|

دہشتگردی

افغان طالبان قیادت کے جھگڑوں اور دوسری اندرونی رسہ کشی کا شکار ہیں

مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان اپنے ہی اندرونی جھگڑوں کے گرداب میں پھنس رہے ہیں۔

سلیمان


افغان نیشنل آرمی کے فوجی، 11 دسمبر 2014 کو سنگیسر میں طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے گھر کے ملبے کے پاس۔ طالبان قیادت کے بحران میں الجھے ہوئے ہیں۔ ]اے ایف پی/ روبرٹو شمٹ[

افغان نیشنل آرمی کے فوجی، 11 دسمبر 2014 کو سنگیسر میں طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے گھر کے ملبے کے پاس۔ طالبان قیادت کے بحران میں الجھے ہوئے ہیں۔ ]اے ایف پی/ روبرٹو شمٹ[

کابل - افغان طالبان کی مرکزی قیادت میں اختلافات میں شدت آ گئی ہے جس سے اس گروہ کے منتشر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ بات صورت حال سے گہری آگاہی رکھنے والے ذرائع نے سلام ٹائمز کو بتائی۔

ذرائع کے مطابق، ان بڑھتے ہوئے اختلافات نے طالبان کی مرکزی قیادت کو تین دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے: ایک گروہ جس کی قیادت ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ جو کہ افغان طالبان اور اس کی اہم قیادت کونسل جو کہ کوئٹہ شوری کے نام سے جانی جاتی ہے کے راہنما ہیں، کر رہے ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جس کی قیادت ملا محمد یعقوب کر رہے ہیں جو کہ طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے سب سے بڑے بیٹے اور کوئٹہ شوری کے ایک رکن ہیں۔ تیسرے گروہ کی سربراہی سراج الدین حقانی کر رہے ہیں جو کہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ ہیں۔

افغان وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان جنرل محمد ردمانیش نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "کوئٹہ شوری ٹوٹنے کے قریب ہے اور اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کے نمایاں ارکان میں سے بہت سے پہلے ہی اسے چھوڑ چکے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "اندرونی جھگڑوں اور لڑائی سے طالبان کو سیاسی، مالی اور فوجی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے نتیجہ میں، انہوں نے 2016 کے لیے جتنے بڑے منصوبے بنائے تھے وہ ناکام ہو گئے ہیں"۔

ردمنیش نے کہا کہ طالبان کی طرف سے گزشتہ سال آٹھ صوبوں اور 60 ڈسٹرکٹس پر قبضہ کرنے کا خواب چکنا چور ہو گیا۔

میدانِ جنگ میں طالبان کی شکست

کابل سے تعلق رکھنے والے عسکری معاملات کے مشیر ظلمی واردک نے کہا کہ 2016 میں، طالبان نے اعلان کیا کہ وہ آپریشن عمری کا آغاز کر رہے ہیں جو افغان ڈیفنس و سیکورٹی افواج (اے این ڈی ایس ایف) کے خلاف ان کی موسمِ بہار کی مہم تھی۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "تاہم، طالبان میدانِ جنگ میں صاف طور پر کمزور اور منقسم نظر آ رہے تھے۔ اس کے نتیجہ میں، طالبان کا یہ بڑا آپریشن ناکام ہو گیا"۔

واردک نے کہا کہ علاوہ ازیں، ملا عمر کی دیر سے خبر دی جانے والی ہلاکت کے بعد ہونے والی اندرونی کشمکش نے میدانِ جنگ میں گروہ کی شکست میں کردار ادا کیا۔ طالبان عمر کی ہلاکت کی خبر کو دو سال تک بتانے میں ناکام رہے جو کہ اپریل 2013 میں ہوئی تھی۔

واردک نے کہا کہ "اندرونی جھگڑوں نے طالبان کے ارکان میں فراہ اور ہرات صوبوں اور اس کے ساتھ ہی ژابل صوبہ کی شینکے اور میزان ڈسٹرکٹس میں خونی جھڑپوں کو جنم دیا جس میں طالبان کی بڑی تعداد ہلاک ہو گئی"۔

انہوں نے کہا کہ "ان اختلافات اور تنازعات کے نتیجہ میں، ایک گروہ جس کی قیادت ملا رسول کر رہے تھے، طالبان کی صفوں سے الگ ہو گیا اور اس نے باقی گروہ کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا"۔

کہا جاتا ہے کہ ملا محمد رسول کے ملا عمر سے ان کی وفات سے پہلے گہرے تعلقات تھے مگر 2015 میں محمد رسول طالبان کے مرکزی گروہ سے الگ ہو گئے اور انہوں نے اپنی تحریک بنا لی جو کہ "اعلی کونسل برائے افغانستان امارت اسلامیہ" کہلاتی ہے۔

رسول کے پیروکاروں نے سابقہ طالبان راہنما ملا اختر منصور، جو کہ 2016 میں پاکستان میں ہلاک ہو گئے، کی ترقی سے اختلاف کیا۔ گروہ نے "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) اور القاعدہ کے لیے حمایت کا اظہار کیا اور اس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ ایران کا موکل ہے۔

ملا ہیبت اللہ کی بے دخلی کا مطالبہ

طالبان کے دھڑوں میں بڑھتے ہوئے اختلافات کا مزید ثبوت طالبان کے چیف جسٹس مولوی عبدل حکیم منیب کے ایک خط سے ملتا ہے۔ انہوں نے یکم نومبر کو پشتو زبان میں لکھے جانے والے خط میں طالبان کے عسکریت پسندوں سے خطاب کیا ہے۔

طالبان کے اندر اختلافات نے تحریک کے حوصلے اور بیرونی ساکھ کو مٹا دیا ہے۔ منیب نے یہ بات اس خط میں کہی جسے سلام ٹائمز نے دیکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمزور قیادت اور لڑائی کے باعث حامیوں نے طالبان کی مدد روک دی ہے۔

منیب نے کہا کہ ملا ہیبت اللہ کی نااہلی نے بہت سے مسائل کو جنم دیا ہے اور اسے برخاست کر دیا جانا چاہیے۔

منیب نے لکھا کہ "ملا محمد عمر اور ملا اختر منصور کے زمانے میں امارتِ اسلامیہ کو جو قوت اور اتحاد حاصل تھا اسے بحال کرنے کے لیے ہمیں متحد ہو کر قدم آگے بڑھانا چاہیے اور ایسی قیادت قائم کرنی چاہیے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو"۔

گہرے ہوتے اختلافات، اقتدار کی کشمکش

قندھار سے تعلق رکھنے والے ایک سیاسی تجزیہ نگار محمود فرزان نے کہا کہ صاف طور پر، طالبان کے درمیان موجود اختلافات بہت گہرے ہیں۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "جب ہیبت اللہ طالبان کے نئے راہنما بنے تھے تو گروہ کو امید تھی کہ اس سے اختلافات ختم ہو جائیں گے۔ تاہم ہیبت اللہ ایک مذہبی عالم ہیں اور انہیں سیاسیت یا عسکریت پسندی کے معاملات کے بارے میں بالکل بھی علم نہیں ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "اس کا نتیجہ طالبان کی قیادت کی صفوں میں اس سے بھی گہری تقسیم کی صورت میں نکلا۔ اس کے نتیجہ میں پشاور شوری اور حقانی نیٹ ورک نے ملا ہیبت اللہ پر اعتماد کھو دیا"۔

فرزان نے کوئٹہ اور پشاور شوری کی قبائلی بناوٹ میں اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین النسلی اختلافات طالبان تحریک کے تباہ ہونے کی ایک اور وجہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "پشاور شوری حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مل کر سازش کر رہی ہے تاکہ کوئٹہ شوری سے قیادت کو چھین لے۔ کوئٹہ شوری، طالبان میں اپنے قیادت کے مقام سے دستبردار ہونے کے لیے کبھی تیار نہیں ہو گی"۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "ایسے اختلافات آخرکار طالبان کی امارتِ اسلامیہ کو تباہ کر دیں گے"۔

افغانستان کی وزارتِ داخلہ کے نائب ترجمان نجیب دانش نے کہا کہ "ملا عمر اور ملا اختر منصور کی وفات کے بعد طالبان کو شدید اندرونی اختلافات کا سامنا کرنا پڑا"۔

انہوں نے "ژابل، ارزگان، بدغیس، ہرات اور فریاب صوبوں میں طالبان کے مختلف گروہوں میں ہلاکت خیز اندرونی لڑائی" کا حوالہ دیتے ہوئے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "یہ اختلافات ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ مزید بڑے اور گہرے ہوتے جا رہے ہیں"۔

'طالبان کا اختتام قریب ہے'

افغان پارلیمنٹ کے ایک رکن ظاہر سعادت نے کہا کہ طالبان کی اندرونی کشمکش کا ایک بڑا پہلو یہ ہے کہ ہیبت اللہ "بہت زیادہ طاقتور" نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہی وجہ ہے کہ ملا یعقوب طالبان کی قیادت پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سعادت نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "دوسری طرف سراج الدین حقانی اپنے آپ کو طالبان میں سے سے زیادہ طاقتور شخصیت سمجھتے ہیں حالانکہ وہ گروہ کے ڈپٹی لیڈر ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ سارے اختلافات طالبان کی "امارتِ اسلامیہ" کے اپنے اندرونی اختلافات کے گرداب میں گرنے کی وجہ بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کی اندرونی لڑائی سے افغان حکومت اور لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور حکومت کو طالبان کو دبانے کے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

دانش نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ "طالبان میں تقسیم اور اختلافات اے این ڈی ایس ایف کے فائدے میں ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "افغانستان کے لوگوں کو اعتماد ہونا چاہیے کہ طالبان کا اختتام قریب ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 22

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج