دہشتگردی

طالبان کے حملے پاکستان میں بچوں پر کوئی رحم نہیں کھاتے

اشفاق یوسف زئی

خودکش دھماکے میں زخمی ہونے والا ایک پاکستانی بچہ، 28 مارچ 2016 کو لاہور میں صحت یاب ہو رہا ہے۔ بم دھماکے میں کم از کم 72 افراد ہلاک ہوئے۔ ]فاروق نعیم/ اے ایف پی[

خودکش دھماکے میں زخمی ہونے والا ایک پاکستانی بچہ، 28 مارچ 2016 کو لاہور میں صحت یاب ہو رہا ہے۔ بم دھماکے میں کم از کم 72 افراد ہلاک ہوئے۔ ]فاروق نعیم/ اے ایف پی[

پشاور -- پاکستانی ڈاکٹروں اور سیکورٹی کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بچوں کو متشدد حملوں میں نشانہ بنانے والے، طالبان کے حملے ان کی بے رحمی، بزدلی اور مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل ایچ آر) میں ڈاکٹر محمد شوکت نے کہا کہ "یہ بات انتہائی قابلِ مذمت ہے کہ طالبان کے عسکریت پسند بغیر کسی وجہ کے بچوں کو ہلاک اور زخمی کرتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ ایل ایچ آر میں گزشتہ تین سالوں کے دوران ایسے 350 بچے آئے ہیں جو دہشت گردی کے حملوں میں زخمی ہوئے تھے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "طبی عملہ اس وقت رو پڑتا ہے جب انہیں بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں زخمی ہونے والے بچے ملتے ہیں"۔

پیراگرافک سینٹر حیات آباد میں، سوات کا ایک بچہ جو 2013 میں سڑک کے کنارے ہونے والے بم دھماکے میں زخمی ہوا تھا، کا 26 مئی 2017 کو علاج کیا جا رہا ہے۔ ]اشفاق یوسف زئی[

پیراگرافک سینٹر حیات آباد میں، سوات کا ایک بچہ جو 2013 میں سڑک کے کنارے ہونے والے بم دھماکے میں زخمی ہوا تھا، کا 26 مئی 2017 کو علاج کیا جا رہا ہے۔ ]اشفاق یوسف زئی[

عسکریت پسند معصوم بچوں کو ہلاک و زخمی کرتے ہیں

ایک حالیہ واقعہ میں، چار بچے اور پانچ خواتین ان 15 افراد میں شامل تھے جو 25 اپریل کو اس وقت ہلاک ہوئے جب سڑک کے کنارے نصب، ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے بم نے مسافروں کی ایک بس کو مرکزی کرم ایجنسی میں اڑا دیا۔

اس سے دو ماہ پہلے، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دھڑے جماعت الاحرار نے 21 فروری کو تانگ تحصیل، چارسدہ، خیبرپختونخواہ (کے پی) میں عدالت پر بہت بڑے خودکش حملے کی کوشش کی تھی۔

پولیس نے دو ممکنہ خودکش بمباروں کو عدالت کے کامپلکس میں داخل ہونے سے پہلے ہلاک کر کے اس حملے کو ناکام بنایا مگر ایک بمبار نے اپنے دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا۔

شوکت نے کہا کہ اس دھماکے میں 8 افراد ہلاک اور دیگر 16 زخمی ہو گئے جن میں دو سالہ ازنا بی بی بھی شامل ہے جس کے پیٹ اور ٹانگوں پر زخم آئے ہیں۔ اس کا چار سالہ بھائی ہلاک ہو گیا۔

شوکت نے کہا کہ "اسے تو یہ بھی نہیں پتہ کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمسن ازنا نے ایل ایچ آر کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں دو دن گزارے۔ انہوں نے کہا کہ دس دن بعد وہ مسکراتی ہوئی ہسپتال سے رخصت ہوئی۔

شوکت نے کہا کہ ازنا اور اس کے بھائی کی کہانی دل توڑ دینے والی اور طالبان کی بے رحمی کی مثال ہے۔

ازنا کے والد، شکور خان جنہیں معمولی زخم آئے تھے، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ان کی بیٹی کے جسمانی زخم تو بھر گئے مگر یہ واقعہ ساری زندگی اس کے ساتھ رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ "ہمیں پتہ ہے کہ وہ مستقبل میں عسکریت پسندوں کی مذمت کرے گی"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان عسکریت پسندوں کا بھرپور تعاقب کرے اور لوگوں کو پائیدار امن میں زندہ رہنے کے قابل بنائے۔ میں ان قاتلوں کو معاف نہیں کروں گا جنہوں نے میرے بیٹے کو ہلاک اور میری بیٹی کو زخمی کیا ہے"۔

بھرتے زخم

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے 2016 میں کے پی کے 12,224 شہریوں کو مفت بحالی اور فزیکل تھراپی فراہم کی ہے جس میں بہت سے بچے بھی شامل ہیں۔

آئی سی آر سی کے پاکستان میں ترجمان انجم عباسی نے کہا کہ امداد حاصل کرنے والوں کو ان کے بحالی کے پروگرام میں مصنوعی عضو اور فزیو تھراپی ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ، 63,503 افراد جن میں 37,273 بچے بھی شامل ہیں کا بنوں میں اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کے بکھا خیل کیمپ میں علاج کیا گیا ہے۔ دیگر 12,360 افراد، جن میں پندرہ سال سے کم عمر کے 8,804 بچے بھی شامل ہیں، کو 2016 میں طورخم کی سرحدی کراسنگ پر آئی سی آر سی سے خدمات ملی ہیں۔

عباسی نے کہا کہ ایسے اعداد و شمار میں عام طور پر "ایسے بچے شامل ہوتے ہیں جو تشدد سے متعلقہ واقعات میں زخمی ہوئے ہوتے ہیں"۔

تشدد کے دیرپا اثرات

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی کے پی شاخ کے سیکریٹری انجم حسین نے بچوں کو ہلاک کرنے پر عسکریت پسندوں کی مذمت کی اور کہا کہ تشدد کے جسمانی اور جذباتی اثرات موجود رہیں گے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یہ بہت بڑا سانحہ ہے کیونکہ جنگ زدہ علاقوں میں بچوں کو چھوڑ دیا جانا چاہیے۔ طالبان کے عسکریت پسندوں کو بچوں کا احترام کرنا چاہیے جنہیں جنگ یا امن کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتا ہے"۔

پشاور کے ماہرِ نفسیات میاں افتخار حسین نے تشدد کو بہت سی ایسی دماغی بیماریوں کا باعث قرار دیا جس کا شکار وہ لوگ بنتے ہیں جو متنازعہ علاقوں میں رہتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "بچے دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان میں نفسیاتی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جو مستقل میں دائمی بیماریاں بن جاتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ تنازعات کے شکار علاقوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے بچوں کو تعلیم میں مسائل اور دوسرے ذہنی اور جذباتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہو سکتا ہے کہ بچے ان متشدد واقعات سے براہ راست متاثر نہ ہوں جن کا مقصد شہریوں کو ڈرانا ہے مگر وہ غیر متاثر نہیں رہ سکتے"۔

مستقبل کی نسل کا تحفظ کرنا

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیرمین زہرا یوسف نے کہا کہ پاکستان اور طالبان اکٹھے نہیں رہ سکتے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے میں 120 سے زیادہ بچوں کا قتل، طالبان کے ظلم کی ایک افسوس ناک یاد دہانی تھی"۔

انہوں نے کہا کہ "کوئی بھی مذہب، مسلح تنازعات کے معیار یا عام معقولیت بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتی ہے"۔

یوسف نے کہا کہ "قاتل اور ان کے آقا جو بچوں کو ہلاک کرنے کی اجازت دیتے ہیں کی نظر میں مذہبی تعلیمات یا مہذب رویے کے معیارات کا کوئی احترام نہیں ہے"۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے خلاف جنگ بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ ان کے مستقبل کو اس وحشیانہ سفاکی سے بچایا جا سکے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہمیں اپنی مستقبل کی نسل کو بچانے کے لیے امن کے لیے کوششوں کو لازمی طور پر جاری رکھنا چاہیے"۔

پشاور یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز میں آخری سال کے طالبِ علم عزیز الرحمان نے کہا کہ کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل جنگوں میں نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ "امن کو قائم کرنے کے لیے کوششوں کو جاری رہنا چاہیے اور ہمیں ہر اس عنصر کا خاتمہ کرنا چاہے جو عدم استحکام اور عدم تحفظ پیدا کر رہا ہے"۔

رحمان نے کہا کہ "عسکریت پسند پاکستان کی مسلح افواج سے بہادری سے نہیں لڑ سکتے اس لیے وہ بچوں اور عورتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ بچوں کو ہلاک اور زخمی کرنے سے صاف طور پر بزدلی ظاہر ہوتی ہے"۔

طالبان بچوں کی صحت، تعلیم کو نشانہ بناتے ہیں

پشاور سے تعلق رکھنے والے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے سابقہ سیکورٹی سیکریٹری برگیڈیر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے کہا کہ عسکری پسند فوجیوں سے لڑنے کے لیے بہت کمزور ہو چکے ہیں اور اپنی جانوں کے خوف سے چھپ گئے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "تاہم، وہ ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں وہ بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا سکیں"۔

شاہ نے کہا کہ طالبان کو بچوں سے خصوصی دشمنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "طالبان کے عسکریت پسند نہ صرف بچوں کو بموں، آتشیں ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بناتے ہیں بلکہ وہ اسکولوں کو بھی تباہ کرتے ہیں تاکہ انہیں تعلیم سے محروم رکھا جا سکے"۔

انہوں نے کہا کہ 2012 میں،طالبان نے اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں سے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کا بھی خاتمہ کر دیا جس سے 250 سے زیادہ بچے معذور ہو گئے۔

شاہ نے کہا کہ "یہ ایک اچھی علامت ہے کہ عوام کو طالبان کے عسکریت پسندوں کو اصل ایجنڈا پتہ ہے اور وہ ان پر اب بھروسہ نہیں کرتے"۔

انہوں نے کہا کہ جلد ہی عسکریت پسندوں کو مکمل شکست ہو جائے گی کیونکہ فوج اور عوام دونوں ہی ان کے پیچھے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500