|

دہشتگردی

حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کے بعد داعش مزید 'موت تک جنگ' کے لئے تیار نہیں

ایک پاکستانی تھنک ٹینک کا کہنا ہے داعش کا شام لبنان سرحد پر ذلت آمیز شکست کے بعد محفوظ راہداری کا معاہدہ کرنا اشارہ ہے کہ گروہ جنگ جاری رکھنے کے قابل نہیں یا جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتا۔

جاوید محمود


شامی جمہوری افواج کے ارکان 24 ستمبر کو رقہ کے مشرقی محاذ پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد رقص کرتے ہوئے۔ اتحادی فورسز کی پشت پناہی میں شامی جنگجو داعش کے تباہ ہوتے گڑھ میں چھپے ان کے بچے کچھے ارکان سے رقہ واگزار کرانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔ [بیولینٹ کیلیک/اے ایف پی]

شامی جمہوری افواج کے ارکان 24 ستمبر کو رقہ کے مشرقی محاذ پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد رقص کرتے ہوئے۔ اتحادی فورسز کی پشت پناہی میں شامی جنگجو داعش کے تباہ ہوتے گڑھ میں چھپے ان کے بچے کچھے ارکان سے رقہ واگزار کرانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔ [بیولینٹ کیلیک/اے ایف پی]

اسلام آباد – اسلام آباد انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز (آئی ایس ایس آئی) کی شائع شادہ ایک رپورٹ کے مطابق "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کی حکمت عملی میں حالیہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ دہشت گردی کا نیٹ ورک عالمی سطح پر اپنے آخری دم پر ہے۔

15 ستمبر کی رپورٹ میں لبنان اور شام کی سرحد پر ہونے والی حالیہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ "داعش جس نے ایک وقت موت تک جنگ کی قسم کھائی تھی اب اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لاتی دکھائی دے رہی ہے۔"

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشترکہ شام اور لبنان بارڈر پر اگست میں ہونے والی ایک چھ روزہ جنگ میں داعش کو ذلت آمیز شکست کا سامنا ہوا۔

پبلک ریڈیو انٹرنیشنل نے خبر دی ہے کہ داعش کے باقی رہ جانے والے 300 سے زیادہ ارکان اور اتنے ہی ان کے رشتہ داروں نے اپنے لئے عراقی سرحد کے نزدیک شام کے شہر دیر الزور تک محفوظ راستہ دینے کے لئے معاہدہ کیا ہے۔

آئی ایس ایس آئی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے "'موت تک جنگ' کی اس حکمت عملی میں تبدیلی سے ہتھیار ڈالنے اور محفوظ راستہ دینے کا مطالبہ داعش کی حکمت عملی میں تبدیلی کی نشاندہی ہے۔"

رپورٹ کے مصنف آئی ایس ایس آئی کے ریسرچ ایسوسی ایٹ محمد عباس حسن کے مطابق، "گروہ اب بچنے کی کوششوں میں پھنسا ہوا ہے۔"

آئی ایس آئی ایس کی قوت کو جھٹکا

مذاکرات، "داعش کو ختم ہونے کے ایک قدم اور نزدیک لے آئے ہیں،" انہوں نے بتایا۔ "معاہدے نے گروہ کے خلاف برسرپیکار افواج کویہ امید بھی دلائی کہ آخرکار اب اسے شکست دی جاسکے گی۔"

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے سابق سیکیورٹی سیکریٹری، پشاور سے تعلق رکھنے والے برگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”چند عالمی قوّتوں کی مداخلت نے شام میں داعش کی طاقت کو جھٹکا پہنچایا ہے، جس نے عالمی طور پر اس تنظیم کو کمزور کر دیا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ عراقی اور شامی سیکیورٹی فورسز نے داعش کے خلاف بے باکی سے کاروائی کی ہے۔ ”یہ بھی ایک وجہ ہے کہ اب اس بدنام عسکریت پسند گروہ کو بقا کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔“

شاہ نے کہا، ”اپریل میں افغانستان میں داعش اور طالبان کے خلاف خونریز تنازعات بھی اس امر کی ایک علامت تھے کہ داعش مشکل میں تھی اور خود کو وہاں طویل عرصہ کے لیے برقرار نہ رکھ سکے گی۔“

نہوں نے کہا کہ صوبہ جاوزان، افغانستان میں علاقہ کے ایک تنازعہ میں 70 سے زائد طالبان اور 15 داعش لڑاکا مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ طالبان نے نہ تو داعش میں شمولیت اختیار کی اور نہ ہی ان کے نظریہ کو تسلیم کیا، داعش کی افغانستان میں بقا --اور پاکستان میں اس کے نفوذ کی صلاحیّت – خطرہ میں پڑ گئی ہے۔

شاہ نے کہا کہ انسدادِ شورش کے فروری میں شروع ہونے والے آپریشن ردّالفساد نے پہلے ہی پاکستان میں عسکریت پسند تنظیموں کی کمر توڑ دی ہے، انہوں نے مزید کہا، ”داعش عالمی طور پر مشکل گھڑی کا سامنا کر رہی ہے، کہا جا سکتا ہے کہ یہ دہشتگرد گروہ جلد یا بدیر منتشر ہو جائے گا۔“

داعش کی فنائے ابدی

انہوں نے کہا کہ شام اور عراق میں داعش کی شکستیں شورشیوں کی جانب سے لڑنے کے لیے ان ممالک میں نقل مکانی کرنے کے لیے نوجوان گمراہ پاکستانیوں کی حوصلہ شکنی کریں گی۔

اسلام آباد اساسی تھنک ٹینک پاکستان ادارہ برائے علومِ تنازعات و سلامتی کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں داعش کی موجودگی نہیں ہے، تاہم اس گروہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی کمین گاہوں سے باہر چند مقامی شرکاء اور ”آزاد لڑاکا“ حمایتیوں کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”داعش عراق اور شام میں مرکزی خلافت کے طور پر شکست کھا سکتی ہے، لیکن اس کی شاخیں پاکستان اور افغانستان سمیت دنیا کے مختلف حصّوں میں مصیبت کا ایک ذریعہ بنی رہیں گی۔“

انہوں نے کہا، ”داعش ایک عالمی خدشہ بنی رہے گی، اور اس کے نطریہ سے متاثرہ افراد یہاں وہاں حملے کرتے رہیں گے۔“

آئی ایس ایس آئی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ان وجوہات کی بنا پر داعش سے مذاکرات کرنے کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیئے۔

اس میں کہا گیا، ”تشکیلِ نو کی اجازت دیے جانے پر یہ گروہ مزید وحشیانہ قوّت کے ساتھ واپس آ سکتا ہے۔ ایسے واقعات کو روکنے اور امن کی ایک شرطِ لازم کے طور پر داعش کو سرے سے ختم کیے جانے کی ضرورت ہے۔“

رپورٹ میں ؒخلاصہ کیا گیا کہ ”]اس[نام نہاد خلافت کے مدھم ہوتے شعلے کو بجھائے جانے کی ضرورت ہے۔“

سیکیورٹی تجزیہ کار اور کراچی میں روزنامہ پاکستان کے مدیرِ ساکنی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”بین الاقوامی طاقتوں کو ذیلی جنگوں اور عسکریت پسندی کی حوصلہ شکنی اور دنیا بھر میں خونریزی کے خاتمہ کے لیے داعش کے خلاف ایک جارحانہ کاروائی کے آغاز کے لیے متحد ہو جانا چاہیئے۔“

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 6

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

Omer Hafeez | 10-05-2017

شاندار تجزیہ ہے اور کرائے کے سپاہی اور ضمنی جنگوں کی حقیقت دہشتگردی کی منڈی کی ایک فرینچائز جیسی ہے اوریہ خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایک ہی چھتری تلے آتی ہے۔


انتخاب

ٹی ٹی پی کے مستقبل کے لیے ملا فضل اللہ کی موت کا کیا مطلب ہے؟

نتائج