|

مذہب

جے یو آئی-ایف کے صد سالہ اجتماع میں دہشت گردی کی مذمت، امن کی حمایت

قائدین نے "اسلامی نظریات پر سختی سے کاربند ہونے کو کہا، جو پیار، بھائی چارے، ہم آہنگی، بقائے باہمی اور عدم تشدد کا درس دیتے ہیں۔"

از عدیل سعید


جمعیت علمائے اسلام (فضل) کے قائد مولانا فضل الرحمان 7 اپریل کو نوشہرہ میں اپنی جماعت کی صد سالہ تقریب میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے۔ مقررین نے دہشت گردی کی مذمت کی اور امن کا مطالبہ کیا۔ [جے یو آئی-ایف]

جمعیت علمائے اسلام (فضل) کے قائد مولانا فضل الرحمان 7 اپریل کو نوشہرہ میں اپنی جماعت کی صد سالہ تقریب میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے۔ مقررین نے دہشت گردی کی مذمت کی اور امن کا مطالبہ کیا۔ [جے یو آئی-ایف]

پشاور -- دہشت گردی کو مسترد کرنا اور امن اور رواداری کو اپنانا ایک دینی سیاسی جماعت، جمعیت علمائے اسلام (فضل) کی حال ہی میں ہونے والی صد سالہ تقریبات کے اختتامی اصول اقوال تھے۔

جماعت کی صد سالہ تقریبات منانے کے لیے جے یو آئی-ایف کے لاکھوں پیروکار 7 تا 9 اپریل کو نوشہرہ، خیبرپختونخوا (کے پی) میں جمع ہوئے۔

مختلف مقررین کی جانب سے پیغام ایک ہی تھا: ہم آہنگی اپنانا اور دہشت گردی کو ترک کرنا۔

شرکاء میں امامِ کعبہ، شیخ صالح بن محمد ابراہیم، اور سعودی وزیر برائے اسلامی امور صالح ابن عبدالعزیز ابن محمد الشیخ شامل تھے۔

غیر مسلمان بھی تقریب میں شریک ہوئے، جن میں یونائیٹڈ چرچ آف پاکستان کے پادری، نذیر عالم شامل تھے۔

جے یو آئی-ایف کے قائد، امامِ کعبہ کی جانب سے دہشت گردی کی مذمت

جو یو آئی-ایف کے مرکزی امیر، مولانا فضل الرحمان نے 9 اپریل کو اختتامی تقریر کے اجتماع میں کہا، "اسلام امن کا دین ہے اور اس میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا کہ نوشہرہ میں تاریخی اجتماع نے عالمی برادری کو امید اور امن کا پیغام دیا ہے۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ پیغام " اسلامی نظریات پر سختی سے کاربند ہونے کا مطالبہ کرتا ہے، جو پیار، بھائی چارے، ہم آہنگی، بقائے باہمی اور عدم تشدد کا درس دیتے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی-ایف عالمی اتحاد کی داعی ہے اور اس ہدف کے حصول کے لیے پُرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے بات سمیٹتے ہوئے کہا، "ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے ۔۔۔ کہ وہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کو برباد کرے یا یہاں افراتفری اور انارکی پھیلائے۔"

امامِ کعبہ نے فضل الرحمان کی امن کے ساتھ عہدبستگی میں اشتراک کیا۔

7 اپریل کو اجتماع سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا، "اسلام میں تشدد، دہشت گردی یا فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ قرآنِ پاک اور نبی پاک (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی سنت کی تعلیمات کی مثال پیش کرتا ہے، جو پیار اور احترام کی نصیحت کرتی ہیں۔"

شیخ صالح نے ان لوگوں کی مذمت کی جو اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "دہشت گردی تباہی کا سبب بنتی ہے ۔۔۔ جو افراتفری، انارکی، معاشی عدم توازن اور سماجی عدم مساوات کی طرف لے جاتی ہے۔"

"جو اسلام کی غلط تشریح کرتے ہیں وہ دہشت گرد ہیں"، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے مسلمانوں کو اسلام کو مسخ کرنے کے خلاف چوکس رہنے کی ترغیب دی۔

انہوں نے کہا کہ دینی علماء اسلام کا پیار اور امن کا حقیقی پیغام آگے پہنچا کر اپنے حصے کا کام کر سکتے ہیں۔

اختتام پر، امامِ کعبہ نے مسلمانوں کا اتنا بڑا اجتماع کرنے پر جے یو آئی-ایف کی تعریف یہ کہتے ہوئے کی کہ اس تقریب نے عالمی برادر کو "امن اور اتحاد" کا پیغام دیا ہے۔

مسلمانوں، غیر مسلموں کے مابین اتحاد

مسلمان برادری سے باہر کے شرکاء اور دیگر غیر ملکی علماء نے رواداری کے مطالبے توثیق کی۔

اجتماع سے اپنے بیان میں، پادری نذیر نے یہ پیغام پھیلانے کا عہد کیا کہ اسلام تشدد کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ امن، پیار اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے۔"

پادری نے کہا کہ انہوں نے جے یو آئی-ایف کی صد سالہ تقریبات میں شرکت بین المذاہب ہم آہنگی اور بقائے باہمی کی نمائندگی کے لیے کی ہے۔

دارالعلوم دیوبند سے تعلق رکھنے والے ایک عالمِ دین مولانا شوکت علی قاسمی نے کہا، "اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"

دہشت گردی، فرقہ واریت کا استرداد

سابقہ اور موجودہ پاکستانی قانون سازوں نے بھی اجتماع سے خطاب کیا، انہوں نے بھی رواداری کی ترغیب دی اور دہشت گردی کی مذمت کی۔

پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین، میاں رضا ربانی نے حاضرین سے کہا کہ مسلمانوں کو عالمی برادری پر ثابت کرنا ہو گا کہ وہ رواداری، احرام اور بھائی چارے کی قدر کرتے ہیں اور دہشت گردی اور فرقہ واریت کو مسترد کرتے ہیں۔

کے پی اسمبلی کے ایک سابق رکن مفتی کفایت اللہ نے کہا کہ دہشت گردی نے اسلام کا تشخص مجروح کیا ہے۔

مذہب کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنا غلط اور غلط فہمی ہے، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام کو دنیا کے سامنے غلط طور پر پیش کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، "علمائے دین اور مسلمانوں کو چاہیئے کہ دنیا کو آگاہ کریں کہ ہمارا دین تشدد سے اس کی تمام صورتوں میں مکمل طور پر منع کرتا ہے اور امن، پیار، اخوت اور تمام مذاہب اور عقائد کے لوگوں کے اکٹھا ہونے کا مطالبہ کرتا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 5

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا نگران حکومت 25 جولائی کو شیڈول کردہ عام انتخابات کو صاف اور شفاف انداز میں کروانے کے قابل ہو گی؟

نتائج