|

جرم و انصاف

خیبرپختونخواہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کام کر رہا ہے

حکام کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کی لعنت کا خاتمہ کرنے کے حل کا ایک حصہ نوجوانوں کی تعلیم ہے۔

دانش یوسف زئی


مارچ 2016 کو حکام اور سرگرم کارکن اسلام آباد میں بدعنوانی کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کے لیے مارچ کر رہے ہیں۔ ]بہ شکریہ پاکستان قومی احتساب بیورو[

مارچ 2016 کو حکام اور سرگرم کارکن اسلام آباد میں بدعنوانی کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کے لیے مارچ کر رہے ہیں۔ ]بہ شکریہ پاکستان قومی احتساب بیورو[

پشاور - اے سی اے کے ڈائریکٹر جنرل زیب اللہ نے کہا ہے کہ بدعنوانی پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور خیبرپختونخواہ (کے پی) کی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) اس کے خاتمے کا عزم کرتی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ کے پی کی حکومت آگاہی کی بہت سی مہمات چلا رہی ہے جن کا مقصد عوام کو "بدعنوانی کو انکار کرنا" سکھانے کے بارے میں تعلیم دینا ہے۔

زیب اللہ نے 15 مئی کو پشاور میں اقراء نیشنل یونیورسٹی (آئی این یو) میں انسدادِ بدعنوانی کے بارے میں ہونے والے ایک سیمینار میں کہا کہ بدعنوانی کا خاتمہ معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

آئی این یو میں بزنس ایڈمنسٹریشن کے ایک طالبِ علم واصف خان، اس سیمینار میں شرکت کرنے والے طلباء میں سے ایک ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "سرکاری اہلکاروں نے شرکاء کو بدعنوانی کے سماجی، قانونی اور اخلاقی مضمرات کے بارے میں آگاہ کیا۔ پاکستان کے شہری ہونے کے ناطے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم چور راستوں کی نشاندہی کریں اور بدعنوانی کو "انکار" کریں"۔

زیب اللہ نے کہا کہ اے سی ای نے دوسری سرکاری تنظیموں کے تعاون سے، گزشتہ چھہ ماہ میں صوبہ بھر کے مختلف تعلیمی اداروں میں آگاہی کے سات پروگرام منعقد کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان مہمات کا مقصد کے پی کے نوجوانوں کو بدعنوانی کی برائیوں کے بارے میں تعلیم دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "نوجوان ہمارا مستقبل ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان بدعنوانی سے پاک معاشرے کو فروغ دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہم اس کی بنیادی وجوہات پر توجہ دینے اور اپنے صوبے کے نوجوانوں کو اس کے بارے میں تعلیم دینے سے بدعنوانی کی برائی کو اپنے معاشرے سے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

بنیادی وجوہات سے نپٹنا

آئی این یو کے وائس چانلسر شاہ جہان خان نے کہا کہ بدعنوانی ایک لعنت ہے اور ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "بدعنوانی پاکستان میں سنگین مسئلہ رہی ہے اور تمام فریقین کے مل کر کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہم بدعنوانی کی لعنت کو اپنے معاشرے سے مکمل طور پر ختم کر سکیں"

آئی این یو میں اقتصادیات کے ایک لیکچرار محمد طفر الحق نے کہا کہ "پاکستان میں بدعنوانی کی سب سے پہلی وجہ شفافیت اور احتساب کا نہ ہونا ہے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہماری معیشت میں خسارے کی ایک بڑی وجہ بدعنوانی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے معاشرے میں عدم مساوات کو فروغ ملتا ہے اور امیر اور غریب میں فرق زیادہ ہو جاتا ہے۔

پشاور یونیورسٹی کے ایک محقق اور ماہرِ شماریات رضا احمد نے کہا کہ "بدعنوانی میرٹ کا خون کر دیتی ہے"۔ انہوں نے شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اکثر اوقات ہم اپنے معاشرے میں بدعنوانی کا مشاہدہ کرتے ہیں مگر ہم اس کے بارے میں شکایت کرنا گوارا نہیں کرتے۔ اس کے نتیجہ میں، ہم سب اس کا نشانہ بن جاتے ہیں"۔

قدم اٹھانا

اے سی ای کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور انسدادِ بدعنوانی کی آگاہی مہم کے کوارڈینیٹر اسلام نواز نے کہا کہ ان کی تنظیم کو گزشتہ دس مہینوں میں قابلِ قدر کامیابی ملی ہے۔

نواز نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے سے بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے اے سی ای کو مکمل آزادی دی ہے۔

اے سی ای نے پولیس اور مجسٹریٹوں کی مدد سے، تقریبا 200 سے زیادہ صوبائی سرکاری ملازموں کو گرفتار کیا ہے جن میں اہلکار بھی شامل ہیں اور گزشتہ چند ماہ میں 300 ملین روپے (2.8 بلین ڈالر) بازیاب کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھہ ماہ میں، اے سی ای نے رشوت لینے کے الزامات میں کے پی کی صوبائی حکومت کے مختلف شعبوں سے چوبیس اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارا شعبہ، بدعنوانی سے جنگ اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے لڑنے میں بہت سنجیدہ ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ بدعنوان افراد کی نشان دہی کریں"۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اے سی ای "اپنے دائرے میں رہتے ہوئے تمام بدعنوان عناصر کے خلاف فوری قدم اٹھائے گی"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Iqbal Ahmad fayyaz | 06-01-2017

خوب

جواب

انتخاب

کیا آپ نئی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں؟

نتائج