2017-03-30 | معاشرہ

خیبرپختونخواہ میں "ثقافتی احیا" ہو رہا ہے

سید عنصر عباس

شہری کئی سالوں کی دہشت گردی اور خوف کے بعد، ثقافت، موسیقی اور فیشن کی تقریبات کا انعقاد کر کے اپنی دوبارہ ابھرنے کی قوت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔


پشاور میں 15 مارچ کو فیشن ماڈلز رن وے پر چل رہی ہیں۔ ]سید عنصرعباس[
پشاور میں 15 مارچ کو فیشن ماڈلز رن وے پر چل رہی ہیں۔ ]سید عنصرعباس[
پشاور میں 15 مارچ کو فیشن ماڈلز رن وے پر چل رہی ہیں۔ ]سید عنصرعباس[

شہری کئی سالوں کی دہشت گردی اور خوف کے بعد، ثقافت، موسیقی اور فیشن کی تقریبات کا انعقاد کر کے اپنی دوبارہ ابھرنے کی قوت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

پشاور - تقریبا دس سال سے زیادہ کے عرصے تک دہشت گردی کا سامنا کرنے کے بعد، خیبرپختونخواہ (کے پی) کے شہری موسیقی کے پروگراموں اور ثقافتی تقریبات کی واپسی کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔

مشاہدین کا کہنا ہے کہ پورے خاندان کے لیے تفریح کی واپسی صرف اس لیے ممکن ہوئی ہے کہ پہلے چھایا ہوا خوف کا ماحول سیکورٹی کی صورت حال کے بہتر ہو جانے کے بعد ختم ہو گیا ہے۔

سیکورٹی کی واپسی طویل عرصے تک جاری رہنے والی فوجی مہمات جیسے کہ آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد کے بعد ممکن ہوئی ہے۔

پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے 26 مارچ کو لیڈیز کلب پشاور میں موسمِ بہار کا ایک میلہ منعقد کیا جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پشتو گلوکاروں نے رات گئے تک حاضرین کا دل بہلایا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری اب ایسی تقریبات میں شرکت کرنے سے ڈرتے نہیں ہیں جنہیں کبھی طالبان فضول قرار دے کر مسلسل دھمکیاں دیا کرتے تھے۔

گیارہ دن پہلے، موسمِ بہار کے گاوں میں ایک بہت بڑا موسیقی کا پروگرام ہوا جس میں لبرل شاعر، فلسفی، مصور اور فنکار عبدل غنی خان کی 21 برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

اس تقریب کو منظم کرنے والی کاروان امپیچمنٹ کونسل کے چیرمین خالد ایوب نے کہا کہ اس تقریب میں غنی خان کی شاعری کو پشتو گلوکار بختیار خٹک اور فیاض خان خشگی نے گایا۔

خالد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ڈیڑھ سو لوگوں کو دعوت نامے بھیجے گئے مگر تین سو سے زیادہ شرکاء انتہائی جوش و جذبے سے آ گئے۔ اس پروگرام کا آغاز رات کو آٹھ بجے ہوا اور یہ صبح کے دو بجے تک جاری رہا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر میں امن ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "پشاور بے خوف لوگوں کا شہر ہے جنہوں نے دہشت گردی کے باوجود اپنی ثقافتی سرگرمیوں کو جاری رکھا ہے-- نہ صرف دہشت سے جان چھڑانے کے لیے بلکہ دہشت گردوں کو یہ پیغام بھی پہنچانے کے لیے کہ انہیں شکست نہیں دی جا سکتی"۔

انہوں نے کہا کہ "دہشت گردی کے خال خال واقعات سے لوگوں کے بلند حوصلوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا"۔

پشاور میں 15 مارچ کو ڈینز ٹریڈ سینٹر میں فیشن اور موسیقی کا شو ہوا جہاں مرد اور خواتین ماڈلز نے پاکستانی ڈیزانیروں کے کپڑے پہن رکھے تھے۔

بختیار خٹک اور زیق آفریدی نے پشتو گانے گائے جب کہ اعجاز سرحدی نے لوگوں کو محظوظ کرنے کے لیے سرندہ جو کہ ایک نایاب جھکا ہوا ستار ہے، بجایا۔

ایک نوجوان صحافی، انور زیب جنہوں نے فیشن اور میوزک شو میں شرکت کی تھی، پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "دہشت گرد علاقے کے رہنے والوں کو اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے موسیقی سے دور نہیں رکھ سکتے"۔

نوجوانوں کو تفریح چاہیے

مشاہدین کا کہنا ہے کہ صرف کچھ سال پہلے ہی، کے پی سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص ایسی موسیقی اور ثقافتی تقریبات میں خوف کے بغیر شامل ہونے کا نہیں سوچ سکتا تھا۔ اب، پشاور میں حالیہ مہینوں میں ایک درجن سے زیادہ تقریبات ہو چکی ہیں۔

دس جنوری کو حیات آباد میں، طلباء، سیاست دانوں اور ثقافتی شخصیات نے بونیر کلچرل نائٹ میں شرکت کی۔

دہشت گردی اور طالبان کے زیرِ حکومت سالوں نے علاقے کی ثقافتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچایا ہے مگر لوگ دوبارہ ابھرنے کی قوت رکھتے ہیں۔ یہ بات اس تقریب کے منتظم فطرت بونیری نے بتائی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "نوجوان، خصوصی طور پر نوجوان، دہشت گردی سے پریشان تھے۔ مگر اب، امن کی بحالی کے بعد، وہ کسی خوف کے بغیر موسیقی کی تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں"۔

پشاور سے تعلق رکھنے والی ثقافتی رپورٹر شیرعالم نے کہا کہ "دہشت گردی کے دس سالوں کے بعد، گھٹن زدہ نوجوان تفریح کی تلاش میں ہیں"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پینتیس طلباء تنظیموں نے اپنے وسائل کے ساتھ ثقافتی اور موسیقی کی تقریبات منعقد کیں جن میں ان کے صوبے کی ثقافت، موسیقی اور لہجے کے تنوع کو اجاگر کیا گیا تھا"۔

انہوں نے کہا کہ "نوجوان اپنی ثقافت سے اچھی طرح آگاہ ہیں جو کہ بہت اچھی علامت ہے۔ ایسی موسیقی اور ثقافت کی تقریبات ثقافتی اقدار کو زندہ کرنے میں مدد کرتی ہیں"۔

ثقافتی احیا

پشاور سے تعلق رکھنے والے ماہرِ نفسیات خالد مفتی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "موجودہ وقت ثقافتی احیاء کا وقت ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "لوگ پرسکون محسوس کر رہے ہیں اور انہیں خود کو تفریخ فراہم کرنے کا موقع مل گیا ہے جو کہ ماضی میں ممکن نہیں تھا۔ امن اور برداشت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں"۔

ڈائریکٹریٹ کے سابقہ سربراہ عبدل باسط نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ کے پی کا ثقافت کا ڈائریکٹریٹ صوبے کے لوگوں کو تفریح فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "گزشتہ دو سالوں کے دوران مقامی ثقافت کی اہمیت کے بارے میں احساس پیدا ہوا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹریٹ نے مقامی ثقافت کے بحال کرنے کے ایک پروگرام کے پہلے مرحلے میں گزشتہ سال 45 ملین روپے (429,000 ڈالر) خرچ کیے تھے۔ اس پروگرام کے دوسرے مرحلے کے لیے بجٹ 70 ملین روپوں (668,000 ڈالر) سے زیادہ کا ہے۔

باسط نے کہا کہ "زندگی اب معمول پر آ گئی ہے اور ہمیں اپنی ثقافت کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، ہمیں شہریوں کو تفریح کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے"۔

خوف کے بغیر زندگی گزارنا

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے سابقہ سیکریٹری برگیڈیر (ریٹائرڈ) محمود شاہ، جن کا تعلق پشاور سے ہے، نے کہا کہ شہری مسلسل دہشت گردانہ حملوں کے سایے کے بغیر زیادہ آزاد محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "علاقے میں امن کی واپسی کے بعد، لوگ آزادی اور کوئی خوف محسوس نہیں کر رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "کسی وقت لوگ حجام کے پاس جانے میں بھی خوف محسوس کرتے تھے۔ اب وہ تفریح کی تلاش میں ہیں"۔

پشاور یونیورسٹی میں ماسٹرز ڈگری کے طالب علم نوید خان نے کہا کہ خصوصی طور پر نوجوانوں کو تفریح کی تلاش ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ماضی کے مقابلے میں ثقافتی اور موسیقی کے پروگرام زیادہ باقاعدگی سے منعقد ہو رہے ہیں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد ان میں شرکت کر رہی ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج