|

مذہب

سندھ میں ریکارڈ تعداد میں مدارس کی بندش

نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کے تحت، صوبائی حکومت نے 'مشکوک سرگرمیوں' کی وجہ سے 2،311 مدارس کو بند کر دیا ہے۔

از آمنہ ناصر جمال


چھوٹی عمر کے طلبا 30 مارچ کو کراچی میں نیو ٹاؤن کے علاقے میں مسجد جامعہ علومِ اسلامیہ کے گیٹ سے گزر رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے صوبے میں تمام مدارس کو رجسٹر کر لیا ہے اور ان مدارس کو بند کر دیا ہے جو 'مشکوک سرگرمیوں' میں ملوث پائے گئے ہیں۔ [آمنہ ناصر جمال]

چھوٹی عمر کے طلبا 30 مارچ کو کراچی میں نیو ٹاؤن کے علاقے میں مسجد جامعہ علومِ اسلامیہ کے گیٹ سے گزر رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے صوبے میں تمام مدارس کو رجسٹر کر لیا ہے اور ان مدارس کو بند کر دیا ہے جو 'مشکوک سرگرمیوں' میں ملوث پائے گئے ہیں۔ [آمنہ ناصر جمال]

کراچی -- حکام کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومتِ سندھ نے صوبے میں مدارس کی رجسٹریشن کا کام مکمل کر لیا ہے، جس میں "مشکوک سرگرمیوں" کی بناء پر ہزاروں مدارس کو بند کر دیا گیا ہے۔

سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس اے ڈی خواجہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "حکومت نے 2،311 مدارس کو بند کر دیا ہے جبکہ مدارس کی جغرافیائی نقشہ بندی کر لی ہے۔"

حکومت نے "ایسے مدارس میں تلاشی کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں جو انتہاپسندی کو فروغ دیتے ہیں،" کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "مدارس کو مشکوک سرگرمیوں کی بناء پر بند کیا گیا تھا۔"

مدارس کی جغرافیائی نشاندہی اور رجسٹریشن نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کے اجزاء میں سے ایک ہیں، جو دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور پر قتلِ عام، جس میں دہشت گردوں نے 150 بچوں اور اساتذہ کو شہید کر دیا تھا، کے بعد لاگو کیا گیا تھا۔

سنہ 2015 کے اوائل میں جب جغرافیائی نشاندہی کا عمل شروع ہوا تو سندھ میں 9،590 مدارس تھے، جن میں سے 6،503 رجسٹرڈ تھے۔

وزارتِ داخلہ کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق، سندھ نے کسی بھی صوبے کی نسبت سب سے زیادہ مدارس کو بند کیا ہے۔

خیبرپختونخوا (کے پی) نے مدارس کی جغرافیائی نشاندہی کا 75 فیصد کام مکمل کیا ہے اور ابھی تک غیر قانونی سرگرمیوں کے شبہے میں 13 مدارس کو بند کیا ہے۔ بلوچستان نے 60 فیصد جغرافیائی نشاندہی مکمل کر لی ہے اور صوبے میں صرف ایک مشکوک مدرسے کو بند کیا ہے۔

پنجاب نے جغرافیائی نشاندہی کا عمل مکمل کر لیا ہے اور صرف دو مشکوک مدارس کو بند کیا ہے۔

علماء کا تعاون

خواجہ نے کہا کہ پولیس اور رینجرز نے سندھ میں کئی غیر اندراج شدہ مدارس پر چھاپے مارے، دستاویزات اور فون ضبط کر لیے اور کچھ علماء کو مزید تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا۔

انہوں نے کہا، "کچھ مدارس میں، حکام نے نفرت انگیز مواد برآمد کیا اور مدارس کے خلاف مقدمات درج کیے۔"

اپنے مدارس کو رجسٹر کروانے اور مشکوک مدارس کی تلاشی اور بندش میں تعاون کرنے پر دینی علماء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "ہم مختلف مکتبہ ہائے فکر کے علماء کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے اپنے مدارس کو رجسٹر کروانے میں تعاون کیا۔"

انہوں نے کہا کہ مدارس کا اندراج کروانا اور انہیں ضابطے میں لانا عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے میں کلیدی عناصر ہیں۔ کچھ دینی مدارس پر فرقہ واریت اور انتہاپسندی کو فروغ دینے کے الزامات لگتے رہے ہیں ۔۔۔ اور چند ایک تو فساد میں ملوث بھی رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ مدارس کا اندراج کرنا دین کی خدمت کرنے والوں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والوں کے درمیان تفریق کرنے میں مدد دے گا۔

عسکریت پسندی، فرقہ واریت کے خلاف جنگ

وزیرِ اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے دینی امور، سینیٹر عبدالقیوم سومرو نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "نیشنل ایکشن پلان عسکریت پسندی اور انتہاپسندی سے لڑنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ اس میں ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے مدارس کا اندراج اور انہیں ضابطے میں لانا بھی شامل تھا جن پر عسکریت پسندی کی حمایت کرنے یا اسے فروغ دینے کا شک ہے۔"

انہوں نے کہا، "قانون سازی کا مقصد مدارس کے اندراج، ضوابط اور سہولت کاری کے لیے ایک باضابطہ نظام وضع کرنا ہے۔ یہ مدارس کے ذرائع آمدن کا احتساب کرنے اور ان کے نصاب کی نگرانی کرنے اور نمازِ جمعہ کے لیے ضابطۂ اخلاق بنانے میں مدد کرے گا۔"

طلباء و طالبات کے طرزِ عمل کو بہتر بنانے کے ایک طریقے کے طور پر سومرو مدارس میں وردیاں متعارف کروانے کے حامی ہیں۔

انہوں نے کہا، "پانچوں مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے مدارس کے نمائندگان نے قانون سازی پر اکثریت سے اتفاق کیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے مدارس کے اندراج پر وفاقی حکومت سے رہنمائی طلب کی ہے اور یہاں تک کہ اس عمل میں چند ترامیم کی سفارش بھی کی ہے۔

سومرو، جو کہ سندھ میں مدارس کا اندراج کرنے کے لیے بنائی جانے والی 11 رکنی کمیٹی کے سربراہ ہیں، نے کہا، "اس عمل کا آغاز تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورت کے بعد شروع کیا گیا تھا، جس میں مختلف مکتبہ ہائے فکر کے مدارس کی نمائندگی کرنے والے پانچوں بورڈز کے بڑے علماء شامل تھے۔"

انہوں نے کہا، "مدارس کو بتدریج مرکزی دھارے میں لاتے ہوئے وہاں سے فرقہ واریت کے ماحول کو ختم کیا جائے گا۔"

انہوں نے کہا، "سندھ حکومت [۔۔۔] فرقہ ورانہ ہم آہنگی پیدا کرنے اور نفرت اور انتہاپسندی کو ختم کرنے کا عہد کرتی ہے۔"

مضبوط سیاسی عزم

کراچی کے مقامی ایک دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) راشد علی ملک نے کہا کہ پاکستان میں علماء کا بے حد احترام کیا جاتا ہے اور ایسے لوگوں کی مزاحمت پر قابو پانا مشکل ہے جو مدارس کے اندراج اور انہیں منضبط کرنے کی مزاحمت کرتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "مدارس میں بدنام عناصر کے ساتھ نمٹنے کے لیے مضبوط سیاسی عزم درکار ہے۔ مزید برآں، مدارس کے ذرائع آمدن کی شناخت ہونی چاہیئے اور یہ ضابطے کے تحت ہو اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ان کے نصاب پر نظرِ ثانی کی جائے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Amir | 09-13-2017

مدرسوں کے نصاب پر باقائدگی سے نظرِ ثانی ہونی چاہیئے اوراسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیئے۔ مدرسوں کا انصرام صرف ایچ ای سی کے پاس ہی ہونا چاہیئے۔

جواب

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج