|

سلامتی

نسلی فسادات کے خلاف بلوچستان کا از سرِ نو وار

حکام کا کہنا ہے کہ چند مقامی عسکریت پسند گروہ عدم سلامتی پیدا کرنے اور اپنا جواز پیدا کرنے کے لیے داعش کا نام استعمال کرتے ہوئے فرقہ ورانہ حملے کر رہے ہیں۔

عبدل غنی کاکڑ


19 جولائی کو چھوٹو، صوبہ بلوچستان میں ایک شاہراہ پر مسلح افراد کے حملہ کے بعد پاکستانی سیکیورٹی اہلکار ایک شعیہ مسلمان خاندان کی ملکیتی، گولیوں سے چھلنی ایک گاڑی کا معائنہ کر رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق، اس فرقہ ورانہ حملے میں مسلح افراد نے خاندان کے چار افراد کو قتل کر دیا۔ [ایس ٹی آر/اے ایف پی]

19 جولائی کو چھوٹو، صوبہ بلوچستان میں ایک شاہراہ پر مسلح افراد کے حملہ کے بعد پاکستانی سیکیورٹی اہلکار ایک شعیہ مسلمان خاندان کی ملکیتی، گولیوں سے چھلنی ایک گاڑی کا معائنہ کر رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق، اس فرقہ ورانہ حملے میں مسلح افراد نے خاندان کے چار افراد کو قتل کر دیا۔ [ایس ٹی آر/اے ایف پی]

کوئٹہ — حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند بلوچستان میں فرقہ ورانہ اختلاف اور عدم سلامتی پیدا کرنے کی کوشش میں شہریوں اور آسان اہداف بطورِ خاص شعیہ ہزارہ برادری کے خلاف حملے تیز کر رہے ہیں۔

لیکن پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیاں جوابی کاروائی کر رہی ہیں۔

کوئٹہ میں ایک سینیئر انٹیلی جنس آفیسر علی حیدر درّانی نے پاکستان فاروڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”کالعدم تنظیموں سے وابستہ عسکریت پسند بلوچستان میں عدم سلامتی پیدا کرنا چاہتے ہیں، لیکن فرقہ ورانہ فسادات اور دہشتگردی پھیلانے کا مقصد کبھی بھی پورا نہ ہو سکے گا۔“

انہوں نے کہا، ”دہشتگرد بلوچستان کے ذریعہ ملک کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ ورانہ دہشتگردی پاکستان کے امن کے مقصد کے لیے تباہ کن ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہ رکھنے والے ”پاکستانی طالبان اور ان کے ذیلی عسکریت پسند گروہ“ فرقہ ورانہ قتل سمیت آسان اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے صوبہ میں از سرِ نو ظاہر ہونے کی کو شش کر رہے ہیں۔

درّانی نے کہا، ”سیکیورٹی فورسز کالعدم گروہوں اور ان کے تسہیل کاروں کی انسداد کے لیے موزوں اقدامات کر رہی ہیں۔“

نہوں نے عسکری آپریشن ردّالفساد کے آغاز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”22 فروری سے اب تک بلوچستان میں 13 [بڑے عسکری آپریشنز] اور انٹیلی جنس پر مبنی 208 آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔ عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد ماری جا چکی ہے اور عسکریت پسندوں کی کمین گاہوں سے اسلحہ اور گولہ بارود کی بڑی مقدار ضبط کی جا چکی ہے۔“

انہوں نے کہا، ”قیامِ امن و استحکام ریاست کا اولین مقصد ہے۔ عسکریت پسندوں کے خلاف جاری حملہ آخری عسکریت پسند کے خاتمہ تک جاری رہے گا۔“

دہشتگرد نیٹ ورک کا انہدام

کوئٹہ میں انسدادِ دہشتگردی شاخ میں ایک انٹیلی جنس عہدیدار عبداللہ عمر نے کہا، ”ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور دشمن ہمارے خطہ میں ایک ذیلی کھیل کی کفالت کر رہا ہے۔“

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ہزارہ برادری کے ارکان پر حملے بھی ہمارے قومی امن کے خلاف ایک سازش کا جزُ ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”صوبے میں تلاش اور حملے کے جاری آپریشنز میں بلوچستان میں عسکریت پسند گروہوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بڑی حد تک نابود ہو چکا ہے۔ ہمارے خطے میں نہایت محدود تعداد میں عسکریت پسند باقی بچے ہیں اور اب وہ بڑی حد تک خود کش حملوں پر منحصر ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ فرقہ ورانہ ہلاکتوں میں ملوث چند عسکریت پسند گروہ ”دولتِ اسلامیۂ“ (داعش) خراسان شاخ سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ بلوچستان میں داعش کے قدم جمانے میں شریک ہو سکیں۔

عمر نے کہا، ”عسکریت پسند گروہوں کے درمیان تعلق ثابت کرتا ہے کہ چند عسکریت پسند گروہوں کے مشترکہ اہداف ہیں؛ لہٰذا وہ متعدد بڑی سطح کے مربوط حملوں میں ملوث رہے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز اس امر کو یقینی بنائیں گی کہ ان کا نیٹ ورک ناکام ہو جائے۔

انہوں نے کہا، ”انٹیلی جنس ایجنسیاں غیرملکی مالیات پر چلنے والے دہشتگرد نیٹ ورکس کے لیے مکمل معاون نظام کو تباہ کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔“

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک سیکیورٹی تجزیہ کار محمّد ندیم نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا عزم ”ظاہر کرتا ہے کہ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح حکومت بلوچستان میں بھی کسی بھی طرح کی دہشتگردی برداشت نہیں کرے گی۔“

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”بدامنی کے شکار بلوچستان میں لاقانونیت پیدا کرنے کی [کوشش میں] غیرملکی دہشتگرد گروہ پہلے کبھی انتے فعال نہ تھے جتنے کہ اس وقت ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ اب نفاذِ قانون کی ایجنسیوں اور عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرنا ہمیشہ سے زیادہ اہم ہے۔

انہوں نے کہا، ”نسلی تنازعات سے نمٹنے کے لیے بلوچستان میں زمینی حقائق کو جانچنا نہایت اہم ہے۔ رہائشی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی کمین گاہیں عوامی حمایت کے بغیر ختم نہیں کی جا سکتی۔“

سرحدوں کی سخت نگرانی

اسلام آباد میں مقیم دفاعی تجزیہ کار جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود نے بتایا، عسکریت پسندوں کے منصوبے ناکام کرنے کے لئے پاکستان کو افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لئے مزید اقدامات کرنے چاہیئیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پاکستان پہلے ہی ایک جامع سرحدی انتظام کا نظام وضع کرچکا ہے تاہم، تبدیل ہوتی حرکیات پاکستان افغانستان سرحد کے آر پار آمدورفت کے تمام مقامات کو مضبوط بنانے کے لئے مزید ٹھوس اقدامات کی متقاضی ہیں۔"

انہوں نے بتایا، "عسکریت پسندی کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے تمام ریاستی اداروں کی کارگردگی ضرورت کے مطابق تسلی بخش نہیں ہے۔" دہشت گردوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے; یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اہداف تبدیل کر رہے ہیں۔ انتہاپسند گروہوں کے نیٹ ورک اور ان کے غیر ملکی رابطوں کا تباہ کیا جانا بہت اہمیت کا حامل ہے۔"

انہوں نے بتایا، "کچھ مقامی تنظیمیں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے داعش کے نام کا استعمال کر رہی ہیں۔"

"نظریاتی اور سیاسی جنگوں کو شکست دینے کے لئے تنہا فوجی آپریشنز کافی نہیں ہیں،" انہوں نے مزید بتایا۔ "ملک میں پروان چڑھنے والی عسکریت پسندی قومی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ [جنوری 2015 میں نافذ العمل] ہونے والا نیشنل ایکشن پلان ایسے خطرات سے نمٹنے کے لئے بہترین حکمت عملی ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 5

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج