2017-08-29 | مذہب

عید الاضحی سے قبل پاکستان کا غیر قانونی عطیات پر کریک ڈاون

اشفاق یوسف زئی

حکام انتہاپسند گروہوں کو نادانستہ طور پر دیے جانے والے خیراتی عطیات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


عیدالاضحی سے پہلے، 23 اگست کو پشاور میں ایک پاکستانی شخص ایک گائے کے دانت دیکھ رہا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان عید الاضحی منانے کی تیاری کر رہے ہیں جو خدا کی فرمانبرداری میں اپنے بیٹے کی قربانی دینے پر حضرت ابراہیم کی رضامندی پر منائی جاتی ہے۔ ]عبدل مجید/ اے ایف پی[
عیدالاضحی سے پہلے، 23 اگست کو پشاور میں ایک پاکستانی شخص ایک گائے کے دانت دیکھ رہا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان عید الاضحی منانے کی تیاری کر رہے ہیں جو خدا کی فرمانبرداری میں اپنے بیٹے کی قربانی دینے پر حضرت ابراہیم کی رضامندی پر منائی جاتی ہے۔ ]عبدل مجید/ اے ایف پی[
عیدالاضحی سے پہلے، 23 اگست کو پشاور میں ایک پاکستانی شخص ایک گائے کے دانت دیکھ رہا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان عید الاضحی منانے کی تیاری کر رہے ہیں جو خدا کی فرمانبرداری میں اپنے بیٹے کی قربانی دینے پر حضرت ابراہیم کی رضامندی پر منائی جاتی ہے۔ ]عبدل مجید/ اے ایف پی[

حکام انتہاپسند گروہوں کو نادانستہ طور پر دیے جانے والے خیراتی عطیات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پشاور -- پاکستانی حکام نے آنے والی عید الاضحی کو منانے کے دوران بہت سے بنیاد پرست گروہوں پر جانوروں کی کھالوں کو جمع کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ عید کی تقریبات کا آغاز 2 ستمبر سے ہو گا۔

گزشتہ سال پنجاب اور سندھ صوبوں نے اس سے مماثل پابندی لگائی تھی تاکہ انتہاپسند گروہوں کو اس پرکشش کاروبار میں شامل ہونے سے روکا جا سکے۔

یہ حکم، جسے وزارتِ داخلہ نے 24 اگست کو جاری کیا ہے، دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری کو ختم کرنے کی مجموعی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس میں 65 کالعدم تنظیموں کی فہرست دی گئی ہے جس میں لشکرِ جھنگوی، سپاہ صحابہ پاکستان اور بہت سی دوسری تنظیمیں شامل ہیں۔

اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ "صرف وہ تنظیمیں کھالیں جمع کر سکتی ہیں جنہوں نے اپنے متعلقہ علاقوں کے ڈپٹی کمشنر سے این او سیز (نو ابجیشکن سرٹیفکیٹ) حاصل کیے ہیں"۔

حکومت نے متنبہ کیا ہے کہ حکام کھالوں کو جمع کرنے کے کام کی کڑی نگرانی کریں گے اور خلاف ورزیوں کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا جائے گا۔

پشاور کے ایک صحافی اور سیکورٹی کے تجزیہ نگار عقیل یوسف زئی نے کہا کہ عید اور رمضان کے دوران عطیات جمع کرنا جو کہ اکثر نادانستہ طور پر ایسے عطیہ دینے والوں کی طرف سے ہوتے ہیں جو انتہاپسند تنظیموں کی طرف سے استعمال شدہ نئے ناموں کو پہچان نہیں پاتے، بنیاد پرست گروہوں کے لیے آمدنی کا مرکزی ذریعہ ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "جب تک ان تنظیموں کو سرمایے کی فراہمی کو ختم نہیں کیا جاتا ۔۔۔ ملک سے دہشت گردی کو ختم کرنے کا مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا"۔

پشاور کی مہابت خان مسجد کے مرکزی خطیب مولانا محمد طیب نے کہا کہ "لوگوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ انسانی فلاح کے لیے کام کرنے والے نیک نام اداروں کو ہی عطیہ دیں"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ درجنوں نیک نام خیراتی ادارے اور مذہبی تنظیمیں انسانیت کی خدمت کے لیے پرخلوص کوششیں کر رہی ہیں اور وہ عطیات کی حق دار ہیں۔

خیبر پختونخواہ نے گھیرا تنگ کر دیا

عید الاضحی سے پہلے ملک بھر میں کوششیں کی جا رہی ہیں جب کہ خیبر پختونخواہ (کے پی) جیسے صوبے عمومی طور پر دہشت گردوں کے لیے سرمایے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جولائی کے آخیر میں، کے پی کے داخلہ اور قبائلی امور کے ڈپارٹمنٹ نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کو غیر قانونی عطیات کی نگرانی کرنے کے بارے میں تحریری ہدایات دی تھیں۔

داخلہ اور قبائلی امور کے لیے کے پی کے سابقہ سیکریٹری برگیڈیر (ریٹائرڈ) محمود شاہ، جن کا تعلق پشاور سے ہے، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یہ بروقت قدم ہے کہ وسائل کے اس سلسلے کو بند کیا جائے جس سے مختلف دہشت گرد تنظیمیں، عام آدمیوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے تخریب کے کاموں کے لیے سرمایہ حاصل کرتی ہیں"۔

پشاور کے ریٹائرڈ پولیس افسر حیات الرحمان اس سے اتفاق کرتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "تمام دہشت گردوں کو دھماکہ خیز مواد خریدنے، گاڑیاں حاصل کرنے اور انسانی وسائل اور اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں عطیات پر انحصار کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "وہ خیراتی ادارے چلانے یا مذہبی اسکول چلانے میں مدد کرنے کی اداکاری کرتی ہیں"۔

آگاہی پیدا کرنا، آڈٹ کرنا

کے پی نے عوام کو دہشت گردی کے لیے سرمایہ حاصل کرنے کے بارے میں آگاہی کی مہم کا آغاز کیا ہے۔

پشاور کے ایک سنیئر سپریٹنڈنٹ آف پولیس ساجد خان نے کہا کہ "ہم نے متعلقہ ڈپارٹمنٹ سے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر عطیات جمع کرنے کی لہر کا خاتمہ کرنے کے لیے عوامی آگاہی کی مہم شروع کرے"۔

انہوں نے کہا کہ نئی ہدایات کے تحت، کے پی پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے مسجدوں اور مدرسوں کے لیے عطیات جمع کرنے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

خان نے مزید کہا کہ "ہم ان خیراتی اداروں کے عطیات کے ذرائع پر غور کر رہے ہیں جو کے پی حکومت کے پاس رجسٹر ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ صرف ان خیراتی اداروں اور دیگر تنظیموں کو عطیات جمع کرنے کی اجازت ہو گی جو حکومت کے پاس رجسٹر ہیں۔

کے پی کے وزیرِ اطلاعات شاہ فرمان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ رجسٹریشن کروانے کی شرط کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جو گروہ عطیات جمع کر رہا ہے اس کا باقاعدگی سے آڈٹ ہو۔

فرمان نے مزید کہا کہ کے پی پولیس اسٹیشنوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والی تنظیموں کے خلاف مقدمات درج کریں۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے تجزیہ کار خادم حسین نے کہا کہ ایسے اقدامات سیکورٹی میں اس بہتری کو حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہیں جس سے پاکستان حالیہ سالوں میں لطف اندوز ہوا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یہ بہت ضروری ہے کہ ہم انتہاپسندوں کو غیر قانونی طور پر سرمایہ حاصل کرنے سے روکیں۔ ماضی میں اس سے دہشت گردی کو سپانسر کیا گیا تھا"۔

[عدیل سید نے اس خبر کی تیاری میں حصہ لیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج