|

دہشتگردی

افغانستان میں پیسوں اور علاقہ پر طالبان اور داعش کے درمیان تنازعہ

طویل عرصے سے مصیبتیں جھیلنے والے شہریوں سے لوٹ مار کرنے کی اہلیت پر یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں۔

سلیمان


8 اپریل 2017 کو صوبہ ہلمند کے شہر نادِ علی میں، جہاں طالبان نہایت سرگرم ہیں، ایک عسکری کاروائی کے دوان پولیس نگرانی کر رہی ہے۔ [نور محمّد/اے ایف پی]

8 اپریل 2017 کو صوبہ ہلمند کے شہر نادِ علی میں، جہاں طالبان نہایت سرگرم ہیں، ایک عسکری کاروائی کے دوان پولیس نگرانی کر رہی ہے۔ [نور محمّد/اے ایف پی]

کابل – حکام کا کہنا ہے کہ شہری آبادی سے لوٹ مار اور بھتہ خوری کی اہلیت میں ایک دوسرے کی ہمسری کی کوشش میں افغانستان بھر میں ”دولتِ اسلامیۂ“ (داعش) عسکریت پسند لڑائی میں جتے ہوئے ہیں۔

جاوزان کے گورنر کے ترجمان، محمّد رضا غفوری نے کہا کہ اپریل میں صوبہ جاوزان میں ایک لڑائی کے دوران دونوں گروہوں کے 87 ارکان ہلاک ہوئے۔

انہوں نے سلام ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا، ”اس تنازعہ کے نتیجہ میں طالبان کے دو کلیدی کمانڈروں سمیت ان کے 72 عسکریت پسندوں کی موت ہوئی اور 57 دیگر زخمی ہوئے، جبکہ داعش کے 15 ارکان بھی مارے گئے اور 15 دیگر زخمی ہوئے۔“

انہوں نے مزید کہا، ”مزید برآں داعش نے 10 طالبان ارکان کو گرفتار کیا۔ قوی امکان ہے کہ ان دونوں دہشتگرد گروہوں کے درمیان شدید تر تنازعات ہوں گے۔“

آبادی سے لوٹ مار

غفوری نے کہا کہ یہ دونوں گروہ شہریوں سے نقدی اور دیگر اثاثہ جات ضبط کر کے اپنی دہشتگردانہ سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا، ”قوش تیپا اور درزب کے اضلاع میں داعش کے تقریباً 100 ارکان اور 200 تا 300 طالبان موجود ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ان علاقوں کے مکین شورشیوں کے ہاتھوں ڈکیتیوں اور اس سے بھی بدتر کا شکار ہیں۔

غفوری نے کہا کہ دو ماہ قبل داعش نے تین عورتوں کو یرغمال بنایا اور بعد ازاں انہیں قتل کر دیا، انہوں نے مزید کہا کہ عسکریت پسندوں نے 60 گھروں کو نذرِ آتش بھی کر دیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق داعش نے مبینہ طور پر غلط فہمی میں قیاس کیا کہ ان عورتوں کا تعلق مقامی پولیس سے تھا اور بدلہ لینے کے لیے انہیں قتل کر دیا۔

باشندوں نے سلام ٹائمز کو داعش اور طالبان عسکریت پسندوں، ہر دو کے ہاتھوں اپنی مستقل ابتلا کے بارے میں بھی بتایا۔

کوش تیپا کے ایک سابق باشندے شریف اللہ، جو علاقہ سے فرار ہو گئے اوراب کابل میں رہتے ہیں، نے کہا، ”قبل ازاں طالبان ہمارے علاقے کے باشندوں سے دن میں تین مرتبہ کھانا ضبط کرتے تھے۔ اب طالبان اور داعش دونوں یہی کرتے ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”ہر ماہ ہر خاندان کو دونوں گروہوں کو کم از کم 500 افغان افغانی (7.35 امریکی ڈالر) ادا کرنا پڑتے تھے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ نسبتاً متمول خاندانوں کو زیادہ ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

پیسے پر خاندانی دشمنی

جاوزان کے پولیس سربراہ رحمت اللہ ترکستانی نے سلام ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں گروہوں نے مقامی لوٹ مار پر اور داعش کی جانب سے تین طالبان کمانڈروں کے قتل کے بعد لڑنا شروع کیا۔

انہوں نے کہا، ”[19 اپریل کو] متعدد طالبان کوش تیپا اور درزاب کے باشندوں کو انہیں پیسے دینے پر مجبور کرنے کے بعد ان علاقوں سے واپس لوٹ رہے تھے کہ داعش نے ان پر گھات لگا کر حملہ کر دیا۔ تب سے لڑائی کا آغاز ہوا۔“

انہوں نے مزید کہا، ”تنازعہ کی ایک اور وجہ۔۔۔ [15 اپریل] کو داعش کی جانب سے تین کلیدی طالبان کمانڈروں کا قتل تھی۔ وہ تینوں منشیات کے اسمگلر بھی تھے۔“

انہوں نے کہا، ”صوبہ جاوزان میں افغان نیشنل سیکیورٹی اور دفاعی افواج داعش اور طالبان دہشتگرد گروہوں پر کریک ڈاؤن کرنے کے لیے تیار ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”جلد ہی“ صوبہ میں آپریشن خالد کا آغاز ہو جائے گا۔

حالیہ طور پر افواج 13 صوبوں میں آپریشن کر رہی ہیں، جن میں طالبان اور داعش عناصر کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔

اس سے بھی زیادہ تشدد متوقع

درزاب کی نمائندگی کرنے والے افغان پارلیمان کے ایک رکن عبدالستار درزابی نے متنبہ کیا کہ جاوزان میں عسکریت پسندوں کی لوٹ مار کے ایک فیصلہ کن خاتمہ کے بغیر اس کے متنازعہ اضلاع میں تشدد بدتر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے سلام ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا، ”طالبان اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں بزورِ بازو عشر، زکوۃ اور مذہبی محصول وصول کرتے تھے۔ لیکن اب داعش نے بھی عشر اور زکوۃ جمع کرنے کا آغاز کر دیا ہے جو طالبان کے لیے قابلِ قبول نہیں۔“

انہوں نے کہا کہ شہریوں سے پیسہ اینٹھنے کے اس مقابلہ کی وجہ سے گروہوں کے درمیان ”مزید خونریز تنازعات عین متوقع ہیں۔“

درزابی نے کہا، ”ایک یا دو ماہ میں فصل کی کٹائی کا آغاز ہو جائے گا، اس لیے ہر گروہ دوسرے کو شکست دینے کے لیے کوشاں ہے، تاکہ وہ بلا مقابلہ فصلوں سے عطیات اور محصولات جمع کر سکے۔“

انہوں نے کہا، ”داعش اور طالبان کی کاروائیوں سے شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔“

ضلع درزاب کے رہائشی سید جمیل نے سلام ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ہمارے لوگ داعش اور طالبان کے مسلسل خوف میں رہتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ ایک دوسرے سے لڑتے رہیں، تاکہ وہ ایک دوسرے کو قتل کر دیں۔“

انہوں نے کہا، ”میں حکومت پر زور دیتا ہوں کہ وہ جلد از جلد درزاب میں ایک آپریشن کا آغاز کر دے۔“

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 9

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج