|

حقوقِ نسواں

جنگ کے درمیان شامی ماؤں کی مشکلات سے نکلنے کے بارے میں گفتگو

ماؤں کے عالمی دن سے ایک روز قبل، المشرق نے تین خواتین سے بات چیت کی جو مختلف طریقوں سے تنوع کے درمیان لچکداری کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔

از نوہاد توپالیان بمقام بیروت


شامی خواتین، داما، خواتین کی قائم کردہ ایک غیر سرکاری تنظیم، کی زیرِ کفالت ایک چھوٹے کاروباری منصوبے کے حصے کے طور پر موسمِ سرما کے لباس بُنتے ہوئے۔ [تصویر بشکریہ داما]

شامی خواتین، داما، خواتین کی قائم کردہ ایک غیر سرکاری تنظیم، کی زیرِ کفالت ایک چھوٹے کاروباری منصوبے کے حصے کے طور پر موسمِ سرما کے لباس بُنتے ہوئے۔ [تصویر بشکریہ داما]

اپنے وطن میں جاری جنگ کا سامنا کرنے والی، تین شامی خواتین اپنے بچوں کا تحفظ کرتی رہی ہیں اور مختلف طریقوں سے اپنی لچکداری کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔

جارجٹ خورے ایک بندوق اٹھاتی ہیں اور محاذ پر لڑتی ہیں، منتہیٰ عبدالرحمان غیر سرکاری تنظیم جس کی وہ شریک بانی ہیں کے ذریعے خواتین اور نوجوانوں کی کفالت کرتی ہیں، اور سلیمہ جبالین اپنے بچوں کی کفالت کرنے کے لیے ایک باورچی کے طور پر کام کرتی ہیں۔

ان کی ہمتوں کو سلامی پیش کرنے کے لیے، المشرق نے ان تینوں خواتین سے ماؤں کے عالمی دن سے ایک روز پہلے گفتگو کی، جو کہ مشرقِ وسطیٰ میں 21 مارچ کو منایا جاتا ہے۔

الحساکہ کی 42 سالہ خورے نے آشوری خواتین کی ایک رجمنٹ میں تین سال پہلے شمولیت اختیار کی اور اب الرقہ کو "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) سے آزاد کروانے کے ایک حملے میں حصہ لینے کی تیاری کر رہی ہیں۔

خورے، جو کہ نانی بننے والی ہیں کیونکہ ان کی 19 سالہ بیٹی کے گھر پہلی ولادت متوقع ہے، نے کہا، "جب جنگ چھڑی، میرے پاس دو انتخاب تھے: ایک مہاجر بن جاؤں یا خوف میں رہوں اور زندگی گزاروں"

انہوں نے المشرق کو بتایا، "جب داعش اور النصر فرنٹ (اے این ایف) نے سنہ 2015 میں خبر دریا کے دیہات پر حملہ کیا اور وہاں کے لوگوں کو گھربدر کر دیا تو میں نے سوتورو فورسز میں شمولیت اختیار کر لی۔"

انہوں نے کہا، "مجھے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی تربیت دی گئی اور میں نے داعش کے خلاف جنگوں میں حصہ لیا۔ آج میں الرقہ حملے کے لیے تیاری کر رہی ہوں۔"

خورے، جنہوں نے فروری 2016 میں شمال مشرقی شام میں الحال اور الشدیدی کے لیے جنگوں میں حصہ لیا تھا، نے کہا کہ ہتھیار اٹھانا "دہشت گردی کے خلاف لڑنے اور اپنے وطن میں رہنے کا واحد راستہ ہے۔"

انہوں نے کہا، "میں کسی دوسرے ملک منتقل ہو سکتی تھی لیکن میں نے انکار کر دیا۔ میں نے پُرعزم رہنے پر اصرار کیا۔"

انہوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ الحال کی جنگ کے دوران، ان کے ساتھ لڑ رہی خواتین نے سخت موسم اور زمینی سختیوں کے 27 دن جھیلے، لیکن اس وقت تک دستبردار ہونے سے انکار کر دیا جب تک کہ جنگ ختم نہیں ہو جاتی۔

خورے نے کہا، "ہم نے ایک کلومیٹر کے فاصلے سے داعش کے ساتھ جنگ کی اور انہیں بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ میں ان میں سے چند ایک کو قیدی بنانے کے قابل رہی اور انہیں اپنے کمانڈروں کے حوالے کر دیا۔"

"بطور خواتین ہمیں لازماً مضبوط اور ثابت قدم رہنا چاہیئے،" کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس روز انہیں جو فتح ملی اس سے ان کی ثابت قدمی کو اہمیت ملی۔

انہوں نے کہا، "جب سے میں نے اپنی فوجی وردی پہنی ہے، میں اپنے بارے میں بطور ایک خاتون نہیں سوچتی، بلکہ ایک جنگجو کے طور پر سوچتی ہوں۔ میری شخصیت تبدیل ہو گئی، اور مجھے اپنے شوہر، جو خود بھی ایک جنگجو ہیں اور بیٹی کی جانب سے دی گئی حمایت سے مدد ملی۔"

جہاں خورے نے کہا کہ وہ ماؤں کے عالمی دن کو "اپنے خاندانوں اور برادریوں کے ساتھ ماؤں کی قربانیوں کو منانے کے ایک موقع کے طور پر" دیکھتی ہیں، ان کا ماننا ہے کہ "یہ لازماً ہر ماں کے لیے ایک یاددہانی بھی ہونی چاہیئے کہ اپنے وطن کے لیے اضافی قربانی دیں اور اس کا دفاع کریں، تاکہ اس کے بچے اس میں باوقار طریقے سے رہ سکیں۔"

بچوں اور لڑکوں لڑکیوں کی رہنمائی کرنا

39 سالہ منتہیٰ عبدالرحمان نے المشرق کو بتایا، "سنہ 2014 میں، دوستوں کے ایک گروہ اور میں نے تشدد کے نتائج کو ختم کرنے، خواتین کو بااختیار بنانے اور بچوں کو تعلیم دینے، جاری جنگ کے اثرات پر قابو پانے میں ان کی مدد کرنے کے لیے داما گروپ قائم کیا۔"

پانچ بچوں کی والدہ نے کہا کہ انہوں نے اور چھ دیگر خواتین نے تنظیم کی بنیاد رکھی تاکہ بچوں کو تعلیم دیں، خواتین کو نفسیاتی آسرا فراہم کریں اور چھوٹے ترقیاتی منصوبوں کے قیام کے ذریعے پیسے کمانے میں ان کی مدد کریں۔

انہوں نے کہا کہ داما، جو منتہیٰ عبدالرحمان کے آبائی شہر الزبدانی میں شروع کی گئی، اب اس کی شاخیں وادی برادہ، مادایا اور لبنان کی بیکا وادی میں ہیں۔

انہوں نے کہا، "مجھے جو خوف اور دشواریاں پیش آئیں ان کے باوجود میں نے اپنے وطن میں ثابت قدم رہنے کا ذہن بنایا،" انہوں نے مزید بتایا کہ وہ چند ماہ پہلے گھر بدر ہو کر مادایا آ گئی تھیں لیکن خواتین اور بچوں کے لیے اپنا کام جاری رکھا۔

انہوں نے کہا، "جب سے میں مادایا منتقل ہوئی ہوں، میری ثابت قدمی نے ایک مختلف شکل اختیار کر لی ہے جس میں بچوں اور لڑکے لڑکیوں کو منشیات کے خطرات کے بارے میں تعلیم دینا شامل ہے، " جس میں نشے کی لت کے بارے میں شعور بیدار کرنا اور نوجوانوں کو مثبت تفریحی، تعلیمی اور حرفتی سرگرمیوں میں مشغول کرنا شامل ہے۔

منتہیٰ عبدالرحمان اور دیگر بانی خواتین نے بچوں کے لیے اسکول کھولے ہیں، اور چھوٹے کاروباری اداروں کے قیام کے ذریعے خواتین کو معاونت فراہم کرتی ہیں جو جنگ کی وجہ سے آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے اور ان سے نمٹنے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "جب میں ثابت قدم رہنے کا انتخاب کرتی ہوں تو میرے لیے لازمی ہے کہ اپنی ثابت قدمی کو دوسری خواتین میں پھیلاؤں اور ان کی، نیز بچوں کی مدد کروں، اور انہیں تشدد کی تمام شکلوں سے بچاؤں۔ اس کے لیے، ہم تشدد کے خطرات کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی تربیت گاہوں کا انعقاد کرتے ہیں۔"

ایک بہتر مستقبل بنانے کی جدوجہد

تین سال قبل، 28 سالہ سلیمہ جبالین اپنے تینوں بچوں، جن سب کی عمریں 8 سال سے کم ہیں، کے ساتھ لبنان جانے کے لیے مغربی دیہی حلب میں اتاریب میں آ گئی تھیں۔

آج، وہ لبنان پہاڑی کے متن ضلع میں مزارات یشو میں اپنے گھر میں طباخی کر کے روزی کما رہی ہیں، جہاں وہ اچار، جیم اور مربہ جات تیار کرتی ہیں۔

انہوں نے المشرق کو بتایا کہ اپنے شوہر کے شام میں مارے جانے کے بعد، وہ اپنے بچوں کی سلامتی کے خوف سے ملک سے نکل گئیں، انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پرورش کرنے کا سارا بوجھ ان کے کندھوں پر آن پڑا تھا۔

انہوں نے کہا، "مجھے نئے حالات کا مقابلہ کرنا پڑا، میرا دکھ اور ملک میں بہت سی دشواریاں جس میں میں کسی کو بھی نہیں جانتی تھی۔"

مدد کا انتظار کیے بغیر، جبالین نے ریستورانوں کے دروازے کھٹکھٹانے شروع کیے اور باورچی خانے کے کام میں اپنی خدمات پیش کیں، اپنے حلب کے باسیوں کے لیے پکوان تیار کرتے ہوئے۔

انہوں نے کہا، "مجھ پر تمام دروازے بند ہو چکے تھے۔ میں اپنے کمرے میں روتی ہوئی واپس آئی، لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری کیونکہ مجھے اپنے بچوں کو کھلانا تھا۔ میرے پاس تقریباً 125 ڈالر تھے اور میں ایک کریانہ کی دکان پر گئی اور میرے پاس جو کچھ جمع پونجی تھی اس سے سبزیاں اور پھل اور گوشت بھی خریدے۔ جب میں گھر آئی، میں باورچی خانے میں گئی اور اگلے دن تک باہر نہیں نکلی۔ میں نے بہت سے پکوان، اچار کی مصنوعات اور خوبانی کا جیم تیار کیے۔"

"میں نے جو کچھ تیار کیا تھا وہ ایک ریستوران میں لے گئی اور مالک سے انہیں چکھنے کا اصرار کیا۔"

انہوں نے بتایا کہ اس نے اسی وقت انہیں اپنے گھر پر کام کرنے اور اچار کی مصنوعات اور کچھ پکوان آرڈر کے لیے تیار کرنے کو کہا، خصوصاً بھرے ہوئے انگور کے پتے اور پیسٹریاں۔

انہوں نے کہا کہ ریستوران کی سبزیاں تیار کرنے کے علاوہ، "آج میں اپنے گھر سے ریستوران کے لیے کھانا پکاتی ہوں اور گھرانوں کے آرڈر کرنے کے لیے پکوان تیار کرتی ہوں۔"

جبالین نے کہا کہ کام انہیں ثابت قدم رہنے میں مدد کرتا ہے "اپنے بچوں کی خاطر اور انہیں ایک اچھی زندگی دینے کے لیے۔"

انہوں نے کہا، "اپنے شوہر کی وفات کے بعد فساد کا شکار ہونے سے بچنے کے لیے اور اپنے بچوں کو جنگ کی مشکلات سے بچانے کے لیے اور فساد سے نکلنے کے لیے میں نے رضاکارانہ طور پر گھر بدری کا انتخاب کیا۔"

"میں جو کچھ کرتی ہوں اس پر مجھے فخر ہے، تھکاوٹ کے باوجود، کیونکہ میری ثابت قدمی انہیں سہارا دیتی ہے اور مجھے انہیں ایک بہتر مستقبل کے لیے تعلیم دینے کے قابل بناتی ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج