http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/07/07/feature-02
| توانائی

شیل پاکستان کو ٹینکر میں آگ لگنے پر 2.4 ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم

اے ایف پی


پاکستان کے امدادی کارکن اسلام آباد سے 670 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع احمدپور میں 25 جون کو حادثے کے بعد آئل ٹینکر میں آگ لگ جانے سے جل جانے والوں کی لاشوں کے گرد کھڑے ہیں۔ حکام کے مطابق آئل ٹینکر الٹ جانے کے بعد لوگ ایندھن جمع کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے کہ اس میں آگ لگ گئی جس سے کم از کم 218 افراد ہلاک ہو گئے۔ ]ایس ٹی آر /اے ایف پی[

پاکستان کے امدادی کارکن اسلام آباد سے 670 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع احمدپور میں 25 جون کو حادثے کے بعد آئل ٹینکر میں آگ لگ جانے سے جل جانے والوں کی لاشوں کے گرد کھڑے ہیں۔ حکام کے مطابق آئل ٹینکر الٹ جانے کے بعد لوگ ایندھن جمع کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے کہ اس میں آگ لگ گئی جس سے کم از کم 218 افراد ہلاک ہو گئے۔ ]ایس ٹی آر /اے ایف پی[

اسلام آباد -- پاکستان نے جمعہ (7 جولائی) کو شیل پاکستان کو حکم دیا کہ وہ ہرجانے کی صورت میں کم از کم 2.4 ملین ڈالر (254.1 ملین روپے) ادا کرے۔ جون میں اس کے ایک ٹینکر کے الٹ جانے کے بعد اس میں دھماکہ ہوا اور تباہ کن آگ بھڑک اٹھی جس میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے۔

ٹینکر جو کہ رائل ڈچ شیل کے مقامی ماتحت ادارے کی طرف سے معاہدہ کردہ تھا، صوبہ پنجاب میں ایک مرکزی ہائی وے پر حادثے کا شکار ہوا۔ اس پر 50,000 لیٹر پیٹرول لدا تھا جسے وہ 25 جون کو کراچی سے لاہور لے جا رہا تھا۔

یہ چند منٹوں کے بعد ہی پھٹ گیا جس سے ہجوم کی طرف آگ کا بگولہ گیا جس کا تعلق قریبی گاوں سے تھا اور جو گرا ہوا پیٹرول جمع کرنے کے لیے اکٹھا ہوا تھا۔ انہوں نے ڈرائیور اور پولیس کی طرف سے انتباہ کو نظر انداز کر دیا تھا۔

صحت کے حکام اور پولیس نے جمعہ کو ہلاک ہونے والوں کی تعداد 218 بتائی جو کہ حادثے کے بعد سے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 38 متاثرین ابھی بھی ہسپتال میں ہیں اور کچھ کی حالت نازک ہے۔

او جی آر اے کے ترجمان عمران غزنوی نے اے ایف پی کو بتایا کہ "او جی آر اے (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) نے شیل پاکستان کو آئل ٹینکر کے حادثے کا ذمہ دار پایا ہے اور اس پر 10 ملین روپے (100,000 ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا ہے"۔

انہوں نے مزید بتایا کہ "شیل پاکستان کو ہر مرنے والے کے خاندان کو ایک ملین روپے (9,445 ڈالر) اور ہر زخمی ہونے والے کو 500,000 روپے (4,723 ڈالر) ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے"۔

اس سے شیل کو ابھی تک ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خاندان کو کم از کم 2.48 ملین ڈالر (262.6 ملین روپے) ادا کرنے ہوں گے۔ یہ بات فوری طور پر واضح نہیں ہوئی کہ کتنے زخمی افراد کو ہرجانہ ملے گا یا اگر ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔

غزنوی نے کہا کہ او جی آر اے نے اس حادثے کے بارے میں شیل پاکستان کو 21 سوالات کی فہرست بھیجی تھی مگر ابھی تک جوابات وصول نہیں ہوئے۔

شیل کی طرف سے کوتاہی

اے ایف پی کی طرف سے دیکھی جانے والی رپورٹ کے مطابق، او جی آر اے کی تفتیش سے پتہ چلا کہ شیل نے اس چیز کو چیک نہیں کیا کہ اس نے جس نجی ٹینکر کو کرایے پر لیا ہے وہ حفاظت کے معیارات پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شیل نے اس سے پہلے حکام کو آگاہ کیا تھا کہ اس کی لاریاں تکنیکی معیار پر پورا اترتی ہیں اور انہوں نے معاہدہ کردہ گاڑیوں کو بھی جدید بنایا ہے مگر اس حادثے میں ملوث ٹینکر میں ایسا بوجھ اٹھانے کے لیے تجویز کردہ پانچ ایکسل کی بجائے چار ایکسل تھے۔

رپورٹ میں یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ ٹینکر کا فٹ ہونے کا سرٹیفکیٹ "جعلی" تھا اور یہ کہ شیل پاکستان "لوڈنگ سے پہلے ہونے والی چیک لسٹ فراہم کرنے میں ناکام" رہا ہے۔

اس میں شیل پاکستان کے ہنگامی ردعمل کو "سرسری" قرار دیا گیا ہے۔

او جی آر اے نے پاکستان میں تمام آئل کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ حفاظت کے معیارات کو مکمل طور پر نافذ کریں، ڈرائیوروں کے لیے تربیت کا انتظام کریں کہ ہنگامی حالات اور تیل بہہ جانے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے اور باقاعدگی سے طبی معائنہ کروایا جائے۔

اس میں ان سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے آگاہی کی مہم چلائیں اور حادثے اور تیل بہہ جانے کی صورت میں پیش آنے والے خطرات سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ اس کے علاوہ مقامی ہنگامی سروسز اور پولیس سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ردعمل کا دوبارہ جائزہ لیں۔

اے ایف پی کی طرف سے سوالات کے جواب میں، شیل پاکستان کے ایک ترجمان نے کہا کہ کمپنی ابھی اس حادثے کی تفتیش کر رہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ "شیل پاکستان اس وقت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی تفتیشی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے"۔

"جب دوسری تحقیقات جاری ہیں تو واقعہ میں حصہ لینے والے عوامل کے بارے میں اندازے لگانا غیر فائدہ مند ہو گا مگر ہم ریگولیٹر کے کردار کا احترام کرتے ہیں اور ہم اس رپورٹ پر غور کریں گے جیسے کہ ہم نے تفتیش کرنے والے حکام کے ساتھ تعاون کیا اور اس کے ساتھ ہی ہم اپنی تفتیش کو بھی جاری رکھیں گے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
5
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha