|

سلامتی

کثیر ملکی بحری مشقوں کا مقصد پاکستانی کی سمندری سیکورٹی کو مضبوط کرنا ہے

پاکستان کثیر ملکی بحری مشقوں کی میزبانی کر رہا ہے جس میں 10 سے 14 فروری تک 36 غیر ممالک کی بحری افواج شرکت کر رہی ہیں۔

جاوید محمود


پاکستانی بحریہ کے اہلکار 10 فروری کو کراچی میں، کثیر ملکی ایمان -17 مشقوں کے دوران پرچم کشائی کی ایک تقریب کے دوران مارچ کر رہے ہیں۔ ]رضوان تبسم/ اے ایف پی[

پاکستانی بحریہ کے اہلکار 10 فروری کو کراچی میں، کثیر ملکی ایمان -17 مشقوں کے دوران پرچم کشائی کی ایک تقریب کے دوران مارچ کر رہے ہیں۔ ]رضوان تبسم/ اے ایف پی[

کراچی - حکام نے کہا کہ کثیر ملکی بحری مشقیں ایمان 2017 کا مقصد سمندری سیکورٹی کو مزید مضبوط کرنا اور دہشت گردی، بحری قزاقی اور اسمگلنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے صلاحیتوں کی تعمیر کرنا ہے۔

پاکستانی بحریہ کے لیے تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر کمانڈر عبدل رحمان نے کہا کہ "37 ممالک سے تعلق رکھنے والے بحریہ کے افسران، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، ان بڑی مشقوں میں شرکت کر رہے ہیں تاکہ علاقے میں امن کو فروغ دیا جا سکے، بحری قزاقی کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اور دہشت گردی اور اسمگلنگ کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی ان کی اہلیت کو بہتر بنایا جا سکے"۔

ایمان 17 دس فروری سے چودہ فروری تک منعقد ہو رہی ہے۔ یہ 2007 سے کراچی میں منعقد ہونے والی پانچویں کثیر ملکی بحری مشقیں ہیں۔

رحیم نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پاکستان علاقے میں امن اور استحکام چاہتا ہے اور ہم نے 36 دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے بحری افسران کو شامل کر کے اس پیغام کو ساری دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ایمان 17میں غیر ممالک کی بحریہ کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی برادری پاکستان کی طرف سے سمندری سیکورٹی کی حفاظت کے لیے کی جانے والی کوششوں اور دہشت گردی، انسانوں کی اسمگلنگ اور سمندر کے راستے منشیات کی اسمگلنگ جیسے دوسرے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت پر اعتماد کرتی ہے۔

سمندری سیکورٹی کی مشقیں

ایمان 17 مشقیں دو مراحل میں منقسم ہیں، بندرگاہ اور سمندر۔

بندرہ گاہ کے مرحلے میں 10 فروری کو مشقوں کے آغاز کے موقع پر تمام شریک ممالک کے جھنڈوں کو لہرانا شامل تھا۔

اس مرحلے میں، تمام ممالک سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے ایک دوسرے کے جہازوں کا دورہ کیا اور پاکستانی حکام نے سینئر غیر ملکی بحری افسران سے ملاقاتیں کی۔ علاوہ ازیں، کھیلوں کی تقریبات، ثقافتی شو، بینڈ کے مظاہرے، بین الاقوامی سمندری انسدادِ دہشت گردی کے مظاہرے اور سمندری کانفرنس ہوئی جس میں بحری ماہرین نے اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔

سمندری مرحلے میں جنگی جہازوں، ہیلی کاپٹروں اور دوسرے جنگی جہازوں کی مشقیں شامل ہیں جب کہ خصوصی آپریشنز فورسز نے سمندر پر بنیاد رکھنے والی دوسری بہت سے سرگرمیوں میں حصہ لیا جیسے کہ توپ خانے کی فائرنگ، راکٹ کی گہرائی کی چارج فائرنگ، بحری قزاقی کے انسداد کے مظاہرے، سمندر میں ذخیرہ کاری اور فلائی پاسٹ شامل ہیں۔

ان مشقوں کے دوران، بحری اور سیکورٹی کے حکام نے ایک دوسرے سے بحری قزاقی، دہشت گردی اور سمندری سیکورٹی کو بہتر بنانے کے نئے طریقوں کو سیکھا۔

ایمان 17 کا اختتام شریک جہازوں کے بین الاقوامی بیڑے کے جائزے کے بعد 14 فروری کو ہو گا۔

باہمی تعاون امن کی کنجی ہے

پاکستان کے سیکورٹی کے تجزیہ کار کرنل (ریٹائرڈ) مختار احمد بٹ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "بین الاقوامی بحریات کی ایمان 17 مشقوں، جنہیں پاکستانی بحریہ نے کراچی میں منعقد کیا، میں شرکت نے بحری سیکورٹی کو فول پروف بنانے اور دہشت گردی اور اسمگلنگ جیسے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے عالمی عزم کا اظہار ہوتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ایمان 17 مشقیں پاکستان اور دیگر شریک ممالک کو اپنی سیکورٹی کو منظم کرنے کی صلاحیتوں کی تعمیر اور انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے قابل بنا دیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان اور بین الاقوامی برادری کو اپنے باہمی تعاون اور دنیا کو پرامن، محفوظ اور دہشت گردی سے پاک رکھنے کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھنا چاہیے"۔

سیکورٹی کے تجزیہ نگار اور کراچی میں ڈیلی پاکستان کے مقامی مدیر مبشر میر نے کہا کہ القاعدہ نے بحری اور مال برادری کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے مگر سخت سمندری سیکورٹی نے ابھی تک دہشت گردوں کے منصوبوں کو ناکام بنایا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "چھہ ستمبر 2014 کو القاعدہ سے تعلق رکھنے والے کچھ عسکریت پسندوں نے پاکستانی بحریہ کے جنگی جہاز پی این ایس ذوالفقار کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی جس پر بلاسٹک میزائل اور دیگر ہلاکت خیز ہتھیار نصب تھے مگر بحری سیکورٹی کے حکام نے دہشت گردی کے اس بڑے منصوبے کو ناکام بنا دیا"۔

انہوں نے کہا کہ "بین الاقوامی برادری کے تعاون سے بحری سیکورٹی کو مضبوط بنانا، بحری قزاقی کی حوصلہ شکنی اور دہشت گردی اور اسمگلنگ کے چیلنجوں کو شکست دینے کے لیے بہت ضروری ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج