2017-09-15 | صحت

پاکستان نے کرم ایجنسی میں طبی امداد فراہم کرنے والے گروپ کو کام کرنے سے روک دیا

پاکستان فارورڈ

حکومت نے ڈاکٹرز ودآوٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کو قبائلی علاقوں میں کام جاری رکھنے کے لیے درکار نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کی تجدید کرنے سے انکار کر دیا ہے۔


نصیر آباد ڈسٹرکٹ، بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں خیراتی تنظیم ڈاکٹرز ودآوٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کی طرف سے سات ستمبر 2016 کو لگائے جانے والے گشتی فیڈنگ سینٹر پر، ماہ پری اپنے بیٹے گل میر کو اٹھائے ہوئے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے۔ پاکستانی حکام نے ایم ایس ایف سے کہا ہے کہ وہ کرم ایجسنی میں اپنی طبی سہولیات کو بند کر دیں۔ ]سارہ فرید/ اے ایف پی[
نصیر آباد ڈسٹرکٹ، بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں خیراتی تنظیم ڈاکٹرز ودآوٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کی طرف سے سات ستمبر 2016 کو لگائے جانے والے گشتی فیڈنگ سینٹر پر، ماہ پری اپنے بیٹے گل میر کو اٹھائے ہوئے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے۔ پاکستانی حکام نے ایم ایس ایف سے کہا ہے کہ وہ کرم ایجسنی میں اپنی طبی سہولیات کو بند کر دیں۔ ]سارہ فرید/ اے ایف پی[
نصیر آباد ڈسٹرکٹ، بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں خیراتی تنظیم ڈاکٹرز ودآوٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کی طرف سے سات ستمبر 2016 کو لگائے جانے والے گشتی فیڈنگ سینٹر پر، ماہ پری اپنے بیٹے گل میر کو اٹھائے ہوئے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے۔ پاکستانی حکام نے ایم ایس ایف سے کہا ہے کہ وہ کرم ایجسنی میں اپنی طبی سہولیات کو بند کر دیں۔ ]سارہ فرید/ اے ایف پی[

حکومت نے ڈاکٹرز ودآوٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کو قبائلی علاقوں میں کام جاری رکھنے کے لیے درکار نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کی تجدید کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

پشاور -- پاکستانی حکام نے خیراتی گروپ ڈاکٹرز ودآوٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) سے کہا ہے کہ وہ کرم ایجسنی اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں اپنی طبی سہولیات کو بند کر دیا۔ یہ بات تنظیم نے بدھ (13 ستمبر) کو بتائی۔

پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکیوں اور تنظیموں کے لیے مخصوص علاقوں میں کام کرنے کے لیے حکومت سے نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) لینا لازمی ہوتا ہے۔

ایم ایس ایف نے کہا کہ حکومت نے اس کے این او سی کی تجدید کرنے سے انکار کر دیا جس کے باعث اسے ڈسٹرکٹ، جو کہ افغانستان کی سرحد کے قریب پاکستان کے شورش زدہ شمال مغرب میں واقع ہے، میں اپنے صحت عامہ کے منصوبوں کو روک دینا پڑا ہے۔

گروپ کی ملک کی نمائندہ کیتھرین موڈی نے ایک بیان میں کہا کہ "ایم ایس ایف کو کرم ایجنسی میں کام کرنے والی این جی اوز کے ذمہ دار حکام کے فیصلے سے دکھ ہوا ہے"۔

قبائلی ڈسٹرکٹس پاکستان کے غریب ترین علاقوں میں سے ہیں اور ان پر ایک صدی سے زیادہ پہلے برطانوی نوآبادی کی طرف سے متعارف کروائے جانے والے سخت گیرقانونی نظام کے تحت حکومت کی جاتی ہے۔

کرم کے ایک سینئر حکومتی اہلکار نے تصدیق کی کہ ایم ایس ایف کو اپنے اجازت نامے کے ختم ہو جانے کے بعد، ڈسٹرکٹ میں کام بند کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

اہلکار نے اے ایف پی کو جمعرات (14 ستمبر) کو بتایا کہ "انہیں اپنے اجازت نامے کی تجدید تک کام بند کرنے کے لیے کہا گیا ہے"۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکام ملک بھر میں اور خصوصی طور پر قبائلی علاقوں میں غیر ملکی این جی اوز پر گہری توجہ دے رہے ہیں۔

جمعرات (14 ستمبر) کو فاٹا ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ کے ایک افسر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا ہے کہ قانون کے تحت علاقے میں امن و امان کے استحکام کی کوشش کے طور پر نان پرافٹ آرگنائزیشنز اپنےعملے کی بھرتی کے لئے مقامی حکام سے رابطہ کرنےکے پابند ہیں، لیکن ایم ایس ایف نے اس کی پابندی نہیں کی، لہٰزا گروپ کے اجازت نامے کی تجدید نہیں کی گئی۔

ایم ایس ایف نے کہا کہ حکام نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ان کے اجازت نامے کو ایک ایسے علاقے میں مسترد کیوں کیا گیا ہے جہاں وہ 14 سالوں سے طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

اگرچہ عسکریت پسندوں کے خلاف فوج کی مہمات کے ایک سلسلے کے بعد، پاکستان میں تشدد کے واقعات میں حالیہ سالوں میں کمی آئی ہے مگر کرم ابھی تک عسکریت پسند گروہوں کا ابھی تک اہم ترین ہدف رہا ہے۔

شعیہ اکثریت والی قبائلی ڈسٹرکٹ کا دارالحکومت، پارا چنار، جون میں اس وقت قتل و غارت کا منظر بن گیا تھا جب عید الفطر کی تقریبات سے چند دن پہلے اس کے پر ہجوم بازار میں جڑواں دھماکے ہوئے تھے۔

مقامی خبروں کے مطابق، اس حملے میں، جس کی ذمہ داری لشکرِ جھنگوی (ایل ای جے) نے قبول کی تھی، کم از کم 72 افراد ہلاک اور تقریبا 200 زخمی ہو گئے تھے۔

اس حملے سے پہلے، طالبان کار بم نے 31 مارچ کو شہر میں ایک اور بازار کو نشانہ بنایا جس میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہوئے اور 21 جنوری کو دہشت گردوں نے ایک سبزی منڈی کو نشانہ بنایا جس میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہو گئے۔

ایم ایس ایف کی پاکستان میں طویل تاریخ

ایم ایس ایف کی پاکستان میں قدرتی آفات، تنازعات اور ناکافی صحت عامہ کی سہولیات سے متاثر ہونے والی برادریوں کے ساتھ 30 سال سے کام کرنے کی طویل تاریخ ہے۔

یہ گروہ 2004 سے کرم میں کام کر رہا ہے جہاں وہ 5 سال سے کم عمر کے بچوں کے آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ اور 12سال تک کی عمر کے شدید بیمار بچوں کے ان پیشنٹ ڈپارٹمنٹ کا ذمہ دار تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ "ہم جس حد تک ممکن ہوا فاٹا کی خواتین کو زچگی اور نوزائیدہ سہولیات، پشاور میں واقع ایم ایس ایف کے ویمنز ہسپتال کے ذریعے فراہم کرنے کی کوشش کریں گے"۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے صدر ڈاکٹر قیصر راشد نے کرم میں ایم ایس ایف کی مہمات کو روکنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایم ایس ایف بین الاقوامی طور پر محترم ادارہ ہے جس نے دنیا بھر میں تنازعات کے شکار علاقوں میں کمزور اور محروم افراد کو صحتِ عامہ کی سہولیات فراہم کی ہیں۔

راشد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اس کی سرگرمیوں کا بند ہو جانا قبائلی علاقوں کی آبادی کو بہت متاثر کرے گا جس نے پہلے ہی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں بہت زیادہ مصائب اٹھائے ہیں۔ ایم ایس ایف کو ضرورت مندوں کو صحت عامہ کی سہولیات فراہم کرنا جاری رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے"۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں ایم ایس ایف کی سرگرمیوں کی حفاظت کرے۔

انہوں نے کہا کہ "ایم ایس ایف عسکریت پسندی کے شکار علاقوں میں سرگرمی سے کام کر رہی ہے اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں زچہ و بچہ کی طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ پی ایم اے، ایم ایس ایف کے خلاف دی جانے والی دھمکیوں کی سخت مذمت کرتی ہے اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس کے کام کو دھمکیاں دینے والوں اور اس کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے والوں کا خاتمہ کریں"۔

[پشاور سے اشفاق یوسف زئی نے اس خبر کی تیاری میں حصہ لیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو قابو میں لانے کے لیے پاکستان – افغانستان سرحد پر مستقبل میں لگنے والی باڑ کس قدر مؤثر ہو گی؟

نتائج