|

تعلیم

پشاور میں صحافت کے طلبا، آسٹریلیا کے ساتھ منسلک ہو گئے

ورچوئل لیکچرز اور تربیتوں کے ایک سلسلہ نے نوجوان صحافیوں کو اپنے تجربات، مہارتیں اور رپورٹنگ کا تبادلہ کرنے کا موقع دیا۔

دانش یوسفزئی


23 مئی کو یونیورسٹی آف پشاور کے طالبِ علم اور صحافی ایک ورچوَئل کلاس میں شرکت کرتے ہوئے سکائپ کے ذریعہ آسٹریلیا کے صحافت کے طالبِ علموں سے تعامل کر رہے ہیں۔ [دانش یوسفزئی]

23 مئی کو یونیورسٹی آف پشاور کے طالبِ علم اور صحافی ایک ورچوَئل کلاس میں شرکت کرتے ہوئے سکائپ کے ذریعہ آسٹریلیا کے صحافت کے طالبِ علموں سے تعامل کر رہے ہیں۔ [دانش یوسفزئی]

پشاور — پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان طویل فاصلوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دونوں ممالک سے صحافت کے طالبِ علموں نے حال ہی میں خبروں پر مبنی مشترکہ کہانیاں تشکیل دینے پر مل کر کام کیا۔

مل کر سٹوریز رپورٹ کرنے سے قبل یونیورسٹی آف پشاور اور رائل میلبرن انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آر ایم آئی ٹی) کے طالبِ علم سکائپ کے ذریعے حقیقی طور پر منسلک رہے اور مئی 2 -23 تک چار ہفتوں پر مبنی لیکچرز اور نصابی سرگرمیوں میں شرکت کی۔

یونیورسٹی آف پشاور کے پروفیسر الطاف اللہ خان، آر ایم آئی ٹی کی پروفیسر الیگزانڈر ویک اور امریکہ کی سٹینفرڈ یونیورسٹی کی محقق کیتھ بووین جنہوں نے نصاب تشکیل دیا، نے نصاب پڑھایا۔

اس نصاب کا محرّک یہ یقین تھا کہ صحافت کے طالبِ علم جو بصورتِ دیگر حدیں پار کر کے ایک دوسرے سے نہیں سیکھ سکتے اور تعلقات استوار نہیں کر سکتے۔

خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک سے صحافیوں اور طالبِ علموں کی ایک دوسرے کی مدد کرنے اور معیاری صحافت پیدا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں اس میں مشغول کرنا تھا۔“

انہوں نے کہا، پاکستان اور آسٹریلیا میں نوجوان صحافیوں کے مابین حقیقی تبادلات تشکیل دینے سے ”باہمی اتفاقِ رائے اور روابط پیدا ہوئے۔ اب وہ مل کر کام کر سکتے ہیں اور اپنے ممالک سے ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں۔“

سلامتی کے خدشات پر قابو پانا

خان نے کہا کہ سلامتی کی نازک صورتِ حال کی وجہ سے خیبرپختونخوا (کے پی) اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے صحافی ہمیشہ کے خدشہ کی زد میں ہوتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”تاہم ایک مقامی صحافی کو ایک غیرملکی کی نسبت کم خدشات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مغربی صحافیوں کے لیے پشاور اور فاٹا آ کر اس خطہ سے خبروں پر مبنی کہانیاں تشکیل دینا مشکل ہے۔“

خان نے کہا ہر یونیورسٹی سے اٹھارہ طالبِ علموں نے ”خطۂ تنازع سے رپورٹنگ“ کے نصاب میں شرکت کی، انہوں نے مزید کہا کہ تنازع والے علاقوں کے صحافیوں کے اپنے مغربی ہم پیشہ افراد سے تکمیلی تعلقات ہیں۔

آر ایم آئی ٹٰی کی ایک رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا، ”وہ اکثروبیشتر مغربی صحافیوں اور فری لانسرز کے ساتھ کام کرتے ہیں لیکن مغربی پریس کے ثقافتی اسلوب اور اندرونی کارگزاری کا علم نہیں رکھتے۔“

انہوں نے کہا، ”صحافتی اور جمہوری اقدار کے فعال حامی، یہ نوجوان صحافی تاحال ان آپریشنل اور اداریاتی معمولات سے خود کو پریشان اور غیر مطمئن پاتے ہیں جنہیں وہ سمجھتے نہیں۔“

بچاؤ اور صحافیوں کےلیے ضروری دیگر موضوعات پر لیکچر نصاب کا جزُ تھے۔

خان نے پاکستان فاورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”شرکاء کو صحافیوں کے بچاؤ کی تکنیکوں کے بارے میں بتایا گیا اور انہیں سکھایا گیا کہ کیسے تنازع والے علاقہ سے رپورٹنگ کی جائے۔ لیکچر دینے والوں نے عالمی، امن اور ترقیاتی صحافت پر بھی لیکچر دیے۔“

انہوں نے کہا کہ طالبِ علموں نے براہِ راست مباحثوں میں شرکت کی اور ایک دوسرے سے اپنے تجربات اور نظریات کا تبادلہ کیا۔

آر ایم آئی ٹی سکول آف میڈیا اینڈ ڈیجیٹل کمیونیکیشن میں ایک سینیئر لیکچرار، ویک نے کہا کہ نوجوان آسٹریلوی صحافیوں کے لیے پشاور سے خبریں رپورٹ کرنا کافی مشکل ہے کیوں کہ اس کے لیے اضافی وسائل – جیسا کہ مترجم، سیکیورٹی پرمٹ اور کلیئرنسز—درکار ہیں، جو جس کی وجہ سے نئی معلومات کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔

لیکن، ویک نے کہا کہ، اب انٹرنیشنل ورچوَئل ایکسچینج کورس کی کامیابی سے تکمیل کے بعد ان کے طالبِ علم اپنے پاکستانی ہم پیشہ کی مدد سے پشاور اور فاٹا سے خبریں رپورٹ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”وہ پشاور میں اپنے روابط استعمال کرتے ہوئے معلومات اکٹھی کر سکتے ہیں اور ںشر کیے جانے کے لیے خبروں پر مبنی کہانیاں لکھنے میں اسے استعمال کر سکتے ہیں۔“

معلومات، تجربات کا تبادلہ

تربیت کا ایک منفرد حصہ طلبا کے چھوٹے گروپس کا نیوز اسٹوریز کی تخلیق تھا۔

پاکستانی طلبا نے آسٹریلیا میں مسائل سے متعلق اسٹوریز تیار کیں جبکہ آسٹریلوی طلبا نے پاکستان کے بارے میں اسٹوریز تحریر کیں۔

آسٹریلوی طلبا نے بتایا کہ وہ کورس میں حصہ لینے کے لئے پرجوش تھے اور اپنے کچھ احساسات پاکستان فارورڈ تک منتقل کیے۔

آرایم آئی ٹی طالب علم ولیم زیبیل نے بتایا، "کسی اور ملک میں صحافیوں سے رابطہ کرنے کے لئے اسکائپ اور سوشل میڈیا کا استعمال ایک بہت جدید اور دلچسپ تجربہ تھا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، آسٹریلوی طلبا کے لئے پشاور کے صحافیوں کے ساتھ کام کرنا ایک حیرت انگیز تجربہ تھا۔ "یعنی ہم نظریات پر تبادلہ خیال کرسکے اور تجربہ کار اور جہاندیدہ صحافیوں سے پشاور کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کیں۔"

زائیبیل کے گروپ نے ایک کہانی لکھی کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سیاسی تناؤ کس طرح سرحد کے آرپار شادیوں کو متاثر کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پشاور میں اپنے ہم منصبوں کی جانب سے مدد کے بغیر کہانی کے لئے کافی معلومات کے حصول کے قابل نہیں ہوسکتے تھے۔

آرایم آئی ٹی کی طالب علم ایلن مک کوشن نے بتایا، آسٹریلوی طلبا نے اپنے پاکستانی ہم منصبوں کی ایپیکس گینگ پر اور کچھ تارکین وطن کو آسٹریلیا میں درپیش سماجی مسائل کے بارے میں رپورٹ کی تیاری میں مدد کی۔

"ہم نے آسٹریلین بیورو آف اسٹیٹسٹکس، وکٹوریہ پولیس اور سیاست دانوں کے دفاتر سے اعدادو شمار اکٹھے کیے،" انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔ "ہم نے ایک نوجوان مجرم [اپیکس گینگ کا رکن] سے انٹرویو بھی کیا کہ وہ کن جرائم میں ملوث رہ چکا تھا۔"

مک کوشن نے بتاتے ہوئے کہ وہ کورس کی قدر کرتی ہیں مزید کہا کہ اپنے پاکستانی ساتھیوں کی مدد کے بغیر وہ افغان خاندانوں کے بارے میں نیوز اسٹوری لکھنے کے قابل کبھی نہیں ہوسکتی تھیں۔

یونیورسٹی آف پشاور کے طالب علم حسن علی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "آسٹریلوی ہم منصبوں کے ساتھ گروپ میں کام کرنا ایک منفرد تجربہ تھا۔"

"ہم آسٹریلوی صحافیوں کے لئے فاٹا سے معلومات اکٹھی کرسکے،" انہوں نے بتایا۔ "اسی طرح سے، ہمارے آسٹریلوی دوستوں نے ریاست وکٹوریہ میں زیادہ ترتارکین وطن نوجوانوں پر مشتمل ایپیکس گینگ کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔"

کامیابی پر تعمیر

ویک نے کہا کہ اس نصاب کا مستقبل نہایت روشن ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں یونیورسٹی آف پشاور اور آر ایم آئی ٹی نوجوان صحافیوں میں وسیع تر مراسلت کو فروغ دینے کے لیے مزید آن لائن کورسز کا انتظام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ویک اور خان اس کورس کی کامیابی کو طالبِ علموں کی پیدا کردہ خبروں پر مبنی کہانیوں سے مربوط کرتے ہیں۔

خان نے کہا، ”آسٹریلیوی میڈیا میں پشاور کی خبروں پر مبنی کہانیوں اور پاکستانی میڈیا میں آسٹریلیا کی خبریں پڑھ کر کامیابی کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔“

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج