2017-07-10 | دہشتگردی

دھماکے سے قلعہ عبداللہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر اور گارڈ ہلاک، 11 افراد زخمی

اے ایف پی

کسی بھی گروہ نے ڈی پی او ساجد خان مہمند جو کہ طویل عرصے سے پولیس کے اہلکار اور چھے بچوں کے والد تھے، کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔


مقامی حکام کے مطابق، پاکستان کے سیکورٹی اہلکار بم دھماکے کی جگہ پر ایک گاڑی کا معائنہ کر رہے ہیں جس میں چمن، صوبہ بلوچستان میں 10 جولائی کو پولیس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ دھماکے میں ضلعی پولیس افسر اور ان کا گارڈ ہلاک ہو گیا جب کہ دیگر گیارہ افراد زخمی ہوئے۔ ]اصغر اچکزئی/ اے ایف پی[
مقامی حکام کے مطابق، پاکستان کے سیکورٹی اہلکار بم دھماکے کی جگہ پر ایک گاڑی کا معائنہ کر رہے ہیں جس میں چمن، صوبہ بلوچستان میں 10 جولائی کو پولیس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ دھماکے میں ضلعی پولیس افسر اور ان کا گارڈ ہلاک ہو گیا جب کہ دیگر گیارہ افراد زخمی ہوئے۔ ]اصغر اچکزئی/ اے ایف پی[
مقامی حکام کے مطابق، پاکستان کے سیکورٹی اہلکار بم دھماکے کی جگہ پر ایک گاڑی کا معائنہ کر رہے ہیں جس میں چمن، صوبہ بلوچستان میں 10 جولائی کو پولیس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ دھماکے میں ضلعی پولیس افسر اور ان کا گارڈ ہلاک ہو گیا جب کہ دیگر گیارہ افراد زخمی ہوئے۔ ]اصغر اچکزئی/ اے ایف پی[

کسی بھی گروہ نے ڈی پی او ساجد خان مہمند جو کہ طویل عرصے سے پولیس کے اہلکار اور چھے بچوں کے والد تھے، کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

کوئٹہ -- حکام کا کہنا ہے کہ پیر (10 جولائی) کو چمن، صوبہ بلوچستان میں ہونے والے بم دھماکے میں ایک سینئر پولیس اہلکار اور ان کا گارڈ ہلاک ہو گئے جب کہ دیگر گیارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان انور کاکڑ نے اے ایف پی کو بتایا کہ "بم دھماکے میں ضلعی پولیس افسر ساجد خان مہمند اور ان کا گارڈ شہید ہو گئے جب کہ دیگر 11 افراد زخمی ہوئے"۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، بم سڑک کے کنارے ایک موٹرسائیکل پر نصب کیا گیا تھا جو اس وقت پھٹا جب مہمند کی گاڑی قریب سے گزری۔

جیو نیوز کے مطابق چمن کے ڈپٹی کمشنر قیصر خان نے کہا کہ موٹرسائیکل پر سوار ایک خودکش بمبار نے قافلے پر حملہ کیا۔

دو سینئر حکومتی اہلکاروں نے دھماکے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کی اور کہا کہ پولیس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

فوری طور پر کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی

کسی بھی گروہ نے فوری طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ طالبان کے باغیوں، طالبان، "دولت اسلامیہ" (داعش) اور دوسرے عسکریت پسند گروہوں نے صوبے میں سیکورٹی افواج کے خلاف حال ہی میں حملے کیے ہیں۔

گزشتہ ماہ، صوبہ کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنانے والے ایک دھماکے میں، کم از کم 13 افراد ہلاک اور دیگر 20 زخمی ہو گئے تھے۔

مائنٹرنگ گروپ ایس آئی ٹی ای کے مطابق، جمعتہ الوادع (رمضان کا آخری جمعہ) کے موقع پر 23 جون کو ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری داعش کی خراسان شاخ اور جماعت الحرار جو کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ایک ذیلی شاخ ہے، دونوں نے قبول کی تھی۔

پاکستان 2004 سے بلوچستان میں اسلامیت اور قومیت پرست عسکریت پسندوں سے جنگ کر رہا ہے اور اس لڑائی میں سینکڑوں فوجی اور عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان کے حکام کی طرف سے امن اور ترقی کے لیے پہلے سے زیادہ زور نے حالیہ سالوں میں تشدد کو قابلِ قدر حد تک کم کر دیا ہے۔

جیو نیوز کے مطابق، تین بیٹوں اور تین بیٹیوں کے والد، مہمند نے علاقے میں امن کو بحال کرنے کے لیے اپنے عزم کا اظہار سوشل میڈیا کی حالیہ پوسٹ میں کچھ اس طرح کیا تھا "ہمیشہ کچھ ایسا موجود ہوتا ہے جس کے لیے جدوجہد کی جائے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو قابو میں لانے کے لیے پاکستان – افغانستان سرحد پر مستقبل میں لگنے والی باڑ کس قدر مؤثر ہو گی؟

نتائج