|

سلامتی

خیبر پختونخوا میں قبائلی علاقوں سے ملحقہ دیہات میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی

پولیس کا کہنا ہے کہ پشاور کے دیہی علاقوں میں انتظامی تشکیلِ نو، پولیس کے اضافی گشت اور جدید اسلحہ کی وجہ سے سیکیورٹی میں بہتری آئی ہے۔

جاوید خان


25 نومبر کو اعلیٰ پولیس عہدیداران مہمند ایجنسی، فاٹا کے قریبی علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات کا معائنہ کر رہے ہیں۔ [جاوید خان]

25 نومبر کو اعلیٰ پولیس عہدیداران مہمند ایجنسی، فاٹا کے قریبی علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات کا معائنہ کر رہے ہیں۔ [جاوید خان]

پشاور — پولیس کا کہنا ہے کہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) سے ملحقہ دیہات میں اضافی سیکیورٹی اقدامات کے نتیجہ میں پشاور اور خیبر پختونخوا (کے پی) کے اضلاع میں امنِ عامہ میں بہتری آئی ہے۔

کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور محمّد طاہر نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ہم نے فاٹا کے قریبی علاقوں میں سیکیورٹی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے سربند، متانی، باڈابیر، ماتھرا، ریگی اور فاٹا سے قریب دیگر علاقوں میں پولیس چوکیوں کو اضافی پولیس اہلکاروں اور جدید اسلحہ کے ساتھ مستحکم کیا گیا ہے۔

طاہر نے کہا کہ وہ صدرمقام میں تمام پولیس تھانوں اور چوکیوں، بطورِ خاص قبائلی علاقہ کے قریب واقع، کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ اس امر کا تعین کیا جا سکے کہ آیا سیکیورٹی میں کوئی کوتاہی ہے، اور اگر ہو تو ان کے خاتمہ کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا، ”تازہ ترین خدشات کے نتیجہ میں تلاش اور حملہ کے بڑھتے ہوئے آپریشنز کے علاوہ، سپرنٹنڈنٹس (ایس پیز) اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس پولیس (ڈی ایس پیز) کو باہر نکلنے اور اپنے علاقوں میں سیکیورٹی کا جائزہ لینے کی ہدایات دی گئی ہیں۔“

ہوائی اڈّوں کے قریب سیکیورٹی میں اضافہ

پشاور کے دیہی قصبوں میں سیکیورٹی میں بہتری کے لیے دیگر اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس آپریشنز ساجد خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”باچا خان بین الاقوامی ہوائی اڈہ کے فنل ایریا میں اس تنصیب اور ہوائی جہازوں کی لینڈنگ کو محفوظ بنانے کے لیے کم از کم آٹھ پہرہ برجیاں تعمیر کی جائیں گی۔“

انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈے کا فنل ایریا، یا ہوائی جہازوں کی پرواز کا راستہ، خیبر ایجنسی کے قریبی دیہات سے شروع ہوتا ہے۔ ”ہوائی اڈے اور تمام شہر کی سلامتی کے لیے فنل ایریا اور قریبی دیہات میں میں ایک خصوصی فورس بھی تعینات کی گئی ہے۔“

جون 2014 میں مسلح افراد نے باچا خان بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے والے ایک طیارے پر گولیاں چلائیں جس سے ایک مسافر اور دو دیگر افراد جاںبحق ہو گئے۔ مسلح افراد نے ستمبر 2014 میں دوبارہ اسی ہوائی اڈے پر اترتے ہوئے ایک طیارے پر گولیاں چلانے کی کوشش کی، جس سے ایک سیکیورٹی کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا۔

خان نے کہا، ”دو سانحات کے بعد باشندوں کے اعدادوشمار جمع کرنے کے لیے جنوبی پشاور، بالخصوص ماشوخیل، شیخ محمّدی، باڈابیر اور بازیخیل میں تمام دیہاتیوں اور گھروں کا اندراج کیا گیا۔“

ان میں سے اکثر دیہات خیبر ایجنسی اور درّہ آدم خیل کے ساتھ سرحد پر واقع ہیں۔

انتظامی تشکیلِ نو

پولیس نے، بالخصوص قبائلی علاقوں کے ساتھ ملنے والے دیہی علاقوں میں، امنِ عامہ کو بہتر بنانے کے لیے انتظامی اقدامات بھی کیے ہیں۔

قبل ازاں پشاور کو تین پولیس ڈویژنز میں تقسیم کیا گیا تھا – چھاؤنی، شہری اور دیہی۔ نومبر میں پولیس حکام نے ایک نئی ڈویژن اور سب ڈویژن تشکیل دی۔

انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درّانی نے پاکستان فاورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”دیہی ڈویژن کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان میں سے نئی کو صدر ڈویژن کا نام دیا گیا ہے اور اس کی سربراہی ایک ایس پی کر رہے ہیں۔“

ایک ڈی ایس پی کی سربراہی میں ایک نئی صدر سب ڈویژن بھی تشکیل دی گئی ہے تاکہ باڈابیر، متانی اور سربند کے علاقوں میں نگرانی کو بہتر بنایا جا سکے، جن تمام کی سرحد خیبر ایجنسی اور درّہ آدم خیل کے ساتھ ملتی ہے۔

مزید برآں، باڈابیر تھانہ کو بھی دو میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جو ان علاقوں سے نمٹتا ہے جہاں گزشتہ برسوں میں دہشتگردی کے سب سے زیادہ سانحات رونما ہوئے ہیں۔

سی سی پی او طاہر نے کہا، ”ان میں سے ایک باڈابیر تھانہ کہلاتا ہے جبکہ کہ نیا انقلاب تھانہ کہلائے گا۔“

معمول پر واپسی

فاٹا کی حدود سے متصل گاؤں کے عمائدین کہتے ہیں کہ وہ نئے سیکورٹی اقدامات سے مطمئن ہیں۔

بڈا بیر کے ایک بزرگ منیر خان نے بتایا، ایک وقت وہ تھا جب ہم میں سے بہت سے پشاور کے دوسرے علاقوں میں منتقل ہوگئے تھے جبکہ باقی لوگ تقریباً ہر روز راکٹ حملوں، دھماکوں یا اغوا کے خوف میں مبتلا رہتے تھے۔

انہوں نے بتایا، بہتر سیکورٹی ان علاقوں کی صورتحال معمول پر لے آئی ہے اور لوگ اب تحفظ کے احساس کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اب آپ کو ان گاؤوں میں مسلح جتھے گھومتے، لوگوں کو اغوا کرتے اور دھمکیاں دیتے دکھائی نہیں دیں گے نا ملحق فاٹا سے راکٹ فائر کیے جارہے ہیں، جس سے بہتر سیکورٹی کا ثبوت ملتا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

2 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
A K H TANHA | 03-16-2017

Salute to all police force

جواب
M u rehman | 02-16-2017

مجھے فخر ہے کہ میرے صوبے میں ایک بین الاقوامی معیار کی پولیس فورس ہے اور مجھے یقین ہے کہ حکومتِ کے پی کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مزید فنڈ فراہم کرے گی۔ \n

جواب

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج