|

دہشتگردی

افغانستان میں عسکریت پسندوں کو دھوکے سے یقین دلایا گیا کہ ان کا مقصد درست ہے

مشاہدین کا کہنا ہے کہ طالبان اور داعش کے سرگرم کارکن غیر موزوں طور پر بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتے اور ملک کی معیشت کے نقصان پہنچاتے ہیں اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیمان


افغان سیکورٹی اہلکار 17 جولائی کو اس طالبان عسکریت پسند کی لاش کے گرد اکٹھے ہیں جسے نواں ڈسٹرکٹ، ہلمند صوبہ میں سیکورٹی کے ایک آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا۔ ]نور محمد/ اے ایف پی[

افغان سیکورٹی اہلکار 17 جولائی کو اس طالبان عسکریت پسند کی لاش کے گرد اکٹھے ہیں جسے نواں ڈسٹرکٹ، ہلمند صوبہ میں سیکورٹی کے ایک آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا۔ ]نور محمد/ اے ایف پی[

کابل -- مشاہدین کا کہنا ہے کہ طالبان اور "دولِت اسلامیہ" (داعش) کے بہت سے عہدہ دار اور ارکان یقین رکھتے ہیں کہ ان کے کام درست ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ انہیں بے وقوف بنایا گیا ہے کیونکہ وہ جس طرح کی پرتشدد کاروائیاں کرتے ہیں وہ غیر اسلامی ہیں اور افغانستان کے مفادات کے خلاف ہیں۔

پارلیمنٹ میں ہرات صوبہ کے ایک نمائندے فرہاد مجیدی نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "دہشت گرد گروہ، خصوصی طور پر طالبان جو خود کو افغان کہتے ہیں، افغانستان کی خوشحالی، سیکورٹی، امن یا ترقی کے لیے کام نہیں کرتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہا کہ "اس کے برعکس، وہ افغانستان کی تباہی اور پسماندگی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اگر اس کے برعکس درست ہے تو انہیں افغان عوام کے سامنے صرف ایک ہی ایسا واقعہ پیش کرنے کی ضرورت ہے جس میں انہوں نے افغانستان کے لیے کوئی اچھا کام کیا ہو"۔

مجیدی نے کہا کہ "طالبان اور داعش اسلامی امارت اور اسلامی خلافت ہونے کا دعوی کرتے ہیں مگر ان کے کام نہ تو اسلامی ہیں اور نہ ہی انسانی"۔

طالبان اور داعش کی طرف سے کیے جانے والے حملوں سے بے گناہ عوام کو غیر ضروری طور پر نقصان پہنچتا ہے۔

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، اس سال کے پہلے چھہ ماہ میں شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا جس دورانیے میں طالبان اور داعش کے عسکریت پسندوں نے 1,141 شہریوں کو ہلاک اور دیگر2,348 کو زخمی کیا۔

پارلیمنٹ میں کابل کی نمائندگی کرنے والی فاطمہ نظیری نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ رپورٹ میں "واضح طور پر دکھایا گیا ہے کہ اس سال کے پہلے چھہ ماہ کے دوران 600 سے زیادہ خواتین ہلاک یا زخمی ہوئی ہیں۔ اس سے گزشتہ سال کے مقابلے میں خواتین کی ہلاکتوں میں 23 فیصد اضافہ ظاہر ہوتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ جاری تشدد "اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے پاس افغان شہریوں کو ہلاک کرنے اور افغانستان کو تباہ کرنے کے علاوہ کوئی منصوبہ نہیں ہے"۔

دہشت گردانہ حملوں سے افغان معیشت کمزور

ان گروہوں کے اقدامات سے معیشت کو بھی تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وزارتِ معیشت کے ترجمان سہراب بہمان نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "طالبان اور دوسرے دہشت گردانہ گروہوں کی طرف سے افغان حکومت اور عوام کو بنیادی ڈھانچے، سہولیات اور عوامی منصوبوں کی تباہی کی صورت میں پہنچایا جانے والا نقصان 200 ملین ڈالر (13.7 بلین افغانی) سے زیادہ ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی طرف سے کیے جانے والے دہشت گردی کے حملوں کے باعث افغانستان میں غربت کی شرح 39 فیصد سے بڑھ گئی ہے۔ اس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں نوجوان افغان اپنے ملک کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں"۔

افغانستان کے ایوانِ صنعت و تجارت میں بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ آزارخش حافظی نے کہا کہ تشدد اور دہشت گردی نے افغانستان کی قانونی معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے جب کہ "غیر قانونی معیشت جیسے کہ منشیات کی کاشت اور تجارت سے ہونے والی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے جو کہ دہشت گرد گروہوں کے لیے آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے"۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "گزشتہ سال، جب قندوز شہر پر طالبان کا قبضہ ہوا تھا تو انہوں نے بازاروں اور دکانوں کو جلا دیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں طالبان کی طرف سے پیدا کیے جانے والے خوف اور دہشت کے باعث، تاجروں اور تجارتی اداروں نے صوبہ میں اپنا کاروبار اور سرمایہ کاری یا تو بند کر دیا تھی یا اسے محدود کر دیا تھا"۔

حافظی نے کہا کہ "اس وقت، مالی نقصان کا اندازہ لاکھوں کروڑوں ڈالر میں لگایا گیا تھا"۔

انہوں نے کہا کہ "قندوز، بغلان، ہلمند اور بہت سے دوسرے صوبوں میں جہاں ابھی بھی جنگ جاری ہے، زرعی سرگرمیوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ صوبے افغانستان میں سب سے زیادہ پیداوار دینے والے صوبے ہوتے تھے۔ تاہم، دہشت گردی اور جنگ نے ان صوبوں کو پہلے جیسی پیداوار دینے سے روکے رکھا ہے جس سے جی ڈی پی میں لاکھوں ڈالر کی کمی آئی ہے"۔

افغان افواج نے عسکریت پسندوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے

وزارتِ دفاع (ایم او ڈی) کے ترجمان جنرل دولت وزیری نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکورٹی فورسز (اے این ڈی ایس ایف) نے انسدادِ دہشت گردی کے روزانہ 20 سے 25 آپریشن کیے ہیں جس سے درجنوں طالبان اور دوسرے دہشت گرد روزانہ ہلاک ہوئے ہیں"۔

عسکریت پسندوں کے خلاف حالیہ کامیابیوں کی ایک مثال میں یکم اگست کا واقعہ شامل ہے جب افغان افواج نے 84 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جن میں 3 طالبان کمانڈر اور حقانی نیٹ ورک کے دس ارکان شامل تھے۔ انہیں ارزگان، فریاب، پکتیا اور قندھار صوبوں میں ہلاک کیا گیا"۔

اے این ڈی ایس ایف نے 30 جولائی کو گوہر، کاپیسا، ہلمند اور بدخشاں صوبوں میں 103 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ "26 جولائی کو مختلف مقامات پر 149 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جب کہ دیگر زخمی ہوئے"۔

وزیری کے مطابق، ہلاکتوں میں طالبان کے 45 ارکان نورسلطان صوبہ میں، داعش کے ننگرہار صوبہ میں ہلاک ہونے والے 8عسکریت پسند اور پکتیکا صوبے میں القاعدہ کے ہلاک ہونے والے 3 ارکان شامل ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 27

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

Zaman khan | 09-11-2017

وہ سب جھوٹ بول رہے ہیں۔ وہ امریکہ کے غلام ہیں۔


انتخاب

کیا نگران حکومت 25 جولائی کو شیڈول کردہ عام انتخابات کو صاف اور شفاف انداز میں کروانے کے قابل ہو گی؟

نتائج