|

سلامتی

پاکستان نے داعش اور طالبان سے لڑنے کے لیے اپنی عسکری حکمتِ عملی تبدیل کر لی

اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ آپریشن ردّالفساد نے فروری میں دہشتگردانہ تشدد میں ہونے والے اضافہ کو مؤثر طور پر روکا۔

جاوید محمود


اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فروری میں شروع ہونے والا آپریشن ردّالفساد دہشتگردی اور عسکریت پسندی پر کریک ڈاؤن میں تنائج دکھا رہا ہے۔ لیکن، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افواج پاکستان کو دیرپا سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی حکمت ہائے عملی مرتب کرنا ہوں گی۔ گزشتہ 19 نومبر کو پاکستانی بارڈر سیکیورٹی فورس پشاور میں عسکری مشقوں میں شریک ہیں۔ [اے مجید/اے ایف پی]

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فروری میں شروع ہونے والا آپریشن ردّالفساد دہشتگردی اور عسکریت پسندی پر کریک ڈاؤن میں تنائج دکھا رہا ہے۔ لیکن، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افواج پاکستان کو دیرپا سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی حکمت ہائے عملی مرتب کرنا ہوں گی۔ گزشتہ 19 نومبر کو پاکستانی بارڈر سیکیورٹی فورس پشاور میں عسکری مشقوں میں شریک ہیں۔ [اے مجید/اے ایف پی]

اسلام آباد — تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ میں دہشتگردوں اور عسکریت پسند گروہوں کو نشانہ بنا کر آپریشن ردّالفساد نے پاکستان میں بڑے حملے کرنے کی دہشتگردوں کی صلاحیّت کو زائل کر دیا ہے۔

”دولتِ اسلامیۂ“ (داعش)، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور جماعت الاحرار(جے اے) جیسے اتحادی عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے قبول کیے گئے مہلک حملوں میں اضافہ کے بعد فروری میں شروع کیے گئے اس آپریشن نے تشدد کی بیخ کنی میں تیزی سے کامیابی حاصل کی۔

فروری کے اوائل میں جے اے نے شورشی ”آپریشن غازی“ کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی، اس میں بیان کیا گیا کہ اس کا ہدف قانون ساز ادارے، پاک فوج، انٹیلی جنس ایجنسیاں، سول سوسائٹی کی تنظیمیں، بینک اور مالیاتی ادارے، سیکیولر سیاسی جماعتیں، صحافی، تعلیمی ادارے اور ایسے دیگر اہداف کا ایک سلسلہ ہیں جو جے اے کے شدّت پسندانہ نظریات کو مسترد کرتے ہیں۔

جے اے نے ویڈیو میں کہا کہ وہ بازاروں، ہسپتالوں یا مساجد جیسے پر ہجوم مقامات اور دیگرعوامی اجتماعات کو ہدف نہیں بنائے گی۔

لیکن دہشتگردوں کے دوغلے پن پربرقرار رہتے ہوئے 13 فروری کو ”آپریشن غازی“ کا آغاز، ایک احتجاج کے دوران ہجوم کے اوقات میں مال روڈ پر ایک خودکش بم حملے سے کیا گیا، جو کہ لاہور کی مرکزی شریانوں میں سے ایک ہے۔ اس دھماکے میں 15 افراد جاںبحق ہوئے، جن میں 6 پولیس اہلکار شامل ہیں اور 87 دیگر تک زخمی ہوئے۔

تین روز بعد سیہون، صوبہ سندھ میں داعش کے خودکش حملہ آور نے 13 صدی کے مسلم صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پرحملہ کیا جس میں مقامی میڈیا کے مطابق، کم از کم 88 افراد جانبحق اور 350 سے زائد زخمی ہو گئے۔

یہ دو مہلک حملے فروری میں پاکستان بھر میں ہونے والے حملوں کے ایک سلسلہ میں سے تھے، جو22 فروری کو آپریشن ردّالفساد کے آغاز کے لیے ایک قوتِ محرکہ بنے۔ ردّالفساد پر کام کرنے والے فوجیوں کا مقصد جون 2014 میں شروع ہونے والے انسدادِ دہشتگردی کے جاری آپریشن ضربِ عضب کے ثمرات کو مستحکم کرنا ہے۔

داعش اور جے اے پر نشانہ

اسلام آباد کے مرکز برائے تحقیق و علومِ سلامتی (سی آر ایس ایس) کے ایگزیکیوٹیو ڈائریکٹر، امتیاز گل نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”عسکریت پسندوں کے 'آپریشن غازی' کی انسداد اور پاکستان میں داعش اور اس کے ملحقہ گروہوں کی عسکریت کو کچلنے کے لیے فوج نے پیشگی کاروائی کے ایک آپریشن کا آغاز کیا۔۔۔ اور متعدد عسکریت پسندوں بالخصوص داعش، جماعت الاحرار اور ان کے حامیوں سے تعلق رکھنے والوں کو ہلاک کیا۔“

انہوں نے کہا، ”آپریشن ضربِ عضب کا آغاز طالبان کے خلاف کیا گیا تھا، جبکہ آپریشن ردّالفساد کا آغاز داعش، جماعت الاحرار اور پاکستان میں داعش کی حمایت کرنے والے گروہوں کے خلاف اور ضربِ عضب کی کامیابیوں کو مجتمع کرنے کے لیے کیا گیا۔“

گل نے کہا کہ آپریشن ردّالفساد کے آغاز سے ”پاکستان میں سلامتی کی صورتِ حال میں نمایاں بہتری آئی ہے“ کیوں کہ عسکریت پسند ملک میں اس شدت کے ساتھ خونریزی کرنے کے قابل نہیں جس کا مظاہرہ انہوں نے فروری میں کیا“۔

سرحد پر دہشتگردوں کا تعاقب

پشاور سے تعلق رکھنے والے سینیئر سیکیورٹی تجزیہ کار برگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”آپریشن ضربِ عضب کے دوران چند کمانڈروں اور جارح [دہشتگردوں] نے سرحدی علاقوں میں پناہ لی۔۔۔ جہاں سے وہ پاکستانی سیکیورٹی عملہ اور شہریوں پر حملے کیا کرتے تھے۔“

انہوں نے کہا کہ آپریشن ردّالفساد نے ان سرحدی علاقوں میں چھپے عسکریت پسندوں کو ہدف بنایا اور یا تو ان عسکریت پسندوں کو ہلاک یا گرفتار کیا اور بصورتِ دیگر انہیں بھاگنے پر مجبور کر دیا۔

انہوں نے کہا، ”پاک فوج نے 2017 میں مہمند، باجوڑ اور کرم ایجنسیوں میں آپریشن کیے جس سے عسکریت پسندوں کے پاس افغانستان۔۔۔ فرار ہو جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچا۔“

انہوں نے کہا کہ شدت پسندی اور عسکریت پسندی کے خاتمہ کے لیے افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ اضافی سرحدی سیکیورٹی اور تعاون ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا، ”حکومتِ پاکستان اور فوج نے افغانستان اور نیٹو پر صوبہ کنڑ [افغانستان] کے علاقوں میں منتقل ہو جانے والے عسکریت پسندوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کے لیے زور دیا ہے۔“

انہوں نے تنبیہ کی، ”اگر افغان حکومت اور نیٹو افواج افغانستان میں بیٹھے عسکریت پسندوں کے خلاف [مزید] سخت کاروائی نہیں کرتے تو یہ پاکستان اور افغانستان میں مزید خونریزی کا باعث ہو گا اور عسکریت پسند گروہوں کو مستحکم کرے گا۔“

شاہ نے فضائی حملوں میں چند بدنام عسکریت پسند کمانڈروں کی ہلاکتکا خیر مقدم کیا اور کہا کہ عسکریت پسندی کو کچلنے کے لیے پاکستان افغانستان اور بین الاقوامی افواج کو ایک مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دینا ہو گی۔

انہوں نے کہا، ”آپریشن ردّالفساد کامیابی کے ساتھ پیش رفت کر رہا ہے اور ہم نے گزشتہ ماہ پاکستان میں کوئی بڑا دہشتگردانہ حملہ نہیں دیکھا، جو کہ اس آپریشن کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔“

دیرپا تحفظ لازمی

سی آرایس ایس کی 9 مئی کو شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق آپریشن ردالفساد کے نتائج ظاہر ہو رہے ہیں۔

جاری ملٹری آپریشن نے عسکریت پسند گروہوں ٹی ٹی پی، اور ٹی ٹی پی کے اتحادیوں لشکر اسلامی اور لشکر جھنگوی کو روپوش ہونے پر مجبور کر دیا ہے، جبکہ آئی ایس آئی ایس نے گزشتہ نومبر میں دو صوفیا کے مزارات، سندھ میں لعل شہباز قلندر اور بلوچستان میں شاہ نورانی کے مزار پر خود کش حملوں کی ذمہ داری قبول کر کے توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

رپورٹ کہتی ہے، گو کہ عسکریت پسندوں نے صرف فروری میں پاکستان بھر میں کم ازکم 11 حملے کیے ہیں، لیکن انھیں جنوری-مارچ 2017 کے دوران سویلینز سے زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس مدت کے دوران سیکورٹی فورسز نے 189 عسکریت پسند اور 58 جرائم پیشہ کو ہلاک کیا، جبکہ عسکریت پسندی اور تشدد میں 172 عام شہری جاں بحق ہوئے۔

2016 میں اسی مدت میں 104 شہادتوں کے مقابلے میں 2017 کی پہلی سہ ماہی میں عسکریت پسندوں نے 64 سیکورٹی اہلکاروں کو شہید کیا۔

کراچی میں روزنامہ پاکستان کے مقامی مدیر اور سیکورٹی تجزیہ کارمبشر میر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "بلاشبہ نئے ملٹری آپریشن کے آغاز کے بعد سیکورٹی مزید بہتر ہوئی ہے، لیکن یہ دیرپا ثابت نہیں ہوگی اگر سیکورٹی ادارے پاکستان میں اس نہ ختم ہونے والی خونی جنگ کے طاقتور کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے ہیں۔"

انہوں نے بتایا، "سیکورٹی اداروں کو بااثر سرمایہ کاروں، سہولت کاروں اور عسکریت پسندوں کے حمایتیوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیئے۔"

ایک نئے خطرے سے جنگ

سی آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ جوں جوں داعش کے خلاف شام اور عراق میں آپریشن میں علاقے قبضے میں لیے جارہے ہیں آئی ایس آئی ایس یا اس کے متعلقین کا پاکستان میں ظہور ایک پریشان کن مسئلہ ہے۔

رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ ٹی ٹی پی اور دیگر کالعدم تنظیموں کے عسکریت پسند اپنی وفاداریاں تبدیل کر رہے ہیں اور داعش میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں، اگر یہ رجحان جاری رہا تو پاکستان میں عسکریت پسندی کا منظر نامہ بدلا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملوں کے لئے شہری مراکز کا انتخاب، جو کہ ماضی میں دیگر عسکریت پسند تنظیموں حکمت عملی تھی، کے بجائے داعش نے کم محفوظ، نیم شہری علاقوں پر حملے شروع کیے ہیں، جو ایک نئی حکمت عملی کا اظہار ہے اور اب تک کیے گئے سیکورٹی آپریشنز کی افادیت پر سوال اٹھاتا ہے۔

رپورٹ کا اختتامیہ، سول اور ملٹری لیڈر شپ کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیئے بہتر طور پر سمجھنے کے لئے کہ اس نے معاشرے سے عسکریت پسندی کے خاتمے کے لئے اپنے عزم میں کیا سقم چھوڑے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 8

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج