|

صحت

افغانوں میں ایچ آئی وی/ایڈز کے خلاف جنگ کی کوششوں میں عسکریت کی جانب سے رخنہ اندازی

افغانستان میں نگہداشت صحت اور ایچ آئی وی/ایڈز سے متاثرہ افغان مریضوں کے لیے پاکستان کی امداد کی راہ میں عسکریت پسندی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اشفاق یوسفزئی


18 جولائی 2017 کو صوبہ پاکتیکا کے صدرمقام گردیز کے نواح، ضلع احمد آباد میں افغانستان کے طالبان ملیشیا کے جنگجو اپنے اسلحہ کے ساتھ چل رہے ہیں۔ مشاہدین کا کہنا ہے کہ طالبان کے صحت کلینکس اور تنصیبات پر معمول کے ساتھ حملوں کی وجہ سے یہ گروہ افغانستان میں ایچ آئی وی/ایڈز کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ ہیں۔ [فرید اللہ احمدزئی/اے ایف پی]

18 جولائی 2017 کو صوبہ پاکتیکا کے صدرمقام گردیز کے نواح، ضلع احمد آباد میں افغانستان کے طالبان ملیشیا کے جنگجو اپنے اسلحہ کے ساتھ چل رہے ہیں۔ مشاہدین کا کہنا ہے کہ طالبان کے صحت کلینکس اور تنصیبات پر معمول کے ساتھ حملوں کی وجہ سے یہ گروہ افغانستان میں ایچ آئی وی/ایڈز کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ ہیں۔ [فرید اللہ احمدزئی/اے ایف پی]

پشاور -- ایچ آئی وی/ایڈز پر اقوامِ متحدہ کے مشترکہ پروگرام (یو این ایڈز) نے تنبیہ کی کہ جنگ سے متاثرہ افغٖانستان میں ایچ آئی وی/ایڈز پر قابو پانے کی کوششوں کو پاکستان اور افغانستان میں موجود عسکریت پسند سبوتاژ کر رہے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے لیے یو این ایڈز کے کنٹری ڈائرئکٹر ڈاکٹر مامودو ایل سخو نے 11 جولائی کو پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”افغانستان میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی ایچ آئی وی/ایڈز کے مشتبہ مریضوں کی تلاش اور انہیں پاکستان میں علامتی علاج اور مشاورت فراہم کرنے کی کاوشوں کو سبوتاژ کر رہی ہے۔“

انہوں نے کہا، ”ہم نے افغانستان میں تقریباً 1,000 واقعات کا پتا چلایا ہے، لیکن اگر ہم تمام تر زد پزیر آبادی تک پہنچ کر چھان بین کریں تو مریضوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔“

ایکسپریس ٹربیون نے 2016 میں ایک بین الاقوامی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا پاکستان میں مشاہدہ کیا گیا کہ ایچ آئی وی/ایڈز سے ہونے والی اموات کی تعداد، جو کہ 2005 میں 360 تھی، 2015 میں بڑھ کر 1,480 ہو گئی۔

ڈان کے مطابق، سخو نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ایچ آئی وی/ایڈز پر تبادلۂ اطلاعات کر رہے ہیں کیوں کہ ان کے مسائل ایک جیسے ہیں، جیسا کہ وریدوں میں داخل کی جانے والی منشیات کے استعمال کنندگان اور اس بیماری کے مثبت ہونے پر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے ملک بدر کر دیے جانے والے تارکِ وطن کارکنان۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بیماری سے نمٹنے میں افغانستان کی مدد کرنے میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے، کیوں کہ اس کے پاس صحت کی بہتر سہولیات ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ سرحد کی دونوں جانب سیاسی عزم ایچ آئی وی/ایڈز کے خلاف کامیابی کی کنجی ہے۔

انہوں نے کہا، ”ہم نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انسداد سے متعلق معلومات کے پھیلاؤ اور مریضوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے دونوں ممالک میں مذہبی رہنماؤں کی حمایت داخلِ فہرست کی ہے۔“

انہوں نے کہا، ”ہم عوام کو اس بیماری کی ترسیل کے ذرائع اور متاثرین کو اپنے نام منظرِ عام پر آنے کے خوف کا باعث بننے والی بدنامی کے خاتمہ سے متعلق عوام کو آگاہ کرنے کے لیے مستحکم اور مؤثر وکالتی مہموں کے خواہاں ہیں۔“

عدم تحفظ نگہداشت صحت کے لیے رکاوٹ

افغانستان میں ایچ آئی وی/ایڈز کے واقعات تقریباً 0.001 فیصد ہیں، لیکن حکام کو خدشہ ہے کہ اگر مناسب اقدامات نہ کیے جائیں تو یہ بڑھ کر عوامی صحت کا ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

مسئلہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال ہے، جو شعبۂ صحت کے پیشہ وران کو تمام واقعات کو تلاش کرنے اور ان کی مشاورت اور علاج کے لیے موزوں اقدامات کرنے سے روکتی ہے۔

ایک عالمی وکالتی تنظیم، واچ لسٹ آن چلڈرن اینڈ آرمڈ کنفلکٹ کے مطابق، جنوری 2015 اور دسمبر 2016 کے درمیان افغانستان میں طبّی عملہ اور صحت کی تنصیبات پر 240 سے زائد حملے ہوئے۔

واچ لسٹ پریس ریلیز کے مطابق، واچ لسٹ میں ریسرچ آفیسر اور مارچ 2017 کی رپورٹ کی مصنّفہ کرسٹین موناغن نے کہا، ”طبّی تنصیبات پر ٹارگٹڈ حملوں نے افغانستان کے کمزور نظامِ صحت کو ہدف بنایا، جس سے متعدد شہریوں کو زندگی بچانے کے لیے نگہداشت کے حصول سے روک دیا گیا۔“

رپورٹ میں کہا گیا کہ اکثر حملوں کے لیے طالبان اور دیگر حکومت مخالف گروہ ذمہ دار تھے۔

واچ لسٹ کے مطابق، ان عناصر نے ”افغانستان بھر میں عارضی یا مستقل طور پر طبّی سہولیات بند کر دی ہیں، تنصیبات کو نقصان پہنچایا یا انہیں تباہ کر دیا ہے، طبّی سامان لوٹا، ایمبولینس چوری کیں، اور طبّی عملہ کو ڈرایا، دھمکایا، بھتہ خوری کی اور انہیں قتل کیا۔“

عسکریت پسند علاج کے لیے سدِّ راہ

افغانستان کے وزیر برائے عوامی صحت فیروز الدین فیروز نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے نظامِ نگہداشت صحت میں کمزوری کی ایک بڑی وجہ عسکریت پسندی ہے۔

انہوں نے ایک ای میل پیغام میں کہا، ”مبینہ مریضوں کی تلاش اور اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے طبی عملہ کی استعداد پیدا کر کے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے ہمیں کثیر قومی عطیہ دہندگان ایجنسیوں کی جانب سے خاصے وسائل مل رہے ہیں، لیکن عسکریت پسندی ہمارے منصوبوں کے لیے سدِّ راہ ثابت ہوئی ہے۔“

فیروز نے کہا کہ تکنیکی مہارت فراہم کرنے اور مریضوں کے خاندانوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیمیں وزارت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں۔ افغان مذہبی رہنماؤں نے اپنے ساتھیوں کو وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق نصیحت کر کے ان کاوشوں کی حمایت کا عہد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاہم کامیاب ہونے کے لیے ان کاوشوں کو امن و سلامتی کی ضرورت ہے۔

خیبر پختونخوا (کے پی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل صحت محمّد ظفر نے کہا کہ طالبان عسکریت پسند پاکستان اور افغانستان، ہر دو میں نگہداشت صحت کے اقدامات کے لیے سدِّ راہ ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”انہوں نے خاتون کارکنان صحت کو سوات اور فاٹا [وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات] کے ساتھ ساتھ افغانستان میں [کام کرنے سے] روک دیا۔ وہ عوامی صحت، بطورِ خاص خواتین کی صحت کی فکر کیے بغیر اسلام کا اپنا ذاتی برانڈ نافذ کرنا چاہتے ہیں۔“

پاکستان کی ایچ آئی وی/ایڈز کے مفت علاج کی پیشکش

پاکستان ایچ آئی وی سے متاثر افغان مریضوں کے مفت علاج کی پیشکش کر رہا ہے۔

کے پی ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر ایوب روز نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اینٹی ریٹرووائرل تھراپی سینٹر حیات آباد میڈیکل کمپلیکس [پشاور میں] تقریباً 155 افغان شہری زیرعلاج ہیں کیونکہ افغانستان میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔"

انہوں نے بتایا، "بیماری کے پھیلاؤ کو علاقائی سطح پر روکنےاورعام آبادی کو اس سے متاثر ہونے سے بچانے کے لئے افغانستان کے ساتھ ہمارا تعاون عالمی حکمت عملی کا حصہ ہے۔"

"طالبان کی دہشت گردی کی وجہ سے ہم بھی خطرے سے دوچار ہیں، جو ایچ آئی وی کے خلاف مناسب طور سے کی جانے والی کوششوں کو متاثر کرتی ہے." انہوں نے مزید بتایا، افغان مریض تسلسل سے پاکستان آتے رہتے ہیں۔

روز نے بتایا، "ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی روک تھام اور اسے وبائی شکل اختیار کرنے سے روکنے کے لئے ہمیں مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔"

پشاور میں ایچ آئی وی/ایڈز کا علاج کروا نے والے ایک افغان شہری وارث نورنے کہا کہ مرض کی روک تھام کے لئے افغانستان کو مضبوط اور موثر آگاہی مہمات کی ضرورت ہے.

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہمیں عوام کو بیماری کی منتقلی کے طریقوں اور اس کی رسوائی سے نجات کے بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج