|

معیشت

کے پی میں سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے نئی فورس کا قیام

کاروباری رہنماؤں کی پیشین گوئی ہے کہ تحفظ کی بہتر صورتحال معیشت کو بحال کرے گی۔

از محمد آحل


نامعلوم تاریخ کی اس تصویر میں ایک پولیس افسر پشاور میں پہرے پر کھڑا ہے۔ سیکیورٹی فورسز خیبرپختونخوا (کے پی) میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں۔ [محمد آحل]

نامعلوم تاریخ کی اس تصویر میں ایک پولیس افسر پشاور میں پہرے پر کھڑا ہے۔ سیکیورٹی فورسز خیبرپختونخوا (کے پی) میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں۔ [محمد آحل]

پشاور -- خیبرپختونخوا (کے پی) حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور مقامی کاروباروں کے تحفظ کے لیے سپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) بنانے کی منظوری دی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ کے پی پرویز خٹک کی جانب سے دی گئی اس منظوری کو غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے اور کے پی میں اُن کاروباری آغاز کرنے والوں کو واپس لانے میں ایک سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے جنہوں نے گزشتہ سالوں میں ناقص تحفظ کی وجہ سے اپنے کاروبار بند کر دیئے تھے۔

نئے ایس ایس یو میں اہلکاروں کی تعداد 4،200 ہو گی، جن میں موجودہ اور ریٹائرڈ سیکیورٹی اہلکار دونوں ہی شامل ہوں گے اور ان کے ذمے معاشی علاقوں، بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاروں کے پورے صوبے میں سفر کے دوران ان کی حفاظت کا کام لگایا جائے گا۔

'سرمایہ کاری لے لیے بہترین امکان'

قانون کے نفاذ کے دیگر ادارے جیسے کہ پولیس، رینجرز اور فوج اپنے حصے کا کام کریں گے، کا اضافہ کرتے ہوئے خٹک نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "کے پی میں سرمایہ کاری کے لیے بہت امکان ہے، اور یہ فورس ایک چیز پر توجہ دینے کے لیے بنائی گئی ہے: غیر ملکی سرمایہ کاروں ان کی سرمایہ کاریوں کے تحفظ کے لیے۔"

مئی کے وسط میں خٹک نے کے پی کے اعلیٰ سطحی انتظامی شعبے اور قانون نافذ کرنے والے حکام کے ساتھ ایک اجلاس میں اعلان کیا کہ ایس ایس یو ضلعی حفاظتی شعبوں کے ساتھ قریبی تعلق رکھے گا اور خصوصی سیل تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز، وزارتِ داخلہ اور پولیس ہیڈکوارٹرز میں پیش کیے جائیں گے۔

کے پی حکومت اس نئے ایس ایس یو کے لیے وسائل اور تربیت مہیا کرے گی، انہوں نے مزید کہا کہ اسے صوبے کی ریپڈ رسپانس فورس کی طرح کی ہی تربیت دی جائے گی اور کسی بھی ہنگامی حالت میں تیزی کے ساتھ فعال ہونے کے لیے تیار کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا، "اس فورس کے قیام کا مقصد سرمایہ کاروں کو تحفظ کا احساس دلانا ہے، [انہیں یقین دلاتے ہوئے] کہ ان کا پیسہ اور سامان محفوظ ہو گا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارے باقاعدہ قانون کے نفاذ کے ادارے یہ نہیں کر سکتے ۔۔۔ بلکہ یہ ایک خصوصی کام ہو گا۔"

کے پی پولیس نے حکومت کو ایس ایس یو کے لیے 3.05 بلین روپے (29 ملین ڈالر) کا بجٹ منصوبہ جمع کروایا ہے۔

بجٹ کی درخواست کے مطابق ایس ایس یو کے قیام کے پہلے مرحلے پر 1.5 بلین روپے (14.2 ملین ڈالر) لاگت آئے گی، جبکہ 1.6 بلین روپے (14.8 ملین ڈالر) دوسرے عملی مرحلے کے لیے درکار ہیں۔

یہ پیسہ تنخواہوں اور ہتھیاروں، گولہ بارود، گاڑیوں اور تکنیکی آلات کی خرید میں بھی جائے گا۔

ایس ایس یو کے آغاز کے لیے کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

ایک معاشی ترقی

کے پی کے کاروباری رہنماء یہ کہتے ہوئے اس اقدام کی تعریف کر رہے ہیں کہ بہتر تحفظ سے صوبے کی معیشت ترقی کرے گی۔

کے پی ایوانِ صنعت و تجارت (کے پی سی سی آئی) کے صدر حاجی محمد افضل نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "کے پی کی تاجر برادری غیر ملکی اور مقامی دونوں سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کے تحفظ کے لیے ایک نئی فورس کی تشکیل کی حمایت کرتی ہے۔"

انہوں نے کہا، "صرف ایک محفوظ ماحول ہی اس جنگ زدہ خطے کی معیشت کو ترقی دے سکتا ہے، اور حفاظت کی مضبوطی کے لیے کیے گئے کوئی بھی اقدامات خطے میں معاشی ترقی لائیں گے۔"

کے پی سی سی آئی کے ایک سابق صدر ملک نیاز نے کہا کہ کے پی میں ایک محفوظ ماحول بنانے کے لیے "غیرمعمولی اقدامات" کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "فورس غیر ملکی اور مقامی دونوں سرمایہ کاروں کو تحفظ کا ایک اضافی احساس فراہم کرے گی۔"

انہوں نے کہا کہ ایس ایس یو کے علاوہ، "ان تمام سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اضافی کوششیں کی جائیں گی جو اس خطے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔"

پشاور میں ایک صنعت کار اور کے پی سی سی آئی کے ایک اور سابق صدر، ریاض ارشد نے کہا، "سرمایہ کاروں کے لیے یہاں بڑا خطرہ زندگی اور املاک کا تحفظ ہے، اور یہ فورس، یا کوئی بھی دیگر حفاظتی اقدام، [سرمایہ کاروں کے لیے] بہت زیادہ مدد ہو گا۔"

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو دو قسم کے تحفظ کی ضرورت ہے: "ایک ان کی سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کے لیے اور دوسرا ان کی آمدورفت کے لیے۔"

کاروباری سرمایہ کاروں کو واپس لانا

پشاور کے مقامی کاروباری فرد اور کے پی سی سی آئی کے ایک اور سابق صدر، شرافت علی مبارک نے کہا، "سرمایہ کاروں کی حفاظت کے لیے یہ ایک اچھی علامت ہے کیونکہ ناقص امن و امان کی وجہ سے ان میں سے بہت سے افراد ملک کے دوسرے حصوں میں چلے گئے تھے، تاہم اب صورتحال بہت زیادہ بہتر ہو چکی ہے۔"

یہ خطے میں نئے سرمایہ کاروں کے لیے باعثِ کشش بھی ہو گا، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اور ان کے بنیادی ڈھانچے کا تحفظ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرے گا اور انہیں کے پی میں واپس لائے گا۔"

ایوانِ صنعت و تجارت پشاور برائے خواتین کی صدر، شمع ارباب نے ایس ایس یو کے قیام کو ایک "اچھا اقدام" قرار دیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "حکومت کی جانب سے اٹھایا جانے والا کوئی بھی حفاظتی اقدام جو تاجروں اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے خوش آئند اور قابلِ تحسین ہے۔"

انہوں نے کہا، "مقامی اور غیرملکی سرمایہ کار آرام دہ محسوس کریں گے۔ جب وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے لیے کسی خاص چیز کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، تو انہیں کوئی بھی صوبائی منڈی میں واپس آنے سے نہیں روک سکتا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 8

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Ikram niazi | 07-10-2017

بہت خوب حکومتِ کے پی کے اور پولیس، آپ کے کام پر فخر ہے۔ \n

جواب

انتخاب

کیا آپ نئی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں؟

نتائج