیے بلا لیا

مشاہدین کا کہنا ہے کہ آخری حربے کے طور پر، گروہ نے عورتوں سے درخواست کی ہے کہ وہ شام اور عراق میں لڑیں جس سے اس کے ناگزیر خاتمے کا اشارہ ملتا ہے۔

قاہرہ سے ولید عبدل خیر


تصویر میں"دولت اسلامیہ" کی الخنساء برگیڈ کی خواتین ارکان رائفلوں کے ساتھ دکھائی گئی ہیں۔ ]تصویر بہ شکریہ محمد ال عبداللہ[

تصویر میں"دولت اسلامیہ" کی الخنساء برگیڈ کی خواتین ارکان رائفلوں کے ساتھ دکھائی گئی ہیں۔ ]تصویر بہ شکریہ محمد ال عبداللہ[

مشاہدین کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں ابھی تک اپنے زیرِ تسلط سکڑتے ہوئے علاقوں میں خواتین کو جنگ میں شامل ہونے کی دعوت دینے سے "دولتِ اسلامیہ" (داعش) اپنی بڑھتی ہوئی مایوسی کو آشکار کر رہی ہے۔

برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ نے چھہ اکتوبر کو خبر دی کہ داعش سے تعلق رکھنے والی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کے اکاونٹس پر ایک مہم جاری ہے جس میں عورتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ہتھیار اٹھا لیں اور گروہ کے لیے "اپنے آپ کو قربان" کر دیں۔

دہشت گرد گروہوں کے ماہر اور مصری فوج کے ریٹائرڈ افسر میجر جنرل یحیی محمد علی نے دیارونا کو بتایا کہ خواتین سے اپیل "اس بات کا ٹھوس ثبوت فراہم کرتی ہے کہ گروہ مسلسل نقصانات کے بعد عددی کمی کا شکار ہے"۔

انہوں نے کہا کہ شام اور عراق میں شکست کے بعد،داعش کے ہزاروں جنگجو مارے جا چکے ہیں اور اس سے بھی کہیں زیادہ فرار ہو گئے ہیںجس سے خواتین جنگجو ہی وہ آخری محفوظ شدہ قوت رہ گئی ہیں جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

علی نے کہا کہ "2014 کے آغاز میں، گروہ نے اپنی بڑی تعداد کے بارے میں شیخی بگھاری تھی اور اس کی میڈیا مشین نے مالی، اخلاقی اور جنسی بخشیشات سے اپنی بھرتی کی کوششوں کو آگے بڑھایا تھا"۔

انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے داعش کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی کوشوں میں اضافہ ہوا، گروہ کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے نے بچوں کو بھرتی کرنا شروع کر دیا۔ انہیں جنگ میں دھکیل دیا اور اپنی خودکشی کی مہمات سرانجام دینے کے لیے انہیں استعمال کیا"۔

انہوں نے کہا کہ "اب، مرکزی توجہ خواتین کو دی جا رہی ہے جنہوں نے گروہ کے آغاز سے اس میں شمولیت اختیار کی تھی مگر ابھی تک ان کا کردار بچے پیدا کرنے، فوجی نظم و ا نصرام میں مدد اور خلافت میں دوسری خواتین کی نگرانی تک محدود تھا"۔

بھرتی کاروں نے خواتین کو نشانہ بنایا

مصر کے ابنِ ولید اسٹڈیز اینڈ فیلڈ ریسرچ سینٹر کے نیو میڈیا ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر مزین ذکی نے کہا کہ خواتین نے بہت سے مواقع پر داعش کے دعوی کردہ خودکش حملے انجام دیے ہیں۔

انہوں نے دیارونا کو بتایا کہ اگرچہ گروہ نے اپنے بھرتی کے پروپیگنڈا میں اسے استعمال کیا ہے مگر خواتین کو داعش کی صفوں میں شامل ہو کر لڑنے کے لیے کھلے عام دعوت دینا، نیا ہے۔

انہوں نے ستمبر کے ایک تجزیے میں کہا تھا کہ آئی ایچ ایس مارکٹس کانفلکٹ مانیٹر نے نوٹ کیا ہے کہ داعش خواتین پر زور ڈال رہی ہے کہ وہ اس کی جنگوں میں سرگرمی کے ساتھ شامل ہو جائیں اور یہ ایک "اہم نظریاتی قدم" ہے جس سے اپنی صفوں کو بڑھانے کی اس کی کوششیں نمایاں ہوتی ہیں۔

آئی ایچ ایس مارکٹس کانفلکٹ مانیٹر کے لیے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے سینئر تجزیہ نگار لودوویکو کارلینو نے کہا کہ "اگرچہ داعش نے ماضی میں خواتین خودکش بمباروں کو استعمال کیا ہے مگر اس نے اس ارتکاز سے ان کا استعمال نہیں کیا جتنا کہ ہم نے موصل میں دیکھا ہے جہاں اس وقت خواتین کی طرف سے کیے جانے والے خودکش حملوں کا تخمینہ 40 سے زیادہ کا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ خواتین خودکش بمباروں میں اضافہ داعش کی مزاحمت کے آخری علاقوں کا نتیجہ ہے یا گروہ کی طرف سے خواتین کو ایسے حملے کرنے پر مجبور کیا گیا ہے یا آیا یہ ایک زیادہ وسیع رجحان کی عکاسی کرتا ہے کہ خواتین جنگجو گروہ کی جنگوں میں زیادہ سرگرم حصہ لینے کے لیے تیار ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 22

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

2 تبصرے 💬

💬

Nouman ashraf | 11-06-2017

ایسا کیوں کیا جا رہا ہے، اس نازک صورتِ حال کی کیا وجہ ہے، کیا کوئی بتا سکتا ہے؟ برائے مہربانی اپنے جواب کا انتظار کریں۔ آداب و تسلیمات کے ساتھ شکریہ، نیک تمنّائیں اور ایسے تمام الفاظ۔


💬

Raziq Ulfat | 11-03-2017

بہت خوب


انتخاب

ٹی ٹی پی کے مستقبل کے لیے ملا فضل اللہ کی موت کا کیا مطلب ہے؟

نتائج