|

حقوقِ نسواں

خیبرپختونخوا پولیس میں خواتین انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہیں

جولائی میں، رضوانہ حمید کے پی پولیس میں تمام مردوں پر مشتمل پولیس تھانے کی پہلی خاتون افسر بنیں۔

از جاوید خان


رضوانہ حمید 7 جولائی کو پشاور میں گلبرگ پولیس تھانے پر اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے۔ اس ہفتے وہ خیبرپختونخوا پولیس کی تاریخ میں پہلی بار تمام مردوں پر مشتمل تھانے کی سٹیشن ہاؤس افسر بنی تھیں۔ [جاوید خان]

رضوانہ حمید 7 جولائی کو پشاور میں گلبرگ پولیس تھانے پر اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے۔ اس ہفتے وہ خیبرپختونخوا پولیس کی تاریخ میں پہلی بار تمام مردوں پر مشتمل تھانے کی سٹیشن ہاؤس افسر بنی تھیں۔ [جاوید خان]

پشاور -- خیبرپختونخوا (کے پی) میں خواتین پولیس میں ایک مضبوط تر اور زیادہ نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں، جو کہ صوبے میں تمام مردوں پر مشتمل پولیس تھانے کی پہلی خاتون سٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) بن کر زیادہ نمایاں ہوئی ہیں۔

کے پی پولیس کی سب انسپکٹر رضوانہ حمید نے 7 جولائی کو یہ مثال قائم کی جب انہیں پشاور میں گلبرگ پولیس تھانے کی ایس ایچ او مقرر کیا گیا۔ وہ معمول کے ایس ایچ او، جو کہ چھٹی پر ہیں، کی واپسی تک ایس ایچ او کے فرائض عارضی طور پر انجام دیں گی۔

ساتھ ہی ساتھ رضوانہ پشاور میں خواتین کے پولیس تھانے کی ایس ایچ او کے فرائض بھی انجام دے رہی ہیں، ایک کردار جو انہوں نے تین سال پہلے ادا کرنا شروع کیا تھا۔ یہ پشاور میں واحد پولیس اسٹیشن ہے جس میں خصوصی طور پر خواتین تعینات ہیں اور اس کا مقصد صرف خواتین شکایت گزاروں کو خدمات فراہم کرنا ہے۔

خواتین کا ایک اور پولیس تھانہ ایبٹ آباد میں فعال ہے۔

خواتین پولیس اہلکاروں میں زیادہ اعتماد

گلبرگ میں رضوانہ کی تقرری تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ کے پی پولیس کے تمام مردوں پر مشتمل تھانے کی سربراہی ایک خاتون کر رہی ہیں۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز پشاور سجاد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ تقرری ہمیں بتائے گی کہ تمام مردوں پر مشتمل پولیس تھانوں کو خواتین کیسے چلاتی ہیں۔"

"ان کی کامیابی کے پی اور باقی پورے ملک میں خواتین کی آزادی میں دور تلک جائے گی،" کا اضافہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ خواتین جہاز اڑاتی ہیں، قوموں کی قیادت کرتی ہیں اور کسی بھی شعبے میں برتری حاصل کر سکتی ہیں۔

خان نے کہا کہ وہ اور ان کی ٹیم رضوانہ کو مکمل تعاون فراہم کریں گے تاکہ وہ جدوجہد کر سکیں اور دیگر خواتین پولیس اہلکاروں اور عمومی طور پر خواتین کے حوصلے بلند کر سکیں۔

انہوں نے کہا، "ہمیں امید ہے کہ وہ اچھا کام کریں گی۔"

رضوانہ پُراعتماد ہیں کہ وہ اپنے فرائض انجام دے سکتی ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "میں ایک طویل عرصے سے [پشاور میں] خواتین کا پولیس تھانہ چلاتی رہی ہوں۔ میں لوگوں کو مایوس نہیں کروں گی۔ میں تمام مردوں پر مشتمل ایک پولیس تھانے کی پہلی خاتون ایس ایچ او کے طور پر محنت کروں گی۔"

رضوانہ پولیٹیکل سائنس اور اسلامی تاریخ میں ماسٹر ڈگری کی حامل ہیں۔ انہوں نے 1996 میں بطور اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس محکمے میں شمولیت اختیار کی تھی۔

انہوں نے کہا، "خواتین نے ہر شعبے میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ وہ پولیس محکمے میں بھی ویسا ہی کام کر سکتی ہیں۔"

کے پی پولیس کی خواتین اہلکاروں کی جانب سے بہادری، قیادت کا مظاہرہ

رضوانہ کے گلبرگ پولیس تھانے کا انتظام سنبھال کر تاریخ رقم کرنے سے قبل، کے پی پولیس کی دیگر خواتین اہلکاروں نے بم ڈسپوزل کے خطرناک شعبے میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔

ان میں رافعہ قسیم بیگ شامل ہیں، جو سنہ 2016 میں کے پی پولیس کے بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) میں شامل ہونے والی پہلی خاتون بنی تھیں۔

کرک سے تعلق رکھنے والی بہنوں کی ایک تکون - رخسانہ، پروین (پری) اور ثمینہ گل -- نے فروری میں بی ڈی یو کی تربیت مکمل کی تھی۔ اس کامیابی سے قبل، تینوں بہنوں نے 2016 میں ایلیٹ کمانڈو تربیت حاصل کی تھی۔

فروری میں پشاور کے اندر رخسانہ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا، "ہم ملک کے دشمنوں کا تعاقب کرنے کے لیے محکمے میں شامل ہوئی ہیں،" انہوں نے مزید کہا کہ جب تینوں بہنوں نے کے پی پولیس میں شمولیت اختیار کی تھی تو انہوں نے خاندانی اور گاؤں کی جانب سے مزاحمت پر قابو پایا تھا۔

اسی موقع پر پری نے ذرائع ابلاغ کو بتایا، "دوسروں کی جانیں بچاتے ہوئے اگر مجھے موت بھی آ جائے تو کوئی پرواہ نہیں۔"

کے پی پولیس میں بہت سی دیگر خواتین اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

چند ماہ قبل، ارم عباسی پشاور میں مرکزی پولیس دفتر پر تربیت کی انچارک اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل بنی تھی۔

پورے کے پی میں کم از کم سات خواتین بطور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس خدمات انجام دے رہی ہیں: نورین نذیر، شہزادی نوشاد، انیلہ ناز، عصمت آرا، شازیہ شاہد، روزیہ الطاف اور حمیدہ بانو۔

پولیس کے ایک ٹریفک سپرنٹنڈنٹ، ریاض احمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ان کے میں سے تین پشاور ٹریفک پولیس میں تعینات ہیں۔

خواتین کو بہتر خدمات فراہم کرنا

کے پی پولیس خواتین شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوشاں رہی ہے۔

سنہ 2013 میں، انہوں نے پورے کے پی میں پولیس تھانوں پر خواتین کے استقبالیہ قائم کیے۔ ان استقبالیہ کا مقصد خواتین کو پولیس کی مدد حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے اگر وہ مرد افسران تک رسائی میں آرام دہ محسوس نہیں کرتیں۔

پشاور کے ایک صحافی قیصر خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "خواتین کے استقبالیہ قائم کرنا اور مزید خواتین کو پولیس کے مرکزی دھارے میں لانا اچھا ہے نہ صرف صوبے کے تشخص کے لیے بلکہ یہ خواتین شکایت گزاروں کی بھی مدد کرے گا جو مرد پولیس اہلکاروں تک رسائی کرنے میں ہچکچاتی ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ پشاور اور ایبٹ آباد میں خواتین کے دو پولیس تھانوں کو مزید فعال ہونے کی ضرورت ہے تاکہ وہ انصاف کی متلاشی خواتین کے لیے مزید بھی کام کر سکیں۔

انہوں نے کہا، "خواتین کو لازماً مزید مواقع ملنے چاہیئیں۔ انہوں نے محنت اور اخلاص کے ساتھ ہر شعبے میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج