| دہشتگردی

اے پی ایس کے متاثرین کے خاندانوں نے نئے حکومتی اقدامات کو خوش آمدید کہا ہے

اشفاق یوسف زئی


کے پی کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا خیبر کالج آف ڈینٹسٹری کے گریجوئٹ کو 28 اپریل کو ڈپلومہ دے رہے ہیں۔ ]بہ شکریہ گورنر ہاوس[

کے پی کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا خیبر کالج آف ڈینٹسٹری کے گریجوئٹ کو 28 اپریل کو ڈپلومہ دے رہے ہیں۔ ]بہ شکریہ گورنر ہاوس[

پشاور - دسمبر 2014 میں پشاور کےآرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) میں دہشت گردوں کی طرف سے شہید کیے جانے والے بچوں کے خاندان، ان کی جانب سے خیبر پختونخواہ (کے پی) حکومت کے تعلیمی اقدامات کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔

حکومت نے شہید ہونے والوں کے بہن بھائیوں کے لیے مفت میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم فراہم کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے اس حملے میں اسکول کے تقریبا 150 طلباء اور اساتذہ کو ہلاک کر دیا تھا۔

مفت پیشہ ورانہ تعلیم کی پیش کش ان خاندانوں کو ماضی میں دی جانے والی امداد کے علاوہ ہے جس میں نقد گرانٹ اور شہید ہونے والے بچوں کے نام پر اسکولوں کے نام تبدیل کرنا شامل ہے۔

کے پی کے وزیراعلی پرویز خٹک نے 14 اپریل کو کے پی کے شعبہ صحت کی طرف سے اس دن ہلاک ہونے والے کسی بھی بچے کے بہن یا بھائی کو مفت میڈیکل یا ڈینٹل تعلیم فراہم کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی۔

یہ درخواست دہندہ کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی طرف سے تسلیم شدہ کسی پروگرام میں داخلہ حاصل کرے۔

کامیاب درخواست دہندگان کے لیے کے پی کی حکومت تمام اخراجات ادا کرے گی جس میں ٹیوشن اور رہائش شامل ہے۔

نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے شوقین

اس پالیسی سے فائدہ اٹھانے کی امید کرنے والوں میں جنید آفریدی بھی شامل ہیں جن کے بھائی عدنان کو شہید کیا گیا تھا۔

آفریدی تین ماہ میں میڈیکل اسکول کے لیے داخلہ ٹیسٹ دینے والے ہیں۔

آفریدی جو کہ ایڈورڈز کالج پشاور میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں نے پہلے سال میں 88 فیصد نمبر حاصل کیے ہیں اور میں دوسرے سال میں اور بھی زیادہ کلاسیں لوں گا۔ اس لیے میرے لیے میڈیکل اسکول میں داخلے کا کافی زیادہ امکان موجود ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اے پی ایس کے شہیدوں کے "رشتہ داروں" کی طبی تعلیم کے لیے ادائیگی کرنا مناسب قدم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کے پی اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے دہشت گردی سے متاثر ہونے والے علاقوں کے شہریوں کی خدمت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دوسرے خاندان بھی اس پالیسی پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں۔

ظاہرہ بی بی جن کے بیٹے کو اے پی ایس میں شہید کر دیا گیا تھا، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہمیں اس بات پر خوشی ہے کہ حکومت نے طلباء کی قربانی کو سراہا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "اس بات کا امکان ہے کہ میری بیٹی میرٹ پر اس سال میڈیکل کالج میں داخل ہو جائے گی۔ ہر چیز مفت میں مل جانا بہت بڑی راحت ہے"۔

ان کی بیٹی حمیرا بی بی نے کہا کہ اسکول کے خرچے کی پریشانی اس کے والدین کے کندھوں سے اٹھ گئی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں اپنی ڈگری اپنے بھائی کے نام کروں گی"۔

انہوں نے کہا کہ "میرا ارداہ گائناکالوجسٹ بننے کا ہے تاکہ میں عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں زچہ و بچہ کی اموات کی شرح کو کم کر سکوں۔ یہ عسکریت پسندوں کو ملنے والا درست جواب ہو گا جو خواتین کو ڈاکٹر بننے اور ہسپتالوں میں کام کرنے سے روکنا چاہتے ہیں"۔

خیبر میڈیکل کالج کے ڈین پروفیسر نور الایمان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ میڈیکل یا ڈینٹل کالج کی تعلیم کے لیے ادائیگی کرنے کا فیصلہ "ان خاندانوں کو مالی امداد مہیا کرے گا جو اس تعلیم کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے"۔

انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت کی فراغ دلی کے بغیر، ایک ممکنہ میڈیکل طالب علم کو سرکاری کالج میں سالانہ50,000 روپے (500 امریکی ڈالر) اور ایک نجی کالج میں100,000 روپے (10,000امریکی ڈالر) کے خرچے کا سامنا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ہی، ان کے کالج نے تشدد سے متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے درخواست دہندگان کے لیے 30 فیصد نشتوں کا کوٹہ رکھا ہے۔

دہشت گردی سے جنگ کے لیے تعلیم کا استعمال

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے تجزیہ نگار خادم حسین نے کہا کہ تعلیم دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کی کنجی ہے۔

حسین نے کہا کہ معاشرے کو تعلیم کے حامی ایسے اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ طبی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم دہشت گردی کو طاقت سے وقتی طور پر ہی ختم کر سکتے ہیں یا اسے تعلیم سے ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ عسکریت پسندوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو لوگوں کو طبی امداد دینے سے انکار کرنے پر دنیا بھر میں بدنام ہیں"۔

پاکستان میں عسکریت پسندوں نے صحت عامہ کو نقصان پہنچانے والے دوسرے کام کرنے کے علاوہ پولیو کے قطرے پلانے والوں کو بھی ہلاک کیا ہے جس کے باعث پاکستان صرف ایسے تین ممالک میں سے ایک رہ گیا ہے جن میں ابھی تک پولیو کی وباء موجود ہے۔

سوات ڈسٹرکٹ کے سابقہ ہیلتھ افسر جاوید خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ 2007 سے 2009 تک سوات میں ٹی ٹی پی نے ہیلتھ یونٹس کو تباہ کیا جس سے ہزاروں شہری صحت کی سہولیات سے محروم ہو گئے۔

کے پی کے وزیرِ اطلاعات مشتاق احمد غنی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ کے پی اے پی ایس کے شہدا کے رشتہ دار طلباء کی تعداد پر کوئی حد نہیں لگائے گا جو اس وظیفے کے استعمال کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "قلم تلوار سے زیادہ طاقت ور ہے۔ ہم معیاری تعلیم سے لوگوں کو با اختیار بنانا چاہتے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

0
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha