|

مذہب

امامِ کعبہ نے کہا ہے کہ اسلام انتہاپسندی اور تشدد کی ممانعت کرتا ہے

مکہ میں خانہ کعبہ کے امام، نوشہرہ ڈسٹرکٹ، خیبرپختونخواہ میں ایک اجتماع سے خطاب کر رہے ہیں۔

عدیل سید


نوشہرہ، خیبرپختونخواہ میں پاکستانی، جمعہ (7 اپریل) کو، جمیت علمائے اسلام (فضل) جماعت کے سو سالہ جشن میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ اس تقریب میں امامِ کعبہ شیخ صالح بن محمد ابراہیم نے شرکت کی۔ ]جے یو آئی- ایف[

نوشہرہ، خیبرپختونخواہ میں پاکستانی، جمعہ (7 اپریل) کو، جمیت علمائے اسلام (فضل) جماعت کے سو سالہ جشن میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ اس تقریب میں امامِ کعبہ شیخ صالح بن محمد ابراہیم نے شرکت کی۔ ]جے یو آئی- ایف[

پشاور - دنیا کی مقدس ترین مسجد کے امام نے پاکستانی مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مذہب کے امن اور محبت کے پیغام کو اپنائیں اور تشدد اور انتہاپسندی کو مسترد کر دیں۔

امامِ کعبہ، شیخ صالح بن محمد ابراہیم (مکہ، سعودی عرب میں خانہ کعبہ کے امام) نے جمعہ (7اپریل) کو نوشہرہ ڈسٹرکٹ، خیبر پختونخواہ (کے پی) میں ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔

انہوں نے اجتماع کو تبلیغ کرتے ہوئے کہا کہ "اسلام امن کا مذہب ہے اور یہ معاشرے میں تشدد اور افراتفری کی ممانعت کرتا ہے"۔

یہ تقریب مذہبی بنیادوں پر بنائی جانے والی سیاسی جماعت، جمیعت علمائے اسلام (فضل) (جے یو آئی- ایف) کے سو سالہ جشن پر منائی جانے والی تین روزہ تقریبات (7 سے 9 اپریل تک) کا حصہ تھی۔

دہشت گردی کی مذمت

ایک اور شریک، سعودی عرب کے اسلامی امور کے وزیر صالح ابنِ عبدل عزیز ابنِ محمد ال الشیخ نے دہشت گردی، تشدد اور انتشار کو "کسی بھی ملک کے لیے ناقابلِ برداشت" قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

دونوں افراد نے دہشت گردی کی برائی پر ایک جیسے خیالات کا اظہار کیا۔

امامِ کعبہ نے کہا کہ "جو لوگ اسلام کے نام پر تشدد، انتہاپسندی اور انتشار کو بھڑکاتے ہیں وہ مذموم مقاصد کے لیے بدامنی اور افراتفری کو پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ عناصر جنہوں نے اسلامی احکامات کو مسخ کیا ہے انہوں نے فرقہ واریت کے نام پر نفرت پھیلائی ہے اور امت (اسلامی برادری) میں تفرقہ پیدا کیا ہے۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں انتہاپسندوں کو بھٹکے ہوئے قرار دینے کے بعد کہا کہ "اسلام کا تشدد اور انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے"۔

اتحاد پر زور دینا

امامِ کعبہ نے سننے والوں پر زور دیا کہ وہ اسلام کے جھنڈے تلے اکٹھے ہو جائیں اور قرآن اور سنت کی تعلیمات پر عمل کریں۔

اسے واضح کرنے کے لیے انہوں نے قرآن کی آیت پڑھی: "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو"۔

امام نے مذہبی علماء سے کہا کہ وہ مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے، مذہب کے "امن، محبت اور ہم آہنگی کے پیغام" کا درس دیں۔

انہوں نے یہ بتاتے ہوئے کہ علماء اسلام کے اصل رکھوالے ہیں کہا کہ "ان پر تعلیم دینے کی "بہت بڑی" ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

امامِ کعبہ نے جمعہ کی نماز کی امامت بھی کی اور مسلمانوں کے اتحاد، برداشت کے پھیلاؤ اور انسانیت کے لیے دوسری بہتریوں کے لیے دعا کی۔

سعودی عرب کے اسلامی امور کے وزیر، ال شیخ نے اپنی تقریر میں کہا کہ "مل کر ہم اپنے ممالک اور مذہب کو درپیش کسی بھی خطرے کا مقابلہ کر سکتے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی اور سعودی شہریوں میں گہرے تعلقات ہیں اور وہ ایک دوسرے کی بہت عزت کرتے ہیں۔

سو سالہ تقریبات منانے والی جماعت، جے یو آئی (ایف)، کے راہنما مولانا فضل الرحمان نے تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ جماعت حقوق کے لیے پرامن جدوجہد اور تشدد کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی جو کہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، سے جنگ کے لیے اتحاد بہت اہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو یو آئی (ایف) کا سو سالہ جشن، اسلامی اقدار کے فروغ اور تشدد اور انتہاپسندی کا خاتمہ کرنے کے جماعت کے عہد کی تجدید کرنے کی ایک کوشش ہے جس نے اسلام کے نام کو تباہ کر دیا ہے۔

مشاہدین نے امامِ کعبہ کی تعریف کی

کے پی کے مشاہدین نے برداشت اور امن کے لیے سعودی امام کے پیغام کی تعریف کی۔

پشاور یونیورسٹی کے سابقہ وائس چانسلر اور مذہبی عالم پروفیسر ڈاکٹر اقبال ایاز نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ تششد کی طرف رغبت کو ختم کرنے کے لیے ہماری جدوجہد پر امامِ کعبہ کے خطاب کے دیرپا اثرات ہوں گے۔ "لوگوں کے دلوں میں امامِ کعبہ کے لیے بہت زیادہ تعظیم ہے"۔

ایاز نے کہا کہ امامِ کعبہ کا امت (اسلامی برادری) میں مقام ان کی تعلیمات کے لیے سامعین کا ہونا یقینی بناتا ہے۔

ایاز نے مزید کہا کہ "اگر وہ اس بات کا اعلان کر دیں کہ اسلام میں تشدد اور انتہاپسندی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے تو اہلِ ایمان ان کی تعلیمات کو اسلام کی درست تعلیم سمجھتے ہوئے اسے مان لیں گے"۔

پشاور کے شخ زاہد اسلامک سینٹر کے سابقہ ڈائریکٹر پروفیسر عبدل غفور نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "مذہبی عالم امام کعبہ سے اختلافِ رائے ظاہر کرنے کی ہمت نہ کریں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ان جیسی شخصیت کی طرف سے تشدد کی مذمت ایک اسلامی معاشرے کے لیے امن کی اہمیت کو اجاگر کرے گی"۔

انہوں نے پیش گوئی کی کہ امامِ کعبہ کی تقریر انتہاپسندوں کی سوچ کو بدلنے اور معاشرے میں بھائی چارے اور عدم تشدد کو فروغ دینے کی راہ ہموار کرے گی"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

ٹی ٹی پی کے مستقبل کے لیے ملا فضل اللہ کی موت کا کیا مطلب ہے؟

نتائج