|

سفارتکاری

پاکستان، افغانستان نے سیکیورٹی تعاون کے لیے آمادگی کا اظہار کر دیا

ہمسایہ ممالک کے عہدیداران اور مشاہدین تعلقات میں گرمجوشی سے متعلق پرامید ہیں.

امداد حسین


9 دسمبر 2015 کو پاکستانی وزیرِ اعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز (بائیں) اور افغان وزیرِ خارجہ صلاح الدین ربّانی اسلام آباد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کے لیے آ رہے ہیں۔ پاکستانی اور افغان عہدیداران نے سیکیورٹی اور انسدادِ دہشتگردی پر قریبی تعاون کی جانب پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔ [اے ایف پی/عامر قریشی]

9 دسمبر 2015 کو پاکستانی وزیرِ اعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز (بائیں) اور افغان وزیرِ خارجہ صلاح الدین ربّانی اسلام آباد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کے لیے آ رہے ہیں۔ پاکستانی اور افغان عہدیداران نے سیکیورٹی اور انسدادِ دہشتگردی پر قریبی تعاون کی جانب پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔ [اے ایف پی/عامر قریشی]

اسلام آباد – پاکستان اور افغانستان بہتر تعلقات اور سیکیورٹی اور انسدادِ دہشتگردی میں بہتر تعاون کی علامات کا اظہار کر رہے ہیں۔

اس سمت میں تازہ ترین قدم 24 تا 25 جون کو پاکستان اور افغانستان دونوں کی مشاورت کے بعد سامنے آیا جس کے دوران فریقین نے علاقائی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کا عہد کیا۔

ایک مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا، “پاکستان اور افغانستان، دونوں ہی ایک دوسرے سے تعلقات کو بہتر بنانے، باہمی سیاسی اعتماد کو مستحکم کرنے، انسدادِ دہشتگردی اور سیکیورٹی چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنے سمیت متعدد شعبوں میں تعلقات بہتر کرنے کے لیےآمادہ ہیں۔”

طرفین نے ایک “کرائسس منیجمنٹ میکینزم”تشکیل دینے پر اتفاق کیا جس میں انٹیلی جنس اور انفارمیشن کا تبادلہ شامل ہے۔

بیان میں کہا گیا، “اس سے دہشتگردانہ حملوں سمیت کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں طرفین بروقت اور مؤثر تبادلۂ اطلاعات کر سکیں گے۔”

انہوں نے اتفاق کیا کہ عدم تشدد پر مبنی مفاہمت افغان مسئلہ کا بنیادی حل ہے۔ پاکستان نے”افغان قیادت میں اور افغان ملکیتی” مفاہمتی عمل کے لیے حمایت کا اظہار کیا اور افغان طالبان سے اس مفاہمتی عمل میں فوراً شریک ہونے کا مطالبہ کیا۔

پاکستانی وزیرِ اعظم میاں محمّد نواز شریف کے مشیرِ امورِ خارجہ سرتاج عزیز نے 25 جون کو ایک پریس بیان میں کہا، “پاکستان نے مسلسل اس امر پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہمارے لیے سود مند [ہیں] اور ایک مستحکم افغانستان ہمیں معاشی ترقی اور علاقائی ارتباط کے مشترکہ ایجنڈا کو فروغ دینے میں مدد کرے گا۔”

انہوں نے کہا، “گزشتہ 15 برسوں کے تجربہ نے یہ واضح طور پر ظاہر کر دیا ہے کہ افغان تنازعہ صرف عسکری ذرائع سے حل نہیں ہو سکتا۔ افغانستان میں دیرپا امن کے لیے افغان قیادت میں افغان ملکیتی امن کے عمل کے ذریعے ایک سیاسی طور پر تصفیہ شدہ مفاہمت کی ضرورت ہے”.

یہ پرچوش تعلقات جون کے اوائل میں آستانہ، قازقستان میں ایک بین الاقوامی اجلاس کے حواشی مین شروع ہوئے، جہاں شریف اور افغان صدر اشرف غنی نے ہشت جہتی تعاون گروپ (کیو سی جی) کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے مزید مزاکرات پر اتفاق کیا۔

دیرپا امن کے لیے ضروری تعاون

عہدیداران اور مشاہدین دونوں ممالک کے مابین انسدادِ دہشتگردی میں تعاون اور پرجوش تعلقات سے متعلق پرامید ہیں۔

پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر زاخیوال نے امن اور خطے کے مستقبل سے متعلق امّید کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان فارورڈ کو بتایا، “انسدادِ دہشتگردی سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان اور افغانستان میں تعاون متوقع ہے”.

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے آستانہ میں اجلاس کے بعد میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا، “ہم نے مسلسل اس امر پر زور دیا ہے کہ افغان تنازعہ کے لیے ایک سیاسی طور پر طے شدہ مفاہمت ناگزیر ہے۔ اس سلسلہ میں کیو سی جی ایک مؤثر فورم ہے”.

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرحدی انصرام میں دوطرفہ تعاون، انسدادِ دہشگردی، انٹیلی جنس کے تبادلہ اور افغانستان میں کسی سیاسی حل کے انتخاب کے لیے طالبان پر دباؤ ضروری ہے۔

ایک پاکستانی عسکری اور دفاعی تجزیہ کار جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، “جہاں تک دونوں طرف امن کا تعلق ہے، سرحد کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس کے تبادلہ اور سرحدی انصرام کے ساتھ منسلک مربوط آپریشنز سے فرق پڑے گا۔”

پاکستان میں مقیم خطہ میں عسکریت پسندی کے بارے میں ماہر ایک افغان صحافی سمیع یوسف زئی نے بتایا، پاکستان اور افغانستان کے مابین 2,600 کلومیٹر طویل غیر محفوظ سرحد سلامتی کی صورتحال کو پیچیدہ بناتی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، تاہم،"دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں تعاون اور استحکام مشکل ہدف کے حصول کو ممکن بنا سکتا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 6

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج