2017-10-23 | مذہب

سکھ موسیقی کی کلاسیں پشاور میں مذہبی رواداری کی علامت

محمّد آحل

مشاہدین کا کہنا ہے کہ یہ کلاسیں سکھوں کے لیے مذہبی فریضہ ہیں، لیکن امن اور مذہبی رواداری کو بھی فروغ دیتی ہیں۔


ستمبر میں پشاور میں بھائی جوگا سنگھ خالصہ دھرمی سکول میں سکھ طالبِ علم موسیقی کی کلاسیں لے رہے ہیں۔]محمّد آحل[
ستمبر میں پشاور میں بھائی جوگا سنگھ خالصہ دھرمی سکول میں سکھ طالبِ علم موسیقی کی کلاسیں لے رہے ہیں۔]محمّد آحل[
ستمبر میں پشاور میں بھائی جوگا سنگھ خالصہ دھرمی سکول میں سکھ طالبِ علم موسیقی کی کلاسیں لے رہے ہیں۔]محمّد آحل[

مشاہدین کا کہنا ہے کہ یہ کلاسیں سکھوں کے لیے مذہبی فریضہ ہیں، لیکن امن اور مذہبی رواداری کو بھی فروغ دیتی ہیں۔

پشاور – جب سے ستمبر میں پشاور کے علاقہ محلہ جوگن شاہ میں بھائی جوگا سنگھ خالصہ دھرمی سکول میں بچوں کے لیے کلاسوں کا آغاز ہوا، مذہبی موسیقی کی آوازراہگیروں کو محظوظ کرتی رہی ہے۔

مشاہدین کا کہنا ہے کہ نوجوان سکھوں کو کلاسیکی مذہبی موسیقی کی تعلیم شہر میں بحالیٔ امن کی غمّاز ہے۔

یہ اس امر کی علامت ہے کہ خیبر پختونخوا اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات کی اقلیتیں جو کبھی خوفزدہ تھیں، اب زیادہ پر سکون محسوس کرتی ہیں اور اپنی مذہبی رسوم آزادی سے انجام دیتی ہیں۔

سکھ طالبِ علم مذہبی فریضہ کے طور پر موسیقی کی کلاسیں لیتے ہیں، لیکن متعدد مشاہدین دلیل دیتے ہیں کہ موسیقی سے امن اور مذہبی رواداری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

امن کی ایک علامت

ایک مسیحی استاد، ندیم گِل بھائی جوگا سنگھ سکول اور ایک دوسرے مقامی سکول میں 100 سے زائد سکھ بچوں کو موسیقی کی تعلیم دیتے ہیں۔ سکول میں درج شدہ بچوں کی تعداد تقریباً 120 ہے۔

سکول کے دیگر معلّمین سکھ یا مسلمان ہیں۔

گِل نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”موسیقی وہ واحد زبان ہے جو دہشتگردی کی نفی کرتی ہے اور مختلف نظریات اور اعتقادات رکھنے والوں کے مابین امن اور مذہبی رواداری کا ایک ذریعہ ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ”ان بچوں کو پڑھا کر ۔۔۔ نہایت اطمینان اور دائمی مسرّت محسوس کرتے ہیں۔“

گِل نے کہا ”یہ بچے مجھے اپنوں کی طرح پیار کرتے ہیں اور مجھے محسوس نہیں ہوتا کہ میں کسی دوسرے مذہبی عقیدے سے تعلق رکھتا ہوں۔ جو امن اور پیار ہم پھیلا رہے ہیں، وہ ہی میرا اطمینان ہے—جو کہ تمام مذاہب کی اصل تعلیم ہے۔“

بھائی جوگا سنگھ سکول کے ایک سابق استاد اور بورڈ کے ایک رکن جتیندر سنگھ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ہم نے ]نوجوانوں کے لیے[ تقریباً آٹھ ماہ قبل موسیقی کی کلاسوں کا آغاز کیا تھا، اور زیادہ تر نوجوان اب اچھی طرح تربیت یافتہ ہیں اور گردواروں ]سکھ مقاماتِ عبادت[ میں مذہبی تقریبات میں فن دکھا رہے ہیں۔ “

انہوں نے کہا، ”موسیقی کی یہ کلاسیں امن کی ایک درست علامت ہیں – کہ ایک ایسے شہر میں اقلیتیں کھلے بندوں اپنے مذہبی فریضے انجام دے رہی ہیں، جہاں چند برس قبل کوئی محفوظ نہ تھا۔“

جتیندر نے کہا کہ اساتذہ کا مختلف مذاہب سے تعلق ظاہر کرتا ہے کہ ”موسیقی مختلف مذاہب کے مقلدین کے مابین رواداری کے ساتھ ساتھ امن و بردباری کو بھی فروغ دے رہی ہے۔“

مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کا فروغ

ایک سابق طالب علم اور اب جوگا سنگھ میں موسیقی کے ایک استاد جرنیل سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے پشاور کے سماجی ماحول میں ایک تبدیلی دیکھی ہے۔

"لوگ اب زیادہ روادار ہیں،" انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔ "اس سے قبل یہاں موسیقی کے اسکول کا کوئی تصور نہیں تھا اور [سکھ] نجی طور پر گھروں میں موسیقی سیکھا کرتے تھے۔"

"دہشت گردی کو شکست دینے سے پشاور کو اقلیتوں سمیت سب کے لئے پرامن بنایا جا سکا ہے۔" انہوں نے بتایا۔ "اگر ہمیں پاکستان کو حقیقتاً پرامن بنانا ہے تو ہمیں تمام مذاہب کے درمیان مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔"

کلاسز سب کے لئے کھلی ہیں انہوں نے مزید بتایا۔ "ہمارے پاس طالبات ہیں اور بزرگ سیکھنے والے بھی،" انہوں نے بتایا۔ "ہر ایک آسکتا ہے۔ کیونکہ ہم موسیقی کے ذریعے پیار اور امن کی تعلیم دے رہے ہیں۔"

موسیقی کے طالب علم جسویندر سنگھ نے بتایا، جب وہ ہارمونیم بجاتے ہیں تو انھیں سکون ملتا ہے۔

"میں ربانیت سے جڑا ہوا محسوس کرتا ہوں،" انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔ "یہ موسیقی کی زبان ہے جس سے میں بہتر محسوس کرتا ہوں۔"

انہوں نے بتایا، "یہ ایک مذہبی کلاس ہے تاہم، تمام انسانوں کے درمیان رواداری اور ذہنی سکون پیدا کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 5

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج