|

سلامتی

انسدادِ دہشتگردی آپریشن کی وجہ سے بلوچستان میں عسکریت پسند کمزور

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشتگرد نیٹ ورکس کو غیرمستحکم کر رہی ہیں اور صوبہ میں امن لا رہی ہیں۔

عبدالغنی کاکڑ


20 جنوری کو فرنٹیئر کور (ایف سی) کا ایک افسر ضلع کوہلو، بلوچستان میں عسکریت پسندوں سے ضبط کیے گئے اسلحہ اور ہتھیاروں کا معائنہ کر رہا ہے۔ [عبد الغنی کاکڑ]

20 جنوری کو فرنٹیئر کور (ایف سی) کا ایک افسر ضلع کوہلو، بلوچستان میں عسکریت پسندوں سے ضبط کیے گئے اسلحہ اور ہتھیاروں کا معائنہ کر رہا ہے۔ [عبد الغنی کاکڑ]

کوئٹہ — حکام کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشتگردی اور انٹیلی جنس پر مبنی مسلسل آپریشنوں نے بلوچستان میں عسکریت پسندوں کی کاروائی کی استعداد کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔

صوبائی وزیر برائے داخلی و قبائلی امور، میر سرفراز بگٹی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”عسکریت پسند گروہ طویل عرصہ سے بلوچستان کو بدامنی اور عدم استحکام کی حالت میں رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”وفاقی اور صوبائی حکومتیں صوبہ میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں اور سیکیورٹی فورسز نے صوبہ کے تمام شورش زدہ علاقوں میں عسکریت پسند گروہوں کی کمین گاہیں تباہ کر دی ہیں۔“

انہوں نے کہا،”سیکیورٹی فورس کے جاری آپریشن میں چوٹی کے کمانڈروں، ٹارگٹ کلرز اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کے ماہرین میں سے زیادہ تر گرفتار ہو چکے ہیں یا مارے جا چکے ہیں۔ اب امن مخالف عناصر غیرملکی امداد پر منحصر ہیں، اور ہماری افواج ان کے حامی نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”ریاست نفاذِ قانون کی ایجنسیوں کے مابین تبادلۂ معلومات اور دہشتگردی میں ملوث تمام عسکریت پسندوں کو گرفتار کرنے کے لیے ایک مؤثر میکانزم تشکیل دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔“

گزشتہ ہفتے میں 81 عسکریت پسند گرفتار

بلوچستان میں انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ترجمان برگیڈیئر ندیم احمد نے کہا کہ فرٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان صوبہ بھر میں بڑے پیمانے کا انٹیلی جنس پر مبنی انسدادِ دہشتگردی کا آپریشن کر رہی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”گزشتہ ہفتہ کے دوران 81 عسکریت پسند گرفتار ہوئے اور عسکریت پسندوں کی کمین گاہوں سے اسلحہ اور گولہ بارود کا ایک بڑا ذخیرہ بازیاب کیا گیا۔“

انہوں نے کہا کہ ایف سی نے ”کوئٹہ، سبّی، دلبدین اور ملحقہ علاقوں سمیت 32 ایسے علاقوں میں انٹیلی جنس پر مبنی ٹارگٹڈ آپریشنز کیے جہاں سے عسکریت پسند گروہ صوبے میں کاروائیاں کرتے ہیں اور جہاں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ ریپبلکن آرمی سے ملحقہ عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد کو رکھا گیا تھا۔“

آئی ایس پی آر کے بلوچستان کے ترجمان کے مطابق، ایف سی بلوچستان کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل ندیم احمد انجم بذاتِ خود صوبے میں انسدادِ دہشتگردی کے اس آپریشن کی قیادت کر رہے ہیں۔

احمد نے کہا، ”ایف سی افواج بلوچستان میں دیرپا امن کے مقصد کی جانب اپنی کاوشیں جاری رکھیں گی۔“

شدت پسندی، ترقی کی راہ میں رکاوٹ

صوبائی وزیرِ تعلیم عبدالرّحیم زیارتوال نے کہا کہ دہشتگردی کی آفت بلوچستان کی ترقی میں بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”انسدادِ شورش آپریشنز میں ایک بڑا دھچکا لگنے کے بعد، اب عسکریت پسندوں نے ریاست کے خلاف پراپیگنڈا پھیلانا شروع کر دیا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ عسکریت پسند نفاذِ قانون کی ایجنسیوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ معصوم جانیں لینے میں سیکیورٹی ایجینسیاں ملوث تھیں۔

انہوں نے کہا، ”حکومتِ بلوچستان نے عسکریت پسندی کے مسئلہ سے نمٹنے کی اپنی پالیسی کو بدل دیا ہے اور [۔۔۔] اب وہ نچلی سطح پر [انسدادِ] عسکریت پسندی پر توجہ دے رہی ہے۔“

انہوں نے کہا، ”ہو سکتا ہے کہ بلوچستان میں کام کرنے والے عسکریت پسند گروہوں کے نظریات مختلف ہوں، لیکن اپنے عزائم کو حاصل کرنے کے لیے ان کے تشدد کے مقاصد ایک ہیں۔ لہٰذا حکومت عوام میں عسکریت پسندوں کے رسوخ کو کچلنے کے لیے کام کر رہی ہے۔“

انہوں نے جنوری 2015 سے نافذالعمل انسدادِ دہشتگردی کی حکمتِ عملی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”عسکریت پسندوں کے طرزِ فکر کا مقابلہ قومی ایکشن پلان کی اولین ترجیح ہے اور [اس ضمن میں کیے گئے] اقدامات مثبت نتائج کے حامل ثابت ہو رہے ہیں۔ شدت پسندی ریاست کے وجود کے لیے ایک خطرہ بن چکی ہے۔“

قانونی حیثیت کے لئے مقابلہ، اراکین

کوئٹہ میں ایلک اعلیٰ انٹیلیجنس افسر محمد اسحاق نے بتایا، "ہمارے پاس اطلاعات ہیں کہ بلوچستان میں کارروائیاں کرنے والے کئی عسکریت پسند گروہوں نے اپنی وفاداریاں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے جوڑ لی ہیں اور صوبے میں اہنا اثرونفوذ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

انہوں نے مالی یا لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والے مقامی اور بین الاقوامی ہمدردوں کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پاکستانی-افغان سرحد پر فعال عسکریت پسند گروہ بھرتی کے لئے مقابلہ کر رہے ہیں اور ان میں زیادہ تر ان عناصر کے مرہون منت ہیں جو ان کو پراکسی وار میں مدد فراہم کررہے ہیں۔"

انہوں نے بتایا، "پاکستان نے، پاکستان-افغانستان کی غیر محفوظ سرحد پر غیر قانونی نقل وحمل روکنے اور سیکورٹی صورتحال کے بہتر انتظام کے لئے بارڈر کنٹرول نظام کے جامع اقدامات کیے ہیں۔"

اسحاق نے بتایا، انٹیلیجنس ایجنسیز بلوچستان میں نفرت انگیز مواد کی تقسیم اور انتہا پسند نظریات پر کڑی نظر رکھ رہی ہیں، جو عسکریت پسندوں کے پاس عام عوام کے درمیان اپنا اثرونفوذ بڑھانے کے لئے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے۔

انہوں نے بتایا، "نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات کے نفاذ کے ذریعے ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم کامیابی حاصل کی ہے، لیکن عسکریت پسند گروہوں کے حمایتی نیٹ ورکس کو تباہ کرنا یہ اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔"

پاکستان کی جنگ نہیں

کوئٹہ میں مقیم سیکورٹی تجزیہ کار محمد ندیم نے بتایا، "عسکریت پسند گرہوں کو رقوم کی ترسیل روکے بغیر بلوچستان میں دیرپا امن کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی اور دیگر انٹیلیجنس اداروں کو بیرونی ممالک سے آنے والی رقوم کے ذرائع کی لازمی نگرانی کرنی چاہیئے۔

دہشت گردی کے خلاف آج جس جنگ سے ہم متاثر ہیں پاکستان کی جنگ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا۔ حکومت کی تبدیلی کے ذریعے یہ جنگ ہم پر دانستہ طور سے تھوپی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا، اپنی امن دشمن سرگرمیوں کو پوشیدہ رکھنے کے لئےعسکریت پسند کافی عرصے سے عام عوام کا استعمال کررہے تھے، لہٰذا انتہاپسندی اور دہشت گردی سے موثر طور پر نمٹنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ عوام کی حمایت حاصل کی جائے۔

سخت سرحدی سیکورٹی لازمی ہے، بتاتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، "تحقیقاتی ادارے دہشت گرد حملوں کا ارتکاب کرنے والوں کا سراغ لگانے اور موقعہ واردات کی جانچ کے لئے فرنزک آلات کا موثر استعمال لازمی کریں۔"

ندیم نے بتایا، "بلوچستان میں کارروائیاں کرنے والے عسکریت پسند گروہ اپنے مطالبات کے حصول کے لئے ریاست پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔"

انہوں نے بتایا، "صوبے میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جاری جنگ میں بہتر نتائج کے لئے صوبائی حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں اور قبائلی سربراہوں کو اعتماد میں لینا چاہیئے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

3 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
M.iqbal | 02-11-2017

اسی طرح کارویاں هوتی رهیں انشاءالله ھمارا بلوچستان صیح هو جاےگا هم آپ کے ساتھ هیں جیے پاکستان زنده باد

جواب
MUHRAMAM DEEN FAROOQI | 02-11-2017

BUHAT ACHI PERFORMNCE SECURETY IDAROON KI LEKN ES BAT PR BHI NAZRSANI OR BAREEK BEENI S DEKHNA HOGA QK IRAN INDIA KA JO GATH JORR H WO AFGANISTAN S MERE PAK MULAK M Y DEHSHAT GRDI KA GND PHELANE MSROOF RAHE HN....QK SHIA NAZRIAT K LOG TAQIA KRKE SUNNI BNKR PAKISTAN M TTP LSHKAR E JHNGVI JSQM JSMM BLA SAMEET MQM MWM ANSAR UL HUSSAIN SMP KO AEK HI WAQT M SAPORT KRTE RAHE HN....JIS KA NATEEJA Y NIKLA K DEHSHT GRDI KI JARREN MAZBOOT HOTI GAIN KCH SIASI PARTIAN BHI INKI SPRTER,S HOTI HN OR SARDARI NIZAM BHI....LEKIN JIS HIMAT OR JURAT K SATH INTLIGEN,S K IDAROON N OR PAK FOUJ K JAWANO PAK FOURCE,S N LA ZAWAL QURBANIAN PESH KRKE WO KAMYABIAN HASIL KI HN K AAJ TAK KOI NA KR SKA....WE SPORT PAK FOURCE,S WE SALAM PAK FOURCE,S WE LIK ONLY PAK FOURCE,S PAKFOUJ ZINDABAD PAKISTAN PAINDABAD

جواب
Tanveer | 02-05-2017

ماشاء اللہ، یہ بہت شاندار ہے. \n

جواب

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج