|

صحت

پاکستان کی جانب سے ایچ آئی وی کے افغان مریضوں کے لیے مفت علاج کی فراہمی

پاکستان اس سے جڑی بے عزتی کو کم کرنے اور لوگوں کو ٹیسٹ کروانے کی ترغیب دینے کے لیے افغانوں کو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ اور علاج کی تعلیم دینے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے۔

از اشفاق یوسفزئی


پشاور میں ناصر باغ روڈ پر 7 فروری کو دیکھا گیا یہ پوسٹر ایچ آئی وی/ایڈز کے بارے میں کے پی حکومت کے آگاہی پروگرام کا ایک حصہ ہے۔ [اشفاق یوسفزئی]

پشاور میں ناصر باغ روڈ پر 7 فروری کو دیکھا گیا یہ پوسٹر ایچ آئی وی/ایڈز کے بارے میں کے پی حکومت کے آگاہی پروگرام کا ایک حصہ ہے۔ [اشفاق یوسفزئی]

پشاور -- خیبرپختونخوا (کے پی) حکومت کے افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کا مفت علاج کرنے کے فیصلے نے ان لوگوں کو ایک نئی زندگی دی ہے جن کے پاس ان کے وطن میں علاج کا اختیار مفتود تھا۔

کابل کے ایک 35 سالہ مکین، جانباز نور زئی نے کہا، "یہ ایک بہت بڑی مدد اور ہماری زندگیوں میں ایک بہتر ہے اور ہمیں پشاور میں مفت جانچ اور علاج کی سہولت مہیا کرنے پر ہمیں حکومتِ پاکستان کا شکرگزار ہونا چاہیئے۔"

جانباز، جو متحدہ عرب امارات میں بطور ایک بس ڈرائیور ملازمت کرتے رہے ہیں، نے کہا کہ انہیں جون 2016 میں ایچ آئی وی کی جانچ مثبت آنے کی وجہ سے ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد سے، وہ علاج کے مواقع کے بغیر ہی کابل میں مقیم رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "میں زیادہ وقت بیمار ہی رہا ہوں۔ ایچ آئی وی کی وجہ سے، میں کم جسمانی قوتِ مدافعت کے سبب دیگر بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہوں۔"

جانباز کو 3 فروری کو پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) میں اینٹی ریٹرو وائرل تھیراپی (اے آر ٹی) مرکز میں داخل کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ علاج ان کی صحت میں لگ بھگ ایک مکمل تبدیلی لایا ہے، کیونکہ وہ اب مزید موقع بہ موقع ہونے والی بیماریوں کی زد میں نہیں ہیں۔

ایچ آئی وی کے مریضوں کے لیے ایک نعمت

پشاور میں اے آر ٹی مرکز پر ایک معالج، ڈاکٹر توحید شاہ نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایچ آئی وی کے افغان مریضوں کو مفت خدمات فراہم کرنے کے کے پی حکومت کے فیصلے کا مقامی باشندوں کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ماضی میں ہم افغان مریضوں کو انکار کر دیتے تھے، لیکن تین ماہ قبل، حکومت نے افغانستان اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے مریضوں کے مفت علاج کی اجازت دی تھی۔"

انہوں نے کہا کہ اس وقت افغانستان سے تعلق رکھنے والے 26 مریض، بشمول تین خواتین اور ایک بچہ، زیرِ علاج ہیں۔

پشاور میں اے آر ٹی مرکز پاکستان میں ان 16 ایسے مراکز میں سے ایک ہے، جو ایچ آئی وی کے مریضوں کی بیماری کی علامات کے علاج کے لیے سنہ 2008 میں قائم کیے گئے تھے۔

اینٹی ریٹرو وائرل تھیراپی میں ایسے علاجوں کا ایک مرکب شامل ہے جن کا مقصد ایچ آئی وی وائرس کو ختم کرنا، ایچ آئی وی بیماری کو بڑھنے سے روکنا اور ایچ آئی وی کے آگے انتشار سے بچانا ہے۔

توحید نے کہا، "اوسطاً، ہم ایک مریض کے علاج پر تقریباً 5،000 امریکی ڈالر خرچ کرتے ہیں۔"

صوبہ خوست سے تعلق رکھنے والی، 42 سالہ معصومہ بی بی نے کہا کہ جنوری 2016 میں ان کے شوہر کا ایچ آئی وی/ایڈز سے انتقال ہو گیا تھا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اسے متحدہ عرب امارات سے ایڈز کی جانچ مثبت ہونے کی وجہ سے ملک بدر کر دیا گیا تھا لیکن اس نے ہمیں اس بیماری کے بارے میں نہیں بتایا اور ہمیں بیماری کے آخری مرحلے پر اس کا علم ہوا۔"

انہوں نے کہا، "اس کے انتقال کے بعد، میں اپنے پیٹ میں درد کا علاج کروانے پشاور آ گئی اور میرے ٹیسٹ نے یہ بھی ظاہر کیا کہ مجھ میں مثبت ایچ آئی وی ہے۔"

انہوں نے کہا، "گزشتہ تین ماہ سے، میرا ایچ ایم سی میں مفت علاج ہو رہا ہے۔ علاج سے قبل، مجھ پر ایک بیماری حملہ آور ہوئی تھی۔ اب مجھے کمزوری محسوس نہیں ہوتی۔"

ایچ آئی وی کے علاج، تعلیم میں تعاون

افغان وزیر برائے عوامی صحت فیروزالدین فیروز نے کہا کہ وہ اپنے ملک سے مریض لینے کے پاکستان کے "انسانی ہمدردی کے اقدام" کو سراہتے ہیں۔

ایک فون انٹرویو میں انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "افغانستان میں صحت مراکز کی شدید قلت ہے۔ طالبان نے محض لوگوں کو نقصان پہنچانے اور صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کو روکنے کے لیے ہسپتالوں کو نقصان پہنچایا ہے۔"

فیروز نے کہا کہ ایچ آئی وی سے آگاہی اور علاج کے لیے ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کو تربیت دینے کے لیے ایچ ایم سی کے ماہرین مستقبل قریب میں افغانستان کا دورہ کریں گے۔

انہوں نے کہا، "کابل میں ایک اے آر ٹی مرکز کا قیام بھی اس تعاون کا حصہ ہے۔ "مرکز" متاثرہ لوگوں کو جانچ، علاج اور مشاورت کی خدمات فراہم کرے گا۔"

فیروز نے کہا کہ ان کی وزارت نے یہ درخواست بھی کی ہے کہ حکومتِ پاکستان افغانستان کے لیے ایک وکالتی اور آگاہی کا پروگرام بھی تیار کرے۔

انہوں نے کہا، "زیادہ تر لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ ایچ آئی وی/ایڈز اپنے شریکِ حیات کے علاوہ کسی دوسرے فرد کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے کی وجہ سے ہوتی ہے، اور اس لیے متاثرہ افراد کو گناہ گار تصور کیا جاتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ یہ جاننے کے باوجود کہ ان میں ایچ آئی وی مثبت ہے، بہت سے لوگ سماجی پابندیوں کی وجہ سے اپنی کیفیت آشکار نہیں کرتے۔ "ہمیں متعدی ایجنٹوں اور انسداد کے بارے میں عوامی آگاہی کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہمیں لوگوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس کا انتشار ایک ہی طرح ہوتا ہے"، انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ہی بیماریاں خون اور جسمانی مائعات کے رابطے کے ذریعے پھیلتی ہیں، جن میں سرنجوں اور دندان سازی کے آلات کا دوبارہ استعمال اور غیر محفوظ مباشرت شامل ہیں۔

فیروز نے کہا، "ہمیں ایچ آئی وی کے مریضوں کے لیے خدمات کی شدید ضرورت ہے۔ ہم ایک پروگرام شروع کرنے کے منتظر ہیں، پہلے مرحلے میں چھان بین کی سہولیات اور دوسرے مرحلے میں علاج کو یقینی بناتے ہوئے۔"

پاکستان میں ایچ آئی وی

حالیہ ترین یو این ایڈز سروے کے مطابق، پاکستان میں ایچ آئی وی کے تقریباً 100،000 مریض ہیں، لیکن صرف 6،500 کے قریب لوگوں کا علاج ہو رہا ہے۔

قومی ایڈز کنٹرول پروگرام (این اے سی پی) اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے تازہ اعدادوشمار جمع کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ تخمینہ لگایا جائے اور ان کے علاج میں تیزی لائی جائے۔ حالیہ ترین تحقیقات کے نتائج آئندہ ہفتوں میں جاری ہونا متوقع ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، کے پی میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد کا تخمینہ 16،000 ہے، لیکن بہت کم کا علاج ہو رہا ہے۔

کے پی ایڈز کنٹرول پروگرام مینیجر ڈاکٹر ایوب روز نے کہا کہ این اے سی پی نے اگلے دو برسوں میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ 2،727 مریضوں، بشمول 900 خواتین اور 12 بچوں کے علاج کے لیے 3.5 ملین امریکی ڈالر کا بجٹ مختص کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں تقریباً 358 تشخیص شدہ مریض ہیں جن میں سے 201 کا علاج ہوا ہے۔

ایوب نے کہا کہ کے پی، فاٹا اور افغانستان سے تقریباً 1،600 مریضوں کا ایچ ایم سی پشاور اور کوہاٹ میں اے آر ٹی مراکز میں علاج ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فارماسوٹیکل مداخلت کے علاوہ، مریض اور ان کے خاندانوں کو مشاورت بھی فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پروگرام کا مقصد بیماری کے ساتھ منسلک بے عزتی کے خاتمے پر توجہ دینا اور اس کی زد میں آئے لوگوں کو مفت جانچ کروانے کی ترغیب دینا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ پشاور، بنوں، مردان، ڈیرہ اسماعیل خان، ایبٹ آباد اور بٹ خیلہ میں بھی نئے اے آر ٹی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں افغان مہاجرین مفت خدمات وصول کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "ایسے افغان جو پاکستان میں مہاجر ہیں نیز وہ جو اپنے ملک سے آ رہے ہیں پشاور اور کوہاٹ میں مفت خدمات وصول کر سکتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج