2017-06-08 | معیشت

ای روزگار ٹریننگ پروگرام نے پنجاب میں نوجوانوں کے لیے در کھول دیے

آمنہ ناصر جمال

حکومتِ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کاروباری مہارتوں میں 10,000 نوجوانوں کو تربیت دینے کا ہدف رکھتی ہے۔


وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں محمّد شہباز شریف (درمیان) مارچ میں لاہور میں صوبے کے ای روزگار پروگرام کا افتتاح کر رہے ہیں۔ [آمنہ ناصر جمال]
وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں محمّد شہباز شریف (درمیان) مارچ میں لاہور میں صوبے کے ای روزگار پروگرام کا افتتاح کر رہے ہیں۔ [آمنہ ناصر جمال]
وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں محمّد شہباز شریف (درمیان) مارچ میں لاہور میں صوبے کے ای روزگار پروگرام کا افتتاح کر رہے ہیں۔ [آمنہ ناصر جمال]

حکومتِ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کاروباری مہارتوں میں 10,000 نوجوانوں کو تربیت دینے کا ہدف رکھتی ہے۔

لاہور — پنجاب کے نوجوان صوبائی حکومت کے ای روزگار پروگرام کی جانب سے تشکیل دیے گئے مواقع کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں محمّد شہباز شریف نے 28 مارچ کو لاہور میں اس پروگرام اور پاکستان کے پہلے نیشنل فری لانسنگ کنونشن کا افتتاح کیا۔

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) نے نوجوانوں کو متعدد انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کاروباری مہارتوں میں تربیت دینے کی غرض سے ای روزگار پروگرام کا آغاز کیا۔

ابتدائی طور پر اس پروگرام کا ہدف صوبے بھر میں ای روزگار مراکز پر 10,000 نوجوانوں کو انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے گھر بیٹھے حصولِ معاش کے لیے تربیت دینا ہے۔

پہلے فری لانسنگ کنونشن میں 500 امّیدواران نے شرکت کی، جو تین مراحل پر مشتمل ایک اعلیٰ مسابقتی عمل سے گزرے۔

شریف نے پروگرام کے افتتاح کے موقع پر کہا، ”اس پروگرام کا آغاز فارغ التحصیل نوجوانوں کی روزگار کی صلاحیّت میں اضافہ کی غرض سے کیا گیا۔“

شریف نے کہا، ”تعلیم سے مزیّن ہونے کے بعد نوجوان ملک کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کو اپنی توجہ صرف تعلیم ہی پر مرکوز کرنی چاہیئے کیوں کہ حکومت ان [کی تربیت] کے تمام تر اخراجات اٹھائے گی۔“

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم دینے کے چیلنجز کو مواقع میں منتقل کیا جانا چاہیئے۔

بے روزگاری میں کمی

یہ ای روزگار پروگرام ایسی تکنیکی مہارتوں کی بڑھوتری پر مرکوز ہے جو آن لائن پلیٹ فارمز پر کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔

شریف نے کہا، ”یہ صرف ایک تربیتی پروگرام نہیں، بلکہ ایک انقلاب ہے جو روزگار پیدا کرنے اور پاکستان کو [ٹیکنالوجی کی عالمی دوڑ میں] حصّہ لینے کے لیے تیار کرنے میں مدد گار ہو گا۔“

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد پنجاب میں نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور انہیں روزگار فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا، ”یہ منصوبہ بالخصوص صوبے میں بے روزگار اور کم روزگار کے حامل نوجوانوں کو آن لائن مواقع کے حصول اور فری لانسنگ کے ذریعہ انہیں عالمی طور پر مربوط کرنے کے لیے بنیادی، وسطی اور اعلیٰ سطحی مہارتیں فراہم کرتے ہوئے منفعت فراہم کرے گا۔“

شریف نے کہا کہ حکام 36 اضلاع میں 40 ای روزگار مراکز تشکیل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں نوجوان 31/2 ماہ کی تربیتی نشستوں میں شرکت کریں گے جو انہیں ان لائن ملازمتوں کے ذریعے حصولِ معاش کے قابل بنائیں گی۔

انہوں نے کہا، ”نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں اور ان کی معاشی عطائے اختیار کے بغیر ملک کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی۔“

تخلیقی ملازمت کے محرّکات

پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعداد -- پنجاب کے کھیلوں اور امورِ نوجوانان کے وزیر جہانگیر خانزادہ نے کہا، آبادی کے 60 فیصد پر مشتمل نوجوان افراد کو – ”تخلیقی روزگار کے محرّکات کی ضرورت ہے“۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”یہ پروگرام مواقع تشکیل دینے اور ہمارے عوام بالخصوص نوجوانان کے پاس موجود بے پایاں ہنر سے استفادہ کرنے کے لیے علم، تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کے اتصال کی جانب ایک اختراعی اقدام ہے۔“

انہوں نے کہا، ”ای روزگار انٹرنیٹ پر مبنی فری لانسنگ کے ذریعے ہمارے نوجوانوں کو آجروں سے مربوط کرتا ہے اور درست تربیت کے ذریعے ان کی مہارتوں میں بے پناہ قدرِ اضافی کے لیے ایک اختراعی آلہ کے طور پر سامنے آتا ہے۔“

خانزادہ نے کہا کہ یہ پروگرام ”ملازمتوں کی منڈی کو منقلب کرے گا اور ایک متبادل خود روزگار اور خودکفیل سروس ماڈل کو فروغ دے گا۔“

نوجوانوں کی عطائے اختیار

پنجاب کے نوجوان اس پروگرام کو منفعت بخش محسوس کر رہے ہیں۔

لاہور میں کنیئرڈ کالج برائے خواتین سے کمپیوٹر سائنس میں فارغ التحصیل اور ای روزگار کی ایک زیرِ تربیت شبانہ اظہار نے کہا، ”ایک فری لانسر کے طور پر آپ کو اپنی مہارتوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آپ اپنی مہارتوں میں زیادہ معروف ہو سکیں۔“

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”وقت کے ساتھ ساتھ فری لانسنگ زیادہ سے زیادہ معروف ہوتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے زیادہ تر یقین رکھتے ہیں کہ فری لانسگ ایک کامیاب کاروباری بننے میں آپ کی رہنمائی کرتی ہے۔“

لاہور میں کمپیوٹر سائنس میں اپنے ماسٹرز پر کام کرنے والے ایک اور زیرِ تربیت لطیف مہر نے کہا، ”ایک فری لانسر کے طور پر کام کرنا آپ کے اور آپ کی خدمات کے بارے میں جاننے کا بہترین طریقہ ہے اور یہ آپ کے حلقۂ مہارت کے پیشہ وران ، گاہکوں اور دیگر فری لانسرز سے نیٹ ورکنگ میں بھی مددگار ہے۔“

انہوں نے پاکستان فاروڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فری لانسگ نوجوان کارکنان کو تجربہ حاصل کرنے اور اپنے پیشہ ورانہ نیٹ ورک کو بڑھانے میں مددگار ہے۔ یہ نوجوان کارکنان کے لیے ”اپنی دلچسپی کے شعبہ کا تجزیہ کرنے اور [اس امر کا تعین کرنے کے لیے] بھی مدد گار ہے کہ آیا یہ ابھی تک قابلِ عمل اور کارآمد انتخاب ہے۔“

پی آئی ٹی بی کے چیئرمین عمر سیف نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”اس پراجیکٹ کا مقصد نوجوانوں، بالخصوص خواتین کو آئی ٹی پر مبنی تربیتوں اور ورکشاپس کے ایک سلسلہ کے ذریعے سیکھنے اور کمانے کے لیے عطائے اختیار دینا ہے۔“

انہوں نے کہا، ”پاکستانی پہلے ہی دنیا بھر میں فری لانسر فراہم کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے، اور اس اقدام سے ہمیں ۔۔۔ ہمارے اس درجہ کو مجتمع کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ ہمارے نوجوانوں کو ملک کے لیے بیش قیمت زرِ مبادلہ کمانے کے قابل بنائے گا۔“

انہوں نے یکم جون کو یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، ٹیکسلا میں ایک ای روزگار مرکز کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ اس پروگرام کا مقصد تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور علم پر مبنی معاشی سرگرمی کے ذریعے خود روزگاری کو فروغ دینا ہے۔

یونیورسٹی آف گجرات اور گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کے بعد یہ پروگرام کے آغاز کے بعد کھلنے والا یہ تیسرا مرکز تھا۔

ہر سال 10,000 نوجوانوں کی تربیت

ای-روزگار کا ہدف ہر سال 10,000 نوجوانوں کو "آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی مہارت سے پیسے کمانے" کی تربیت فراہم کرنا ہے۔ سیف نے بتایا۔ "اس سے ہمارے نوجوانوں کو عالمی منڈیوں سے منسلک ہوکر باعزت روزگار حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔"

ای-روزگار پروگرام کے لئے زیادہ درخواستیں لاہور سے آئیں، جہاں سے 4,946 امیدواروں نے، اس کے بعد فیصل آباد سے 3,255 ،ملتان سے 2,248، راولپنڈی سے2,023 ، بہاولپور سے 1,430، گوجرانوالہ سے 1,268، سرگودھا سے 1,222 اور 1,026 نے رحیم یار خان سے درخواستیں دیں۔

ایک کڑے امتحانی عمل سے گزر کر کچھ درخواست دہندگان موجودہ مراکز میں تربیتی پروگرام میں شرکت کے لئے منتخب کیے گئے۔

پہلے مرحلے کے دوران ای-روزگار مراکز، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، بہاالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، کامسیٹ انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی واہ، خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹکنالوجی رحیم یار خان، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور اور انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور میں بھی قائم کیے جائیں گے.

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

4 تبصرے

Shahbaz Gull | 06-15-2017

Bohat Acha program young generation ko bohat zarorat hy half as half Ye program multan main b shut Kya jae ta k Hum b Es se faida utha Daley.

EJAZ AHMAD | 06-11-2017

ساہیوال شہر یا ضلع اوکاڑہ میں بھی کوئی مرکز کھولیں

Dr Shoaib | 06-10-2017

براہِ کرم مجھے اس مضمون کی تفصیلات ارسال کریں تاکہ ویٹرینری یونیورسٹی کے ہمارے طالبِ علم بھی درخواست دے سکیں۔

malik asad | 06-09-2017

ya rozgar kesa hasil kia ja sakta hay olz help me

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج