http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/03/08/feature-01
| سلامتی

نئے کے پی پولیس ایکٹ سے متوقع طور پر امنِ عامہ میں بہتری آئے گی

جاوید خان

9 فروری کو ایک پولیس گارڈ صوابی جوڈیشیل کمپلیکس کی نگہبانی کر رہا ہے۔ 24 جنوری کو خیبرپختونخوا نے ایک نیا قانون منظور کیا جس سے متوقع طور پر صوبہ میں امنِ عامہ کی بہتری متوقع ہے۔ [جاوید خان]

پشاور — حکام کا کہنا ہے کہ ایک ماہ سے کچھ ہی زیادہ عرصہ سے نافذ العمل ایک نئے قانون کے تحت خیبر پختونخوا (کے پی) پولیس زیادہ خودمختار، غیرسیاسی اور جوابدہ ہو گئی ہے۔

کے پی پارلیمان نے 24 جنوری کو کے پی پولیس ایکٹ 2017 کی منظوری دی۔

کے پی انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) ناصر خان درّانی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”یہ نیا قانون فورسز کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا کیوں کہ اس سے سیاسی اثرورسوخ کا خاتمہ ہو گا۔“

انہوں نے کہا کہ پولیس کی کارکردگی میں بہتری کے نتیجہ میں بالآخر کسی وقت میں شورش زدہ صوبہ میں امنِ عامہ میں بہتری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس نئے قانون کے تحت پولیس فورس کو صوبائی اور ضلعی سطح پر منتخب اداروں کے سامنے مزید جوابدہ بنا دیا گیا ہے۔

درّانی نے کہا، ”ضلعی اور صوبائی سطحوں پرمنتخب نمائندگان پر مشتمل عوامی تحفظ کے کمیشن اپنے متعلقہ علاقوں میں فورسز کی کارکردگی کو چیک کرنے کے لیے ہر سال کم از کم دو اجلاس منعقد کریں گے۔“

مزید برآں یہ قانون آئی جی پی کو وزیرِ اعلیٰ سے مشاورت کے بغیر اعلیٰ پولیس عہدیداران – بشمول ایڈیشنل آئی جی پیز، ڈپٹی آئی جی پیز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز (ڈی پی اوز) – کی تقرری کا اختیار دیتا ہے، جو کہ قبل ازاں ضروری تھا۔

درّانی نے کہا، ”جیسا کہ امنِ عامہ کا قیام پولیس سربراہ کی ذمہ داری ہے، تو اسے ہی مناسب افسران کی تقرری کرنا چاہیئے اور کسی کو فورس کے امور میں مداخلت نہیں کرنی چاہیئے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آئی جی پی اور پولیس فورس کو قانون کے تحت جوابدہ رکھتی ہے۔

درّانی نے کہا، ”کے پی پولیس نے دہشتگردی کے خاتمہ میں ایک غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ اب یہ فورس ایک مزید مؤثر طرز پر عوام کی خدمت کرے گی۔“

پولیس کی کارکردگی، عوامی سلامتی میں بہتری

کے پی پولیس ایکٹ 2017 نے فورس کے حالیہ طور پر شروع کیے جانے والے متعدد منصوبوں کو بھی قانونی حیثیت دی۔

ان میں انسدادِ دہشتگردی فورس، ایلیٹ پولیس تربیتی مرکز نوشہرہ، اور چھ خصوصی پولیس سکولز: دھماکہ خیز مواد سے نمٹنا (نوشہرہ)، تفتیش (پشاور)، حکمت ہائے عملی (پشاور)، عوامی انتشار اور فساد کا بندو بست (مردان)، انٹیلی جنس (ایبٹ آباد)، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (پشاور) شامل ہیں۔

اس قانون نے تصفیۂ تنازعات کاؤنسلز، پولیس تک رسائی کی خدمت اور پولیس معاونت لائنز کو بھی قانونی حیثیت دی، جو قبل ازاں ایگزیکٹیو آرڈرزکے ذریعے کارگرِ عمل تھے۔

کے پی کے وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک نے 25 جنوری کو کے پی اسمبلی سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ہم نے پولیس کو مکمل طور پر خودمختار اور سیاستدانوں کے شکنجے سے آزاد کر دیا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام آئین سازی ہے، جبکہ پولیس کے سربراہان کو اپنا ادارہ چلانا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ منتخب نمائندگان پر مشتمل ان کمیشنز کو پولیس فورس پر نظر رکھنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

خٹک نے کہا، ”نظام اور ادارے تب ہی بہتر ہوں گے جب وہ سیاسی اثرورسوخ سے آزاد ہوں گے۔“

انہوں نے کہا، ”یہ نیا قانون کے پی پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنائے گا، جو کہ پہلے ہی دیگر صوبوں کی پولیس سے آگے ہے۔“

کے پی اسمبلی کی کاروائی کو کور کرنے والے ایک سینیئر صحافی نثار محمود نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کے پی پولیس ایکٹ 2017 اس فورس کو اور حتمی طور پر امنِ عامہ کو بہتر بنائے گا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”اگر اعلیٰ عہدیداران کے لیے کوئی باقاعدہ نظامِ احتساب ہو تو پولیس سربراہان کو اس فورس کو چلانے کے لیے بنا کسی سیاسی نفوذ کے زیادہ اختیار دینے میں کوئی نقصان نہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کی کاروائیوں میں سیاسی اثرورسوخ سے صرف اور صرف پولیس کی کارکردگی کو نقصان پہنچتا ہے۔

پولیس عہدیداران کا کہنا ہے کہ انہیں اس نئے قانون کی اپنی اصل روح کے ساتھ نفاذ کی ہدایات دی گئی ہیں۔

صوابی کے ڈی پی او شعیب اشرف نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”آئی جی پی نے فروری کے پہلے ہفتہ میں مختلف اجلاسوں کے دوران تمام ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز اور سب ڈویژنل پولیس آفیسرز کو ہدایت کی ہے کہ صوبہ کی عوام کو اس نئے قانون سے فوری طور پر استفادہ حاصل ہونا چاہیئے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ کے پی شہریوں اور پولیس کے درمیان روابط کی تسہیل کے لیے عوامی رابطہ کاؤنسلز تشکیل دے رہا ہے۔

اشرف نے کہا، ”عوام اور پولیس کے درمیان فاصلہ کو ختم کرنے کے لیے، جو کہ بہتر امنِ عامہ کے لیے نہایت ضروری ہے، ہر کاؤنسل 70 فیصد منتخب کاؤنسلرز اور ناظموں اور 30 فیصد معتبر عمائدین [۔۔۔] پر مشتمل ہو گی۔“

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
Zaheer | 03-12-2017

یہ اداریہ پڑھ کر یہ تاثر آتا ہے کہ سیاسی اشرافیہ کے کردار کو کم کرنے کے بجائے اسے ادارتی صورت دے دی گئی ہے۔ بنا کسی باضابطہ کردار کے سیاسی اشرافیہ پولیس کے کام میں مداخلت کیا کرتے تھے۔ اب باضابطہ کردار مل جانے کے بعد وہ کیا کریں گے، یہ ہر کوئی تصور کر سکتا ہے۔ تاہم اس سے پولیس اور سیاستدان کے ‘دلی’ تعلقات کے لیے تسہیل ہو گی۔ 'تم میری کمر کھجاؤ اور میں تمھاری کھجاتا ہو' قسم کا نتیجہ برآمد ہو گا۔

جواب