| سفارتکاری

افغانستان کے یومِ آزادی پر پشاور میں امن، اتحاد کا پیغام

محمّد آہل


17 اگست، 2017 کو پشاور میں پاکستانی رجسٹریشن مرکز کے باہر افغان پناہ گزین اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ افغانستان کا 98 واں یومِ آزادی منانے کے لیے 19 اگست کو پشاور میں افغان کاؤنسل خانے کی جانب سے منظم کی گئی جشن کی ایک تقریب میں اظہارِ رائے کے مطابق، اگر ایک قوم کو چوٹ لگے تو دوسری اس کے درد کو محسوس کرتی ہے۔ [عبدالمجید/اے ایف پی]

17 اگست، 2017 کو پشاور میں پاکستانی رجسٹریشن مرکز کے باہر افغان پناہ گزین اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ افغانستان کا 98 واں یومِ آزادی منانے کے لیے 19 اگست کو پشاور میں افغان کاؤنسل خانے کی جانب سے منظم کی گئی جشن کی ایک تقریب میں اظہارِ رائے کے مطابق، اگر ایک قوم کو چوٹ لگے تو دوسری اس کے درد کو محسوس کرتی ہے۔ [عبدالمجید/اے ایف پی]

پشاور — ہفتہ (19 اگست) کو پشاور میں افغان اور پاکستانی معززین نے افغانستان کا 98 واں یومِ آزادی منایا جس کا موضوع دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تعاون تھا۔

پشاور میں افغان کاؤنسل خانے نے یہ تقریب منظم کی، جس میں سیاست دانوں، عام شہریوں اور پشاور میں تجارتی یا سفارتی موجودگی کے حامل متعدد ممالک سے نمائندگان نے شرکت کی۔

تقریب کے دوران پاکستان اور افغانستان سے حکام نے متفقہ طور پر دہشتگردی کے خلاف مربوط لڑائی کی ضرورت پر زور دیا جو کہ نتیجتاً امن اور ترقی کی جانب رہنمائی کرے گی۔

تقریب میں سنے گئے اظہار کے مطابق، اگر ایک قوم کو چوٹ لگے تو دوسری اس کے درد کو محسوس کرتی ہے۔

امن اور ترقی کے مطالبات

شیراز ارینا میں ایک پرتکلف تقریب میں افغان کاؤنسل جنرل عبداللہ وحید پویان نے اپنے ملک کے یومِ آزادی پر اپنی قوم کو مبارکباد دی اور اس کی آزادی کے لیے اس کے آباؤ اجداد کی جدوجہد کو یاد کیا۔

انہوں نے کہا، ”آج افغانستان کو سب سے زیادہ ضرورت امن کی ہے۔ معاشی اور معاشرتی بنیادی ڈھانچہ اس کے بعد آتا ہے۔“

انہوں نے کہا، ”پاکستان اور افغانستان کو پر امن طور پر رہنے اور دونوں ممالک کی بنیادوں کے لیے خطرہ بننے والے دشمن کو شکست دینے کے لیے ہاتھ ملانے ہوں گے۔ دہشتگردی کو اس کی تمام اقسام اور ہیئتوں میں شکست دینے کے لیے یہ ضرورتِ وقت ہے۔“

پویان نے کہا، ”اگر افغانستان غیرمستحکم ہے تو پاکستان درد محسوس کرے گا۔“

تقریب کے دوران عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے میاں افتخار حسین نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”دونوں ممالک میں امن مخالف عناصر کے خاتمہ کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کو اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنے اور اس امر کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ افغان اور پاکستانی سرزمین دہشتگرد نہ استعمال کریں۔“

انہوں نے کہا، ”پاکستان اور افغانستان کو یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ دہشتگردوں کا مقصد معصوم عوام کو قتل کرنا اور پشتونوں میں دہشت پھیلانا ہے۔ اچھے اور برے طالبان کا نظریہ دفن کر دیا جانا چاہیئے۔“

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں ترقی اور معاشی آسودہ حالی صرف اسی صورت آ سکتی ہے کہ جب دہشتگردی کی بیخ کنی کر کے امن بحال کیا جائے۔

سرحد کے دونوں جانب اعتماد کی تشکیل

قومی وطن پارٹی کے پشاور سے تعلق رکھنے والے رہنما ہاسم بابر نے کہا کہ امن اور آسودہ حالی کے لیے ہمسایوں کے مابین اعتماد کا قیام ضروری ہے۔

بابر نے تقریب کے دوران کہا، ”تاریخ گواہ ہے کہ اس سرزمین کے بہادر عوام کو کبھی شکست نہیں دی جا سکی۔ اگر وہ ہاتھ ملا لیں تو دہشتگردی کو شکست دے سکتے ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”ہمیں آئندہ نسلوں کے روشن مستقبل کے لیے معمولی تنازعات کو چھوڑ دینا ہو گا۔“

پاکستان بار کاؤنسل کے سربراہ عبد الطیف آفریدی نے پاکستان فاروڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”سرحد کے دونوں جانب کے پشتونوں کو یہ احساس ہونا چاہیئے کہ ان کے مستقبل کا وجود بحالیٔ امن پر منحصر ہے، اور وہ متحد ہو کر دہشتگردی کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں۔“

پشاور کے رہائشی رمیض نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ایک ہی چھت تلے پشتونوں کے حقیقی رنگ دیکھنا شاندار ہے۔ ہم بہت جنگ دیکھ چکے۔ ہم امن و ترقی چاہتے ہیں۔“

پشاور کے افغان نژاد کاروباری عبدالسلام افغان نے کہا، ”اب وقت ہے کہ ہم ہر اس شخص کے پیچھے جائیں جو کئی دہائیوں سے مذہب کے نام پر ہمیں قتل کر رہے ہیں۔“

ضلع نوشہرہ، خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی ایک گلوکارہ زارسنگہ نے شادمانی کی فضا میں اضافہ کرتے ہوئے پشتون لوگ گیت اور افغان ملّی نغمے پیش کیے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

15
3
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha