http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/10/02/feature-03
| سلامتی

کڑی سیکورٹی میں پاکستان میں پرامن عاشورہ کا انعقاد

جاوید خان


سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس پشاورسجاد خان (دھوپ کا چشمہ) 30 ستمبر کو پشاور میں عاشورہ کے جلوس کی سیکورٹی کے انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ [پشاور پولیس]

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس پشاورسجاد خان (دھوپ کا چشمہ) 30 ستمبر کو پشاور میں عاشورہ کے جلوس کی سیکورٹی کے انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ [پشاور پولیس]

پشاور -- حکام کا کہنا ہے کہ سخت سیکورٹی اقدامات اور پولیس، فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے مابین تعاون کی بدولت ایک پرامن عاشورہ کا انعقاد ممکن ہو سکا۔

پولیس حکام کے مطابق ملک بھر میں سیکورٹی سخت تھی خصوصاً خیبر پختونخواہ (کے پی)، پنجاب، سندھ اور بلوچستان صوبوں کے حساس ضلعوں میں۔

کے پی پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئ جی پی) صلاح الدین خان محسود نے پاکستان فارورڈ کو بتایا " پولیس،آرمی، فرنٹیئر کور، فرنٹیئر کانسٹیبلری، ضلعی انتظامیہ اور دیگر کے درمیان بہترین معاونت تھی جسکی وجہ سے پورے کے پی میں عاشورہ محرم کو پر امن طور پر منانے کو یقینی بنانے میں مدد ملی۔


ایک پولیس اہلکار بال بیرنگ سے بھرا ہوا دھماکہ خیز مواد دکھا رہا ہے جو 29 ستمبر کو پشاور میں دہشت گردوں سے برآمد کیا گیا تھا۔ دہشت گردوں نے محرم کے دوران کئی حملوں کا منصوبہ بنایا تھا لیکن پولیس نے ان کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ [جاوید خان]

ایک پولیس اہلکار بال بیرنگ سے بھرا ہوا دھماکہ خیز مواد دکھا رہا ہے جو 29 ستمبر کو پشاور میں دہشت گردوں سے برآمد کیا گیا تھا۔ دہشت گردوں نے محرم کے دوران کئی حملوں کا منصوبہ بنایا تھا لیکن پولیس نے ان کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ [جاوید خان]


مذہبی علماء، پولیس اور معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے پاکستانی 28 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں امن کے لئے مارچ کر رہے ہیں۔ مارچ کرنے والے محرم کے دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا فروغ چاہتے ہیں۔ [ڈیرہ اسماعیل خان پولیس]

مذہبی علماء، پولیس اور معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے پاکستانی 28 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں امن کے لئے مارچ کر رہے ہیں۔ مارچ کرنے والے محرم کے دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا فروغ چاہتے ہیں۔ [ڈیرہ اسماعیل خان پولیس]

انہوں نے کہا کہ جہاں انتظامیہ کو دہشت گردی کے خطرہ کی اطلاعات تھیں، ان تمام حساس اضلاع میں "فول پروف" سیکورٹی کے انتظامات موجود تھے۔

محسود نے کہا "تمام علاقائی اور ضلعی پولیس افسران کو حکم دیا گیا کہ عاشورہ کے اجتماعات اور جلوس کی سیکورٹی کے لئے کوئ بھی خلاء نہ چھوڑا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا، امن عامہ برقرار رکھنے میں پاکستان آرمی کے ساتھ فرنٹیئڑ کور اور فرنٹیئر کانسٹبلری کی پولیس کی معاونت کی بدولت پشاور میں سیکورٹی" بے مثال" تھی۔

محرّم کے لیےسخت سیکیورٹی

9ویں اور 10ویں محّرم کو جب شعیہ مسلمان حضرت محمّد ﷺ کے نواسے، حضرت امام حسین ؑ کی شہادت کا سوگ مناتے ہیں، ان سیکیورٹی اقدامات کے جزُ کے طور پر حکام نے پشاور کے ساتھ ساتھ کراچی، حیدرآباد، ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ ہری پور، مردان اور پنجاب اور بلوچستان کے بعض حصّوں میں موبائل فون سروس بند کر دی۔

آشورہ کے جلوسوں اور اجتماعات کے دوران سیکیورٹی کی نگرانی کے لیے سیکیورٹی فورسز نے پشاور میں ایک سنٹرل سیکیورٹی کمانڈ پوسٹ اور پانچ سیٹلائیٹ کمانڈ پوسٹس تشکیل دیں۔ سیکیورٹی کی نگرانی کے لیے پولیس اور فوج کے اعلیٰ افسران دن رات ان پوسٹس میں موجود رہے۔

محسود نے کہا کہ حکام نے تمام حسّاس اضلاع کو یکساں اہمیت دی۔

آئی جی پی نے عاشورہ سے قبل سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ، پشاور، مردان اور دیگر حساس اضلاع کا دورہ کیا۔

پشاور کے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر محمّد طاہر نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”پشاور میں تقریباً 10,000 پولیس اہلکار تعینات تھے، انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے تجارتی مراکز کو سیل کر دیا اور سڑکوں کو بند کر دیا تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ عاشورہ کے جلوس اور اجتماعات کسی سانحہ کے بغیر واقع ہو سکیں۔“

انہوں نے کہا، ”یہ ہزاروں پولیس اہلکاروں، دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں اور محکموں کے عملہ اورسوسائٹی کے بزرگوں اور میڈیا کی وجہ سے ممکن ہوا کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔“

کے پی کے حسّاس ترین اضلاع، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی عاشورہ پر امن طور پر گزر گیا۔

ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ریجنل پولیس آفیسر سیّد فدا حسین شاہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”پورے محرّم میں دیگر فورسز کے ساتھ پولیس کی جانب سے کیے گئے سیکیورٹی اقدامات کی وجہ سے ڈیرہ اسماعیل خان میں تمام مجالس و اجتماعات پرامن طور پر مکمل ہوئے۔“

اقدامات کی ستائش

پاکستان کے وزیرِ داخلہ احسن اقبال نے اتوار (یکم اکتوبر) کو سیکیورٹی تعاون کی تعریف کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ صوبائی حکومتوں، پولیس، مسلح افواج اور سیکیورٹی اہلکاروں نے عاشورہ کی مجالس کے پرامن ہونے کو یقینی بنا کر ایک ”اچھا کام“ کیا ہے۔

جیو نیوز کے مطابق، وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے عاشورہ کے دوران سیکیورٹی حکام کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ”خدا کا شکر ہے کہ عاشورہ کی مجالس پرامن طور پر منعقد ہوئیں اور کوئی ناخوشگوار سانحہ نہیں پیش آیا۔“

پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے یکم اکتوبر کو ایک بیان میں کہا، ”اس موقع پر آگے بڑھ کرمحرّم کے دوران امن کو یقنی بنانے کے لیے میں کابینہ کمیٹی برائے امنِ عامہ، پولیس، فوج، نفاذِ قانون کی ایجنسیوں، علمائے دین اور ملک کے عوام کا شکرگزار ہوں۔“

پشاور سے دیہی کاؤنسل کے ایک ناظم، نذیر محمّد نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”متعدد دھمکیوں کا سامنا کرنے کے باوجود امن قائم رکھ کر پولیس، فوج اور دیگر فورسز نے ایک حیرت انگیز کام کیا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ کئی افراد محرّم سے قبل خوف محسوس کر رہے تھے، لیکن پاکستان کی تمام سیکیورٹی فورسز، بطورِ خاص کے پی پولیس نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک سیکیورٹی تجزیہ کار برگیڈیئر (ریٹائرڈ) اسد منیر نے پاکستان میں ”گھٹتے ہوئے تشدد“ کی تعریف کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ” 2004 سے اب تک یہ پاکستان میں پرامن ترین محرّم تھا، نفاذِ قانون کی تمام ایجنسیوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر آفرین“۔

ناکام بنائے گئے دہشتگرد حملے

سیکیورٹی فورسز نےمحرّم سے قبل اور اس کے دوران متعدد منصوبہ شدہ دہشتگرد حملوں کو ناکام بناتے ہوئے ملزمان کو گرفتار اور اسلحہ و گولہ بارود ضبط کر لیا۔

ریاستی وزیر برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے یکم اکتوبر کو امن کے لیے کاوشوں پر تمام صوبائی اور وفاقی محکموں کی تعریف کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا، ”محرّم کے دوران اور اس سے قبل کئی کوششیں ناکام بنانا نفاذِ قانون کی ایجنسیوں کی ایک بڑی کامیابی تھی۔“

پشاور کے سینیئر سپرانٹنڈنٹ پولیس آپریشنز سجّاد خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”29 ستمبر کو پشاور میں یاسین آباد، چمکنی میں انٹیلی جنس اہلکاورں کے ہمراہ پولیس کے چھاپوں میں بڑے پیمانے پر دھماکہ خیز مواد بازیاب کرتے ہوئے کثیر حملوں کو ناکام بنایا گیا۔“

بازیاب کیے گئے دھماکہ خیز مواد میں فی آلہ 15 کلوگرام وزنی دو دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈیز)، 56 کلوگرام دھماکہ خیز مواد، مقناطیس بم، 287 ڈیٹونیٹر، ڈائنامائٹ، سات دستی بم اور دیگر گولہ بارود شامل ہیں۔

خان نے کہا، ”]چمکنی میں چھاپہ کے دوران[ا یک بین الاقوامی نیٹ ورک کے ساتھ منسلک دو دہشتگرد گرفتار کیے گئے، جبکہ ان کا ایک ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا،“ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس تیسرے شخص کا پیچھا کر رہی ہے۔ انہوں نے تینوں ملزمان کے دہشتگرد تنظیم سے تعلق کی شناخت نہیں بتائی۔

دیگر آپریشنز میں 27 ستمبر کو پولیس نے حیات آباد کے قریب ایک کار میں منتقل کیے جا رہے 6 کلوگرام وزنی دیسی ساختہ آلہ کو ناکارہ بناتے ہوئے ایک شخص کو گرفتار کر لیا۔ اور پولیس کے مطابق، 26 ستمبر کو پشاور کے قریب ایک دہشتگرد ملزم کو 6 کلوگرام دھماکہ خیز مادہ قبضہ میں رکھے ہوئے گرفتار کیا گیا، جسے وہ اس شہر کو منتقل کر رہا تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha