2017-06-15 | سلامتی

سیکیورٹی میں بہتری کی وجہ سے پاکستانی بلا خوف مساجد میں عبادت کر سکتے ہیں

جاوید محمود

عسکری آپریشنز نے مساجد پر دہشتگردانہ حملوں میں کمی لانے میں کردار ادا کیا ہے، جو کہ 2012 میں 18 کی حد سے کم ہو کر رواں برس صفر تک آ گئے ہیں۔


2 جون کو لاہور میں رمضان کے پہلے جمعہ کے دوران پاکستانی باشندے نماز ادا کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عسکری آپریشنز نے پاکستان میں مساجد پر دہشتگردانہ حملوں میں کمی لانے میں مدد کی ہے۔ ]عارف علی/ اے ایف پی[
2 جون کو لاہور میں رمضان کے پہلے جمعہ کے دوران پاکستانی باشندے نماز ادا کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عسکری آپریشنز نے پاکستان میں مساجد پر دہشتگردانہ حملوں میں کمی لانے میں مدد کی ہے۔ ]عارف علی/ اے ایف پی[
2 جون کو لاہور میں رمضان کے پہلے جمعہ کے دوران پاکستانی باشندے نماز ادا کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عسکری آپریشنز نے پاکستان میں مساجد پر دہشتگردانہ حملوں میں کمی لانے میں مدد کی ہے۔ ]عارف علی/ اے ایف پی[

عسکری آپریشنز نے مساجد پر دہشتگردانہ حملوں میں کمی لانے میں کردار ادا کیا ہے، جو کہ 2012 میں 18 کی حد سے کم ہو کر رواں برس صفر تک آ گئے ہیں۔

اسلام آباد — تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عسکری آپریشنز اور دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی کریک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستانی مسلمان حملہ کے خوف کے بغیر مساجد میں عبادت کر سکتے ہیں۔

چند ہی برس قبل ایسا نہ تھا۔

ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل (ایس اے ٹی پی) کے مطابق، پاکستان میں 2002 سے 2015 تک مساجد پر 101 حملے ہوئے، جن میں 1,330 افراد ہلاک اور 2,711 زخمی ہوئے۔

مساجد پر فرقہ ورانہ حملوں میں 5 حملوں کے ساتھ 2007 میں اضافہ شروع ہوا، بعد ازاں 2008 میں نو، 2009 میں 15، 2010 میں 10، 2011 میں 9 اور 2012 میں سب سے زیادہ 18 حملے ہوئے۔

کئی خون آشام برسوں کے بعد حملوں میں دوبارہ کمی آنا شروع ہوئی، جو کہ 2013 میں کم ہو کر 9، 2014 میں سات اور 2015 میں چھ تک پہنچ گئے۔

گزشتہ ستمبر، وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں مہمند ایجنسی میں ایک مسجد پر ایک خود کش حملہ میں کم از کم 36 افراد ہلاک ہوئے اور اور 37 دیگر زخمی ہوئے۔

2017 میں اب تک ایسا کوئی سانحہ پیش نہیں آیا۔

سلامتی کا بہتر احساس

سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے مساجد کی سیکیورٹی میں اس بہتری کو ان عسکری آپریشنز کے مرہونِ منّت قرار دیا ہے جو بطورِ خاص عسکریت پسندوں اور دہشتگرد گروہوں کو ہدف بناتے ہیں۔

سینیئر سیکیورٹی تجزیہ کار اور پشاور سے تعلق رکھنے والے فاٹا کے سابق سیکریٹری سیکیورٹی برگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”پاکستان میں امام بارگاہوں سمیت، مساجد پر دہشتگرد حملوں میں تحریکِ طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی گروہ، بطورِ خاص لشکرِ جھنگوی اور لشکرِ اسلام ملوث تھے۔“

انہوں نے کہا کہ جون 2014 میں شروع ہونے والا آپریشن ضربِ عضب ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد گروہوں کے خلاف کامیاب ترین آپریشن رہا ہے، جس نے ان کی قوت اور شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی استعداد کو ختم کر دیا۔

شاہ نے کہا کہ فروری میں شروع ہونے والے نئے فوجی آپریشن ردّالفساد نے عسکریت پسندوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئے پاکستان میں سیکیورٹی کی بطورِ کل صورتِ حال بہتر بنا دی۔

انہوں نے کہا کہ یہ خاص طور پر رمضان میں ظاہر ہے، ”جیسا کہ لوگوں کے ذہنوں سے دہشتگرد حملوں کا خوف زائل ہو چکا ہے،“ مساجد میں عبادت کے لیے، افطار تقریبات میں اور بازاروں میں بڑے مجمع دیکھے جا سکتے ہیں۔

شاہ نے کہا، ”جارح عسکریت پسند افغانستان فرار ہو چکے ہیں، اور ان کے دوبارہ داخلے کی انسداد کے لیے ان کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ بلاک کر دیے گئے ہیں۔ سرحد پر سخت سیکیورٹی برقرار رکھی گئی ہے جس کی وجہ سے رواں برس پاکستان بھر میں بطورِ کل دہشتگرد حملوں میں کمی آئی ہے۔“

عسکری پسندوں کا ہدف صوفی مزارات

تاہم، شاہ کے مطابق، افغانستان میں روپوش مایوس عسکریت پسند پاکستان میں تاحال موجود ایسی ہی ذہنیت کے عسکریت پسندوں کی حمایت سے کم تحفظ والے صوفی مزارات کو ہدف بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ”ٹی ٹی پی، لشکرِ جھنگوی اور لشکرِ اسلام صوفی مزارات کو ناپسند کرتے ہیں، اور وہ خونریزی اور مذہبی عدم رواداری پیدا کرنے کے لیے ان مقامات پر حملے کر رہے ہیں۔“

شاہ نے کہا، ”لیکن سیکیورٹی انتظامات میں بہتری سے دہشتگردی کے رجحان کی بھی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔“

سیکیورٹی تجزیہ کار کرنل (ریٹائرڈ) مختار احمد بٹ نے اس تعین کی توثیق کی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”سیہون شریف، صوبہ سندھ میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش حملہ کے بعد، جس میں 70 سے زائد افراد جاںبحق ہوئے تھے، سیکیورٹی اہلکاروں نے معلوم کیا کہ اس حملہ کے کروانے والے افغانستان میں تھے۔“

انہوں نے کہا کہ اس بم حملے کے بعد حکومت نے حساس مقامات کو دہشتگردی سے محفوظ رکھنے کے لیے اضافی سیکیورٹی اقدامات کیے۔

سرحدی سلامتی پر تعاون

لیکن پاکستان کی خوش نصیبی افغانستان کی بدنصیبی بھی ہوسکتی ہے، انہوں نے بتایا، جیسا کہ "دولت اسلامی" (داعش) اور دیگر انتہاپسند نظریات والے گروپوں نے کابل اور ملک کے دیگر حصوں میں حملے تیز کر دیے ہیں۔

بٹ نے بتایا، "ہم نے 2017 میں افغانستان میں بد ترین حملے دیکھے ہیں جن میں سینکڑوں شہری اور دفاعی اہلکار جاں بحق اور زخمی ہوئے۔"

انہوں نے بتایا، پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار عسکریت پسندوں کا مرکزی ہدف بن گئے ہیں جو انھیں سڑک کنارے نصب بموں اور پولیس اور ملٹری کی اکیلی گاڑیوں پر حملوں کے ذریعے نشانہ بناتے ہیں۔

انہوں نے بتایا، "اس مرحلے پر فرقہ وارانہ ہلاکتوں پر گرفت اور افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کو روکنے کی ضرورت ہے، جبکہ دونوں ملکوں کو مستقل امن کی بحالی کے لئے مذاکرات کرنے چاہئیں۔"

پاکستان دہشت گردی کے خلاف متحد ہے

دفاعی تجزیہ کار اور کراچی میں تعینات ڈیلی پاکستان کے مدیر مبشر میر نے بتایا، عسکریت پسند گروپس پاکستانیوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن تمام عقائد کے لوگ متحد ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "عسکریت پسند صوفی بزرگوں کے مزارات کو نشانہ بنا رہے ہیں جو پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور امن کی علامت ہیں۔"

انہوں نے بتایا، "مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان مزاروں پر حاضری دیتے ہیں، اور پاکستان میں غیر مسلم بھی امن روادری اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے مزارات پر حاضری دیتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج