|

صحت

ای-علاج خیبرپختونخواہ کے دور افتادہ حصوں میں طبی سہولیات فراہم کرے گا

دیہی علاقوں میں رہنے والوں کو اب انٹرنیٹ کے ذریعے شہری ہسپتالوں کے سپشلسٹ ڈاکٹروں کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔

دانش یوسف زئی


بیسک ہیلتھ یونٹ بحالی میں ایک ٹیکنیشن، 19 اکتوبر کو ای-علاج کو استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کے ایک طبی سپشلسٹ کے ساتھ رابطہ کر رہا ہے۔ ]دانش یوسف زئی[

بیسک ہیلتھ یونٹ بحالی میں ایک ٹیکنیشن، 19 اکتوبر کو ای-علاج کو استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کے ایک طبی سپشلسٹ کے ساتھ رابطہ کر رہا ہے۔ ]دانش یوسف زئی[

مانسہرہ -- خیبر پختونخواہ (کے پی) دور افتادہ علاقوں میں طبی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور حال ہی میں اس نے صوبہ کی اولین آن لائن علاج کی سہولت، ای- علاج کا آغاز مانسہرہ کے قصبے میں کیا ہے۔

نیا ٹیلی ہیلتھ سینٹر 16 اکتوبر کو بیسک ہیلتھ یونٹ (بی ایچ یو) بحالی میں شروع ہوا۔

اس پائلٹ پراجیکٹ، جو کہ کے پی ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اور کے پی انفرمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (کے پی آئی ٹی بی) کے درمیان اشتراک ہے، کا مقصد دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے مریضوں کو ہائی سپیڈ انٹرنیٹ کے ذریعے بڑے شہری ہسپتالوں کے سپشلسٹ ڈاکٹروں سے جوڑنا ہے۔

کے پی کے وزیرِ صحت شہرام ترہ کئی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "دور دراز کے علاقوں کے لیے ای-علاج کو متعارف کروانے سے موثر، ماہرانہ اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی، خصوصی طور پر خواتین اور بچوں کے لیے، ان کے گھروں کے قریب ممکن ہو سکے گی"۔

انہوں نے کہا کہ ای-علاج سینٹر دل اور جلد کے مسائل، کان، ناک اور گلہ کے مسائل اور دیگر بیماریوں کے مریضوں کو آن لائن طبی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ سہولیات میں زچہ و بچہ کی صحت بھی شامل ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترہ کئی نے کہا کہ "ایک چھت تلے پانچ سپشلسٹ ڈاکٹر خدمات فراہم کریں گے"۔ ڈاکٹر صبح نو بجے سے دوپہر دو بجے تک دستیاب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ای-علاج سینٹر کا مقصد شہری علاقوں کے ہسپتالوں پر بوجھ کو کم کرنا ہے کیونکہ دور دراز کے علاقوں کے شہری اکثر طبی علاج کے لیے شہروں کا سفر کرتے ہیں۔

ترہ کئی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اب دور دراز کے علاقوں کے مریضوں کو اپنے گھر کے قریب ہی پیشہ ورانہ طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہو گی"۔

انہوں نے کہا کہ کے پی کی حکومت اس منصوبے کو صوبہ کے دوسرے دور افتادہ علاقوں تک وسیع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "حکومت طبی سہولیات تک رسائی کو یقینی بنانے کا عزم رکھتی ہے اور اس نے صحت عامہ کے شعبے کے لیے قابلِ قدر بجٹ مختص کیا ہے"۔

ریموٹ تشخیص، علاج

کے پی آئی ٹی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر شہباز خان نے وضاحت کی کہ ای-علاج کا نظام کیسے کام کرتا ہے۔

مریض ٹیلی ہیلتھ کے مرکز میں آتے ہیں، جو ہائی سپیڈ انٹرنیٹ کے ذریعے ایک کنٹرول روم سے جڑا ہوتا ہے۔ سپشلسٹ ڈاکٹر دور سے ہی مریض کا معائنہ کرتے ہیں اور علاج بتاتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ہر ای-علاج مرکز میں اچھا تربیت یافتہ عملہ ملازم رکھا جاتا ہے تاکہ وہ مریضوں کو اسلام آباد میں ڈاکٹروں سے رابطہ کرنے میں مدد کر سکے۔ توقع ہے کہ مانسہرہ کا مرکز تقریبا 27,000 کی آبادی کو خدمات فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ "اہم شعبوں جیسے کہ صحت اور تعلیم میں تکنیکی مداخلت، خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے"۔

کے پی آئی ٹی بی کے ڈپٹی ڈائریکٹر عاصم اسحاق خان نے کہا کہ بی ایچ یو بحالی میں ای-علاج کے لیے دو کمرے مخصوص کر دیے گئے ہیں۔ ہر روز تقریبا 20 سے 25 مریض اسلام آباد کے ڈاکٹروں سے تشخیص اور علاج کرواتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "آنے والے مہینے میں، ہم صوبہ کے زیادہ دور افتادہ علاقوں کے چار بی ایچ یو مراکز میں اس سہولت کو مہیا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس کے بعد پشاور میں ایک مرکزی دفتر قائم کیا جائے گا جہاں پانچ ڈاکٹروں پر مبنی بورڈ ان طبی کیسوں کا جائزہ لے گا جو ان کے حوالے کیے گئے ہوں گے"۔

مریض، ڈاکٹر متاثر ہوئے

ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹرز ہسپتال مردان کے سینئر سرجن ڈاکٹر توصیف الدین نے کہا کہ وہ معیاری طبی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کے جدید نقطہ نظر کو سراہتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ای-علاج ان لوگوں کے لیے ایک قابلِ قدر قدم ہے جو بہتر طبی سہولیات کے لیے بڑے شہروں کا سفر نہیں کر سکتے۔ اب وہ اپنے گاوں میں صرف بی ایچ یو جا کر ہی، انتہائی تجربہ کار ڈاکٹروں کو ایک ماہر بورڈ تک رسائی کے قابل ہو سکیں گے"۔

27 سالہ واجد علی بحالی میں اس نئے قدم سے فائدہ اٹھانے والے پہلے مریضوں میں سے ایک ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میرے لیے ابھی بھی یقین کرنا مشکل ہے کیونکہ میں کافی عرصے سے بیمار تھا اور کسی سپشلسٹ کے پاس جانے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا"۔

علی نے کہا کہ "کچھ دن پہلے، میں نے ای-علاج کی سہولت سے استفادہ کیا اور مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تشخیص اور علاج اب اتنا آسان اور قابلِ رسائی ہو گیا ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج