2017-07-17 | سلامتی

پاکستانی فوج نے راجگال وادی سے عسکریت پسندوں کا صفایا کرنے کے لئے آپریشن کا آغاز کردیا

محمد آہیل

داعش اور ٹی ٹی پی سمیت مختلف عسکریت پسند گروہ آپریشن کا نشانہ ہیں۔


اپریل کے اس فضائی جائزے میں خیبر ایجنسی کو دکھایا گیا ہے۔ پاکستانی افواج نے دور افتادہ راجگال وادی سے عسکریت پسندوں کو نکالنے کے لئے آپریشن خیبر IV کا آغاز کیا ہے۔ [محمد آہیل]
اپریل کے اس فضائی جائزے میں خیبر ایجنسی کو دکھایا گیا ہے۔ پاکستانی افواج نے دور افتادہ راجگال وادی سے عسکریت پسندوں کو نکالنے کے لئے آپریشن خیبر IV کا آغاز کیا ہے۔ [محمد آہیل]
اپریل کے اس فضائی جائزے میں خیبر ایجنسی کو دکھایا گیا ہے۔ پاکستانی افواج نے دور افتادہ راجگال وادی سے عسکریت پسندوں کو نکالنے کے لئے آپریشن خیبر IV کا آغاز کیا ہے۔ [محمد آہیل]

داعش اور ٹی ٹی پی سمیت مختلف عسکریت پسند گروہ آپریشن کا نشانہ ہیں۔

پشاور – پاکستان آرمی نے اتوار (16 جولائی) کو علاقے میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے تباہ کرنے کے لئے خیبر ایجنسی کی دور افتادہ وادی راجگال میں آپریشن خیبر IV کا آغاز کیا ہے۔

آپریشن کا نشانہ "دولت اسلامی" (داعش) اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت مختلف دہشت گرد گروہ ہیں۔

راجگال خیبر کے ان چند آخری علاقوں میں سے ہے جو برسوں کے حملوں کے باوجود عسکریت پسندوں سے خالی نہیں ہو سکا ہے۔ راجگال افغانستان کی سرحد سے ملتی ہے اور وادی پر قبضہ سےعسکریت پسندوں کو سرحد کے آرپار دراندازی میں مدد ملتی ہے۔

کامیابی سب کے لئے فائدہ مند ہوسکتی ہے

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر فوجی راجگال کو صاف کر دیں تو سیکورٹی کے فوائد وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے بقایا حصے اور پورے خیبر پختونخواہ (کے پی) تک پہنچیں گے، انہوں نے مزید بتایا کہ فوجی دستے افغان سرحد کے اہم حصے میں عسکریت پسندوں کی دراندازی کو روک سکیں گے۔

آرمی کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اتوار کو خیبر 4 کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ راجگال فاٹا کا آخری اہم میدان جنگ ہے۔

اسے فروری میں شروع ہونے والے آپریشن ردالفساد کا حصہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ آپریشن کی تکمیل کی مدت کا تعین کرنا قبل از وقت ہو گا۔

غفور نے مزید بتایا کہ پاکستان آرمی نے افغان افواج کو خیبر IV کے متعلق آگاہ کردیا ہے اور امید کرتے ہیں کہ سرحد کے دونوں اطراف مربوط کوششیں فرار ہونے والے دہشت گردوں کا قلع قمع کردیں گی۔

بتدریج ترقی

فاٹا پر تجزیہ نگاری کرنے والے پشاور سے تعلق رکھنے والے حسین شہید سہروردی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 2008 سے ہونے والے انسدادِ شورش کے آپریشنز نے بتدریج ترقی پیدا کی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ خیبر IV خیبر ایجنسی میں دہشتگردوں کے ”تابوت میں آخری کیل“ ہو گا۔

ضربِ عضب اور خیبر I، II اور III پر کام کرنے والے فوجی کئی برسوں سے عسکریت پسندوں کو ضربیں لگا رہے ہیں۔

سہروردی نے کہا کہ راجگل کی اہمیت اس لیے ہے کیوں کہ عسکریت پسند افغانستان آنے اور جانے کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے راجگل کو کے پی اور فاٹا کے لیے ایک خطرہ قرار دیتے ہوئے مزید کہا، ”ایسے سرحدی مقامات کے بند ہو جانے پر دہشتگردی پر بہتر طور پر قابو پایا جا سکے گا۔“

پاک فوج کے مطابق، تمام تر خیبر ایجنسی کا دہشتگردوں سے پاک ہونے کے قریب ہونا 2008 کے مقابلہ میں ایک بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، جب عسکریت پسندوں نے فاٹا اور کے پی کے ایک تہائی پر قبضہ کر رکھا تھا۔

افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر رستم شاہ مہمند فاٹا اور کے پی کے لیے عسکریت پسندوں کو راجگل سے نکال باہر کرنے کی اہمیت پر اتفاق کرتے ہیں۔

رستم شاہ کے پاس خیبر IV کو ایک دیرپا کامیابی بنانے کے لیے علاقہ میں سولین حکمرانی کو مستحکم کرنے اور مزید جارحانہ کاروائی یا انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کا آغاز کرنے سے قبل قبائل سے مشاورت کرنے جیسے متعدد تصورات تھے۔

قبائلی ارکان کی جانب سے آپریشن کا خیر مقدم

پاکستان فارورڈ سے بات کرنے والے متعدد قبائلی ارکان نے خیبر IV کی نہایت تعریف کی۔

لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے قبائلی صحافی علی شنواری نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”اگر [عسکریت پسند] اپنی آبائی زمین کھو بیٹھیں تو وہ فرار ہو کر سرحد کے قریب پہنچ جائیں گے۔ اپنی کمین گاہوں سے باہر نکل آنے پر انہیں آسانی سے شکار کیا جا سکتا ہے۔“

پشاور میں کارخانو مارکیٹ کے ایک دکاندار رجب گل آفریدی نے کہا کہ خیبر قبائل امن لانے والی ہر جارحانہ کاروائی کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے کہا، ”ہم نے بہت تکالیف برداشت کی ہیں، اب جنگ کو تقریباً ایک دہائی ہو چکی ہے۔“

خیبر ایجنسی کی سرحد پر کارخانو مارکیٹ میں کاسمیٹکس کی ایک دکان چلانے والے عاشق شنواری نے کہا، ”ہم چاہتے ہیں کہ وہ راجگل سے باہر نکال دیے جائیں۔ ہم مزید خونریزی نہیں چاہتے۔“

رجب علی، جو وادیٔ تیراہ سے بھاگ کر پشاور آئے اور اب وہاں پھل بیچتے ہیں، نے کہا، ”میں ان دہشتگردوں کی وجہ سے سات برس سے اپنے آبائی وطن نہیں جا سکا۔“

انہوں نے کہا، ”مجھے خوشی ہو گی اگر وہ اپنے آخری گڑھ سے بے دخل کر دیے جائیں۔“

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو قابو میں لانے کے لیے پاکستان – افغانستان سرحد پر مستقبل میں لگنے والی باڑ کس قدر مؤثر ہو گی؟

نتائج